ناسا نے بچوں کےلیے ’اسٹوری ٹائم فرام اسپیس‘ کا سلسلہ شروع کردیا

ناسا نے اپنے خلانور وں ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے روزانہ بچوں کےلیے سوتے وقت کی کہانیاں سنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جسے ’اسٹوری ٹائم فرام اسپیس‘ کا نام دیا گیا ہے۔
بچوں کو سوتے وقت کہانیاں اور واقعات سنانے سے ان میں الفاظ کا چناؤ، پڑھنے کی ترغیب اور فکری قوت بھی بڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے والدین اپنے بچوں کو کہانیاں سناتے ہیں تاہم بعض بچے اس سے محروم رہتے ہیں اور اسی کمی کو دور کرنے کےلیے اصل خلانوردوں نے ناسا کے تعاون سے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔
گلوبل اسپیس ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور ناسا کے تعاون سے یہ پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں خلانورد اپنی تحقیق اور کام سے فارغ ہوکر خلا سے بچوں کو مشہور کلاسیکی کہانیاں سناتے ہیں۔ اس طرح بچے گھر بیٹھےخلا سے ان کی کہانیاں سن سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ ایک ماہرِ تعلیم پیٹریشیا ٹرائب اور خلانورد بنجامن ایلوِن ڈریو جونیئر نے مشترکہ طور پر شروع کیا ہے۔ اس کےلیے خصوصی طور پر بچوں کی مشہور کتابیں خلائی اسٹیشن پر پہنچائی گئیں۔ پہلے خلانورد کتاب پڑھتے ہوئے ویڈیو بناتے ہیں اور پھر اسے یوٹیوب چینل اور اپنے ویب پیچ پر اپ لوڈ کردیتے ہیں۔
اس طرح کہانیاں سننے سے ایک جانب بچوں میں مطالعے کا شوق بڑھتا ہے تو دوسری جانب خلا اور سائنسی علوم میں بھی دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب سے پہلے بنجامن ایلوِن نے ’میکس گوز ٹو دی مون‘ نامی کتاب پڑھی جو خلائی شٹل ڈسکوری کی آخری پرواز کے متعلق ایک خوبصورت کہانی ہے۔
اس کے بعد تمام خلانوردوں نے بچوں کےلیے خلا سے کہانیاں پڑھیں جو بہت مقبول ہورہی ہیں۔ علاوہ ازیں خلانوردوں نے آئی ایس ایس پر بچوں کےلیے سائنسی تجربات بھی انجام دیئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button