نااہل CCPO لاہور چوتھا پولیس افسر بھی کھا گیا

سنٹرل سلیکشن بورڈ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نااہل قرار پانے والے متنازعہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ ایک اور سینئیر پولیس آفیسر کو کھا گئے۔ مختلف انتظامی معاملات پر کیپٹیل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کے ساتھ مبینہ اختلافات پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شہزادہ سلطان کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ شہزادہ سلطان صوبائی دارالحکومت کے چوتھے پولیس افسر ہیں جن کا عمر شیخ کے بطور سی سی پی او لاہور کا چارج سنبھالنے کے بعد تبادلہ کیا گیا ہے۔اس سے قبل سابق انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر کو عمر شیخ سے اختلافات پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور یہ معاملہ شہ سرخیوں کی زینت بنا تھا۔
ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور سی سی پی او کے درمیان اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب سی سی پی او نے مختلف کیسز میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو حقائق کے برعکس اپنی خواہشات پر مبنی تفتیش رپورٹ تیار کرنے کا کہا۔ لیکن شہزادہ سلطان نے ایسی تمام ہدایات ماننے سے صاف انکار کر دیا اور واضح کیا کہ وہ صرف حقائق پر مبنی تفتیش کو ہی آگے بڑھائیں گے جس پر سی سی پی او نے ڈی آئی جی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے انھیں تبادلے کا ڈراوا دے کر دباؤ میں لانے کی کوشش کی لیکن جب شہزادہ سلطان نے کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کیا تو عمر شیخ نے ڈی آئی جی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو ان کے تبادے کی سفارش کر دی۔
ذرائع کے مطابق سی سی پی او کی جانب سے انویسٹی گیشن ونگ کے کچھ پولیس عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے اقدام نے بھی شہزادہ سلطان کو مشتعل کیا تھا اور انہوں نے ان اقدامات کو غیرضروری قرار دیا تھا۔ تاہم دوسری طرف سی سی پی او لاہور کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سی سی پی، شہزادہ سلطان کے ’تفتیشی ونگ میں دلچسپی نہ لینے پر‘ خود سے بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی اپنے ڈیپارٹمنٹ کو مکمل وقت نہیں دے رہے اور یہ خاص مسئلے نے دونوں کے درمیان اختلافات کو بڑھا دیا۔ذرائع کے مطابق شہزادہ سلطان ان 50 پولیس افسران میں شامل تھے جنہوں نے عمر شیخ کے بطور سی سی او تعیناتی کے خلاف ستمبر میں سینٹرل پولیس آفس میں اجلاس منعقد کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے تھے تو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سی سی پی او کے سخت ناقدین میں سے ایک تھے۔ چونکہ ان دونوں کے درمیان اچھے تعلقات نہیں تھے اس لئے سی سی پی او لاہور نے حال ہی میں اعلیٰ حکام سے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان کے تبادلے کا مطالبہ کرتے ہوئے متبادل کے طور پر ایک پیشہ ور پولیس افسر تعینات کرنے کا کہا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے ان کی مشاورت کے بغیر عمر بن شیخ کا لاہور کے سٹی کیپیٹل سٹی پولیس افسر تعینات کرنے پر کام کرنے سے انکار اور وزیر اعلی پنجاب سے ان کے کسی ‘مناسب جگہ’ پر تبادلہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے سی سی پی او کو ہٹانے کے بجائے شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو اس عہدے کی ذمہ داریاں سونپ دی تھیں۔بعدازاں پنجاب پولیس کے 50 سے زائد افسران نے سبکدوش ہونے والے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے خلاف ‘توہین آمیز ریمارکس’ دینے پر سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے تادیبی کارروائی اور فوری تبادلے کا مطالبہ کیا تھا۔اس کے علاوہ موٹروے پر گینگ ریپ کا شکار خاتون کے حوالے سے متنازع بیان دینے پر بھی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو شدید تنقید کا سامنا ہے جس پر حکومت کی جانب سے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا تاہم نوتس اور اس کا جواب سرد خانے کی نزر ہو چکا ہے جبکہ حالیہ دنوں مختلف پولیس افسران کو حوالات میں بند کروانے اور ایک خاتون کو فون پر گالیاں دینے پر بھی موصوف سی سی پی او عمر شیخ تنقید کی زد میں رہ چکے ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان تاحال عمر شیخ کے ساتھ ہیں کیونکہ اس نے چارج سنبھالتے ہی وزیر اعظم کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوا دیا تھا۔
