کیا درانی نے جیل ملاقات میں شہباز کو توڑنے کی کوشش کی؟

محمد علی درانی کی جانب سے مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف سے جیل میں ملاقات کے بعد سے ملکی سیاست میں افواہوں کا ایک طوفان برپا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ نجانے درانی کس کا اور کیا پیغام لے کر شہباز سے جیل میں ملے حالانکہ وہ مریم نواز سے بھی ملاقات کر سکتے تھے اور ان کے ذریعے نواز شریف سے بھی رابطہ کر سکتے تھے۔ محمد علی درانی کی جانب سے مریم کی بجائے شہباز سے جیل میں ملاقات کرنے اور ممکنہ طور پر انہیں توڑنے کی کوشش زیادہ زیر بحث تھی اور اس ملاقات کو معنی خیز قرار دیا جا رہا تھا۔ درانی نے شہباز سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ انہوں نے نواز لیگ کے صدر کو وسیع تر ملکی مفاد میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز پیش کی ہے جس پر شہباز شریف نے مثبت ردعمل دیا ہے۔
تاہم اب پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے ڈائیلاگ کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے اور مذاکرات کی تجویز کو ایک شوشہ قرار دیا ہے۔ نواز شریف کا ایک ٹویٹ میں کہنا ہے کہ عمران خان کو دھاندکے سے اقتدار مییں لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ ‘ووٹ چوری کرنے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں، جس کا مقصد اس نااہل و کرپٹ حکومت اور سلیکٹرز کو پی ڈی ایم سے سے این آر او دلوانا ہے’۔ انہوں نے کہا ‘ہماری جدوجہد عوامی مشکلات کے حل اور ووٹ کو عزت دو کے لیے ہے اور ایسے کسی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہوگا’۔
دوسری طرف مریم نواز شریف نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ مسلم لیگ کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں۔‘ خیال رہے کہ حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما محمد علی درانی نے بظاہر اپنی پارٹی کے سربراہ پیر پگارا کا پیغام لے کر 24 دسمبر کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کی تھی اور انھیں مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔
واضح رہے کہ سیاسی حلقوں میں محمد علی درانی کو ایجنسیوں کا آدمی سمجھا جاتا ہے اس لیے ان کی شہباز شریف سے علیحدہ ملاقات نے نواز لیگ میں بھی اضطراب کیفیت پیدا کر دی تھی۔ چنانچہ کہا جا رہا یے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے ڈائیلاگ کی آفر کو مسترد کرنے کا اقدام دراصل ایسی کسی بھی موو کو ناکام کرنا ہے جو کہ لیگی قیادت سے بالا شہباز شریف کے ساتھ مل کر کیے جانے کا امکان ہو۔
یاد رہے کہ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کا یہی موقف ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کا ڈائیلاگ نہیں کرے گا۔ لہذا شہباز شریف کی جانب سے ایک حکومتی جماعت کے نمائندے سے ملاقات پر راضی ہو جانا معنی خیز تھا۔ مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما محمد علی درانی نے جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے لیگی صدر کو ڈائیلاگ کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنے کی تجویز دی تھی۔ تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بات اس سے کچھ مختلف ہو گی ورنہ اس طرح کا پیغام تو کاغذ پر لکھ کر بھی جیل بھجوایا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے 31 جنوری 2021 تک کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے پی ڈی ایم تقریباً ہر ہفتے ملک کے مختلف شہروں میں عوامی جلسے بھی منعقد کر رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت ان جلسوں اور اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکی کو این آر او لینے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کسی بھی صورت میں وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا انکار کر چکے ہیں۔ مریم نواز شریف اور نواز شریف کے مذاکرات کو مسترد کرنے سے متعلق ٹویٹس کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور ایک مرتبہ پھر گذشتہ انتخابات سے متعلق اپنے الزمات دہرائے۔ اس سے پہلے اپوزیشن اتحاد یہ واضح کر چکا ہے کہ عمران خان کے استعفے تک حکومتی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا۔
دوسری طرف محمد علی درانی نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی لیڈر کے ’پیامبر‘ کے طور پر گئے تھے اور اس ملاقات کے نتیجے میں کی گئی پیشکش کے بعد فریقین کے ٹکراؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا ’اس کے نتیجے میں ٹکراؤ کے رویے تھوڑے پسپا ہوں گے اور برداشت کے رویے آگے کی طرف جائیں گے‘۔ کیا شہباز شریف بات چیت کے قائل ہیں، اس سوال کے جواب میں درانی نے کہا کہ شہباز شریف سے بات میں ’ان کی ذات کم اور ملکی مفاد زیادہ نظر آیا‘ اور وہ ’انتہائی ٹکراؤ کی طرف جانا پسند نہیں کریں گے‘۔
یاد رہے کہ محمد علی درانی کو نہ صرف ایجنسیوں کے قریب سمجھا جاتا ہے بلکہ وہ ماضی میں عمران خان کے بھی کافی قریب رہے ہیں۔ ذرائع کا موقف ہے کہ جیل میں شہباز شریف کے ساتھ درانی کی ملاقات کا مقصد نون لیگ میں دراڈ ڈالنا ہے لیکن انشاءاللہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپنی ان کوششوں میں ناکام رہے گی۔
