نواز شریف کا 16 ستمبر تک وطن واپس نہ آنے کا فیصلہ

سابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی ستمبر میں وطن واپسی سے متعلق خبریں ایک بار پھر زیر گردش ہیں لیکن نواز شریف کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان اور تاریخ طے نہ ہونے کے باعث ان کی اپنی پارٹی اور ان کے حامی دونوں ہی بے خبر ہیں کہ وہ کب لندن سے وطن واپس آئیں گے جہاں وہ 2019 سے مقیم ہیں۔ تاہم ذرائع کا دعوی ہے کی نواز شریف ستمبر کے تیسرے یا چوتھے ہفتے میں پاکستان واپس آئینگے۔ 16 ستمبر تک نواز شریف کی پاکستان واپسی کا کوئی امکان نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران خاص طور پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی برطرفی اور اپریل 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے کئی مواقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف “آئندہ ماہ پاکستان واپس آ رہے ہیں تاہم تاریخ کے مطا بق نواز شریف وط واپس نہ پہنچ پائے۔

جون کے آخر میں جب مسلم لیگ (ن) کے قائد دبئی میں تھے، ان کی پارٹی کے بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ 3 گھنٹے سے بھی کم وقت میں وہ پاکستان واپس آ سکتے ہیں، رانا ثناءاللہ کی جانب سے جولائی کے وسط میں مسلم لیگ (ن) کے صدور اور ڈویژنل سیکریٹریز کو خطوط ارسال کئے گئے جن میں ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ایم این ایز، ایم پی اے اور پارٹی ورکرز کو نواز شریف کی وطن واپسی کی تیاریوں سے آگاہ کریں۔اس خط میں کہا گیا کہ جب بھی قیادت کوئی تاریخ طے کرے، میاں نواز شریف کی واپسی کی تیاریاں مکمل ہونی چاہئیں اور یونین کونسل کی سطح سے قافلے آنے چاہئیں ۔لیکن ان کی واپسی کی کوئی تاریخ سامنے نہ آئی اور نواز شریف یو اے ای سے  لندن واپس چلے گئے۔

مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع کا دعوی ہے کہ نواز شریف نئے چیف جسٹس کے حلف اٹھانے سے قبل واپس نہیں آسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ نواز شریف موجودہ چیف جسٹس کی موجودگی میں آتے ہیں یا نہیں، تاہم ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے، وہ 74 سال کے ہیں، وہ ذیابیطس کے مریض ہیں، ان کے دل کی دو سرجریاں ہوچکیں اور انہیں متعدد بیماریاں ہیں، انہیں اس صورتحال میں نہیں ڈال سکتے جہاں ان کی زندگی کو خطرات ہوں۔

دوسری طرف اس حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا میاں نواز شریف ستمبر میں آئیں گے، یہ یقینی ہے لیکن ستمبر کی کس تاریخ کو آئین گے، اس کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک اینکر کے سوال کے جواب میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف ستمبر میں واپس آئیں گے۔ماضی کے دعوؤں کے پیش نظر نواز شریف کی واپسی سے متعلق تازہ بیان کیا محض خواہش کا اظہار ہے یا واقعی مسلم لیگ (ن) کی واپسی قریب ہے؟ اس سوال کے جواب میں پارٹی ذرائع نواز شریف کی واپسی کو دو اہم عوامل سے جوڑتے ہیں، ایک عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان اور دوسرا معاملہ نواز شریف کے مقدمات ہیں۔پارٹی کے ایک رہنما نےبتایا کہ ان کی واپسی کا تعلق انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے ہے، اس وقت کوئی بھی بات ٹھوس نہیں ہے۔رہنما نے کہا کہ 16 ستمبر کی تاریخ کا کہا جا رہا ہے کیونکہ یہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ سے جڑی ہے، جن کے بارے میں پارٹی محسوس کرتی ہے کہ وہ ان کے خلاف مقدمات میں نرم رویہ اختیار نہیں کریں گے۔.

رہنما نے کہا کہ نواز شریف کو ہائی کورٹ نے مفرور قرار دیا، اس لیے انہیں عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا، عدالت کو فیصلہ کرنے دیا جائے گا کہ انہیں جیل بھیجا جائے یا نظر بندی میں سزا بھگتنے کی اجازت دی جائے۔رہنما نے کہا کہ اس کے بعد سزا کے خلاف ان کی اپیلوں کا سوال ہے اور یہ سوال ہے کہ کیا ان کی نااہلی پانچ سال تک محدود ہے یا تاحیات نااہلی برقرار رہے گی۔

تاہم۔لیگی قیادت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک میں انتخابات سے قبل نواز شریف کی واپسی اہم ہے کیونکہ ان کی موجودگی سے پارٹی کو تقویت ملے گی اور کارکنوں میں جوش و جذبہ پیدا ہوگا۔ انتخابات سے قبل ان کی واپسی ضروری ہے جب کہ وہ اپنی جسمانی موجودگی کے ذریعے ہی پارٹی اور ووٹر کو متحرک کر سکتے ہیں۔

Back to top button