نواز شریف نے فوج کو متنازع بنانے کے بجائے کرداروں کی نشاندہی کی

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کسی ایک فرد کے غلط کردار اور مقاصد کا ذمہ دار پوری فوج کو نہیں سمجھنا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ پوری قوم اور پارٹی نواز شریف کے اس عمل کو سراہتی ہے کہ انہوں نے فوج کو متنازع بنانے کے بجائے کرداروں کی نشاندہی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے اس بیانیے کو عوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ جو رکن قومی یا صوبائی اسمبلی اس بیانیے سے انحراف کرے گا وہ سیاست نہیں کر سکے گا۔ رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ اے پی سی اجلاس سے خطاب سے ایک دن پہلے نواز شریف نے پارٹی کی سینئر قیادت سے مشاورت کی۔ میں کسی اور کا تو نہیں کہہ سکتا لیکن مجھے اس وقت پوری طرح واضح ہوگیا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید بنائیں گے۔ گوجرانوالہ جلسے میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے پی سی سے خطاب میں نواز شریف نے سب کچھ کہہ دیا تھا اور سب کو معلوم تھا کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے بعد میں اس طرح سے سوچا ہوگا کہ فوج ایک قابل تکریم ادارہ ہے۔ بہت سے شہدا فوج کا حصہ ہیں۔ جب فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو وہ لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں ہمیں کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فوج کو بطور ادارہ تنازعے میں نہیں لانا چاہیے۔ نواز شریف نے فوج کو دونوں ہاتھوں سے سلیوٹ کیا ہے۔ ادارہ تو رہنا چاہیے۔ جس پر الزام ہے وہ تو لگتے رہتے ہیں۔
اپوزیشن کے جلسوں کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کسی رابطے سے متعلق سوال پر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ میں یہ کہہ نہیں سکتا کہ رابطہ ہوا ہے یا نہیں ہوا ہے لیکن میرا سیاسی ویژن یہ کہتا ہے کہ بات تو آخر ٹیبل پر ہی طے ہونی ہے۔ آپ دس جنگیں لڑیں اس کے بعد بھی بات طے ٹیبل پر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام قیادت ادارہ جاتی مذاکرات کے حق میں ہے اور غالباً سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ بات محسوس کی تھی اور وہ میزبانی کرنے کو بھی تیار تھے لیکن نہ جانے کیوں وہ اس بات کو آگے نہیں بڑھا سکے۔ اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ہونے چاہیں اور آئین پر عمل در آمد ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ جو بیانیہ ہے جسے میاں نواز شریف کا بیانیہ کہا جاتا ہے، جس میں انہوں نے ووٹ کو عزت دو کی بات کرتے ہوئے بعض کرداروں کی نشاندہی کی ہے اس کی عوامی سطح پر بہت پذیرائی ہے۔ اس لیے جو رکن قومی یا صوبائی اسمبلی اس سے انحراف کرے گا، دو نمبری کرے گا یا کسی اور جگہ جا کر کھڑا ہو جائے گا، میرا دعویٰ ہے کہ وہ سیاست نہیں کر سکتا۔ وہ ختم ہو جائے گا۔ باقی رہنما ان کرداروں کے نام کیوں نہیں لیتے؟ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ جن کرداروں کے نام نواز شریف نے لیے ہیں اب کوئی کسر باقی رہ گئی ہے۔ جو بات میاں نواز شریف کی زبان پر آ جائے، نشر ہو جائے اس کے بعد کیا ضرورت ہے کہ وہ لوگوں کو بات بتائے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے جو تحریک شروع کی ہے وہ صرف حکومت کے خلاف ہی شروع نہیں کی بلکہ اپنی بھی جان بچانے کی کوشش ہے۔ لوگ حکومت کو گالیاں دیتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں آپ کر کچھ نہیں رہے۔ اس لیے اب اس تحریک سے کسی سیاسی کارکن، رکن اسمبلی یا جماعت کا باہر نکلنا بڑا مشکل ہے۔ لوگ کہتے ہیں بندے توڑ لیں گے کہاں توڑ لیں گے۔ لوگوں کو اپنے حلقوں کا نہیں پتہ؟ یہی وجہ ہے کہ کوششوں کے باوجود مسلم لیگ ن قائم ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک میں بھرپور عوامی سطح پر اپیل کرنا، بڑی تعداد میں عوام کو جلسوں میں لانا اور اس کے نتیجے میں حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول جانا ہمارے ابتدائی اہداف تھے۔ ان تینوں میں ہی بے مثال کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جو اگلا مرحلہ آئے گا اس میں یہ اور غلطیاں کریں گے۔ گرفتاریاں شروع کرنے کا ان کا ارادہ تھا اور اگر کر لیتے تو شاید اور معاملہ آگے بڑھ جاتا۔ اب ان کا ارادہ ہے ملتان کے جلسے سے پہلے گرفتاریاں کرنے کا اگر انہوں نے اس قسم کی حماقتیں کیں تو ملتان اور لاہور کے جلسے حادثوں کا مجموعہ بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جلسے کرنے سے کیا ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے جلسے کرنے سے حکومت ختم نہیں ہوتی لیکن جب یہ تحریک چلتی ہے تو اس میں سب سے زیادہ خطرہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ کیوں کہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو پھر صورت حال کا پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کدھر جاتی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ بھی ایک حادثہ تھا۔ یہ حادثے بڑے جان لیوا ہوتے ہیں۔ کراچی کا واقعہ بھی ایک حادثہ تھا۔ حادثے کے اثرات حکومت پر ہی پڑتے ہیں۔ اپوزیشن تو پہلے ہی سڑکوں پر ہوتی ہے۔ جس طرح گھبرا کر یہ حرکتیں کر رہے ہیں تو شاید یہ جنوری سے پہلے ہی کوئی ایسا حادثہ کروا بیٹھیں جو جان لیوا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے کراچی جلسے میں جو تقریر کی اس سے بہتر کوئی تقریر ہو نہیں سکتی۔ بدقسمتی سے وہ تقریر ایک اور واقعے کی نذر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر وہ صرف کیپٹن صفدر کو ادھر ادھر گرفتار کرلیتے تو شاید ان کا مقصد بھی پورا ہو جاتا اور نقصان سے بھی بچ جاتے۔ لیکن جب انہوں نے بیڈ روم توڑا، اسی طرح آئی جی والا واقعہ ہوا تو جلسے کو قابو کرتے کرتے نئی مصیبت میں پھنس گئے۔ شہباز شریف کی جانب سے مفاہمت کی کوششوں کے بارے میں ن لیگ پنجاب کے صدر نے کہا کہ شہباز شریف کی کسی شخصیت کے ساتھ رابطوں اور بات چیت کا گواہ نہیں ہوں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ میری موجودگی کو پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ حالات جس نہج تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے بعد گڑھا یا قبر ہی ہے۔ شہباز شریف کی یہی کوشش تھی کہ اس محاذ آرائی سے بچنا چاہیے۔ ان کو جب دوسری بار بلاجواز گرفتار کیا گیا تو ان کی ان کوششوں کو بہت دھچکا لگا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نواز شریف کے بیانیے کا بوجھ کب تک برداشت کرے گی اس پر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ یہ بوجھ ہے ہی نہیں، یہ کوئی بوجھ نہیں ہے۔ یہ ان کے ترجمان ہیں ان کی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے کہ کس طرح میڈیا کی سپیس کور رکھنی ہے۔ کسی کو ان کی ٹیں ٹیں پر یقین نہیں ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ہم محب الوطن ہیں اور میاں نواز شریف نے جو بات کی ہے وہ بالکل درست ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مریم نواز لیڈر ہے۔ نواز شریف کو لیڈر عوام میں مقبولیت بنایا۔ مریم نواز کو بھی لیڈرعوام نے بنایا ہے۔ وہ جب جب باہر نکلی ہے عوام نے ان کو قبول کیا ہے۔ مریم نواز، نواز شریف کا تسلسل ہیں۔ جب بھی انتخابات ہوں گے پارٹی کی انتخابی مہم کو بام عروج تک پہنچانے میں سب سے اہم کردار مریم نواز کا ہوگا۔ نواز شریف کی وطن واپسی بارے حکومتی دعووں کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میاں نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان کے دل کا جو پروسیجر ہونا ہے وہ کوئی افسانہ یا بہانہ نہیں ہے۔ اللہ کرے وہ کامیابی سے ہو جائے۔ اگر وہ ہو جاتے ہے تو انہوں نے خود ہی واپس آ جانا ہے یہ میں آپ کو بتا دوں۔ باقی یہ ان کی بڑھکیں ہیں۔ یہ ان کو واپس لا نہیں سکتے۔ ان کی ایک تقریر برداشت نہیں ہوتی ان کو لا کر کیسے برداشت کریں گے۔ اگر وہ آکر جیل کے اندر بھی بیٹھ گئے تو ان کو روز میاں نواز شریف سے ہی واسطہ رہے گا حکومت یہ بھول جائیں گے۔ اس لیے لانا نہیں چاہتے نہ یہ لائیں گے۔ آئیں گے وہ خود ہی اپنی مرضی سے اور اپنے وقت پر آئیں گے۔ میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنا علاج مکمل کروا کر آئیں اور ان کا بھی علاج کرکے آئیں۔
