نازیہ ملک کا ہراساں کرنیوالوں سے پیسے نکلوانے کا اعلان

معروف اداکارہ نازیہ ملک نے انکشاف کیا ہے کہ بہت ہو گیا ہے، اب اگر کسی نے ہراساں کیا تو عدالت میں کیس دائر کرتے ہوئے پیسے نکلوائوں گی، اس کے ساتھ ہراساں کرنیوالے کی ویڈٰیو بھی عوام میں شیئر کریں گی۔نازیہ ملک حال ہی میں نادر علی کے پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت مختلف معاملات پر بات کی اور یہ بھی بتایا کہ انہیں کیریئر کے دوران کس طرح ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا، 2011 میں ان کی ملاقات بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان سے لندن میں ہوئی تھی، اس وقت تک وہ ان کی فین نہیں تھیں لیکن اچانک ملاقات ہونے کے بعد وہ ان کی مداح بن گئیں۔اداکارہ کے مطابق وہ لندن میں اپنی سہیلی کے ہمراہ ایک سپر سٹور کے باہر تصاویر بنوا رہی تھیں کہ وہاں شاہ رخ خان آئے اور سائیڈ میں کھڑے ہوگئے۔نازیہ ملک نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے شاہ رخ خان کو نہیں پہچانا تھا لیکن بعد میں انہیں شک گزرا کہ وہ بولی وڈ اداکار ہیں، اس لیے انہوں نے ان سے جاکر بات کی اور بعد ازاں تصویر کھچوانے کی درخواست کی۔میک اپ آرٹسٹ و ٹی ومیزبان کے مطابق شاہ رخ خان نے ان کے کمر کے گرد بانہیں پھیلانے کا ڈراما کیا اور ان کے ساتھ تصویر بنوائی، حقیقت میں اداکار نے ان کی کمر پر ہاتھ نہیں رکھا تھا۔پاکستان سے زیادہ بھارت میں پروفیشنل ازم ہے، وہاں کام کو فوقیت دی جاتی ہے جب کہ یہاں کام کے بجائے نام کو دیکھا جاتا ہے۔نازیہ ملک نے دعویٰ کیا کہ 2005 میں بھی انہیں ٹی وی میزبانی کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ملتی تھی اور اب نئی لڑکیاں اور لڑکے محض 40 ہزار روپے پر پورا مہینہ کام کرتے ہیں، شکوہ کیا کہ نئے لڑکوں اور لڑکیوں کی وجہ سے مارکیٹ خراب ہوئی، اب ٹی وی چینلز پر شوبز اور نیوز کے پروگرامات کمیشن کے تحت ہونے لگے ہیں، یعنی پروڈیوسر اور پروجیکٹ ہیڈ میزبان کے ساتھ مل کر کمیشن کی بنیاد پر پروگرام کر رہے ہوتے ہیں۔آج کل نیوز چینلز میں بہت سارے ایسے اینکر بھی کمیشن پر کام کر رہے ہیں اور انہیں 6 لاکھ روپے تکا معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے، جنہیں بولنا بھی نہیں آتا۔نازیہ ملک نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ نادیہ خان مارننگ شوز کی ملکہ ہیں، ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا لیکن آج کل ندا یاسر بہت اچھا کام کر رہی ہیں، ایک بار ایک ٹی وی چینل پر ان کے پاس ایک کم عمر لڑکی روتی ہوئی آئیں اور انہیں بتایا کہ فلاں شخص نے ان سے کام کے بدلے فلاں کام کا مطالبہ کیا اور کام بھی نہیں دیا۔انہوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار انہیں مارکیٹنگ ہیڈ نے ہراسانی کا نشانہ بنایا اور انہیں نامناسب پیش کش کی، جس پر انہوں نے شخص کو کھری کھری سنا دیں، اب انہوں نے سوچ رکھا ہے کہ اب ان کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تو وہ ہراسانی کا نشانہ بنانے والے شخص کی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈ کریں گی۔ریکارڈنگ کے بعد وہ ہراسانی کرنے والے شخص پر ہراسگی کا مقدمہ کرکے ان سے پیسے بٹوریں گی تاکہ وہ سبق سیکھیں۔

Back to top button