نااہل کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں

سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں نواز شریف نے کہا کہ ‘ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں، جس کا مقصد اس نااہل و کرپٹ حکومت اور سلیکٹرز کو پی ڈی ایم سے سے این آر او دلوانا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہماری جدوجہد عوامی مشکلات کے حل اور ووٹ کو عزت دو کے لیے ہے جبکہ ایسے کسی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہوگا’۔
ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔جسکا مقصد اس نا اہل کرپٹ حکومت اور سلیکٹرز کو PDM سے NRO دلوانا ہے۔ہماری جدوجہد عوامی مشکلات کے حل اور ووٹ کو عزت دو کیلئے ہے۔ایسے کسی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہو گا
— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) December 25, 2020
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اپنی ہر ناکامی کا ملبہ فوج کے سر تھوپنے والا عمران خان پی ڈی ایم کو نشانہ بنا رہا، اس پی ڈی ایم کو نشانہ بنا رہا جو اُن جرنیلوں کا محاسبہ کر رہی ہے، جنہوں نے ووٹ چوری کرکے عوامی مینڈیٹ کو کچلا اور فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ فوج اور ایجنسیوں کے خلاف درجنوں بار ہرزہ سرائی کرنے اور اپنی ہر ناکامی کا ملبہ ایک پیج کی آڑ میں فوج کے سر تھوپنے والا عمران خان اُس پی ڈی ایم کو نشانہ بنا رہا ہے جو اُن جرنیلوں کا محاسبہ کر رہی ہے، جنہوں نے ووٹ چوری کر کے عوامی مینڈیٹ کو کچلا اور فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
فوج اور ایجنسیوں کے خلاف درجنوں بار ہرزہ سرائی کرنے اور اپنی ہر ناکامی کا ملبہ ایک پیج کی آڑ میں فوج کے سر تھوپنے والا عمران خان اُس PDM کو نشانہ بنا رہا ہے جو اُن جرنیلوں کا محاسبہ کر رہی ہے جنہوں نے ووٹ چوری کر کے عوامی مینڈیٹ کو کچلا اور فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) December 26, 2020
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں، اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح کا این آر او نہیں ملے گا اور یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے’۔
پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں۔ اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح کا این آر او نہیں ملے گا۔ یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) December 25, 2020
واضح رہے کہ سیاسی حلقوں میں ان دنوں حکومتی اور پی ڈی ایم رہنماؤں کے درمیان پس پردہ بات چیت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ذرائع کے مطابق جمعرات کو مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما محمد علی درانی نے جیل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں محمد علی درانی نے شہباز شریف کو ڈائیلاگ کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنے کی تجویز دی تھی۔
خیال رہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں کی جانب سے حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے 31 جنوری 2021 تک کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ساتھ ہی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے پی ڈی ایم تقریباً ہر ہفتے ملک کے مختلف شہروں میں عوامی جلسے بھی منعقد کر رہی ہے۔دوسری جانب حکومت ان جلسوں اور اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکی کو این آر او لینے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کسی بھی صورت میں وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا انکار کر چکے ہیں۔
