نواز لیگ کا بزدار کو ہٹا کر حمزہ کو وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر اعلی عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر قاف لیگ کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو لانے کی تجویز رد کردی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے عثمان بزار کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹا کر پی ٹی آئی کے ناراض ممبران پنجاب اسمبلی کی مدد سے حمزہ شہباز شریف کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کی تجویز دی ہے اور اس مشن میں پیپلز پارٹی کی مدد مانگی یے۔ نواز سریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز کا یہ مشترکہ موقف ہے کہ اڑھائی سال عثمان بزدار کی حکومت کو برداشت کرنے کے بعد چوہدری پرویز الہی کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ کسی شخص کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور پنجاب کی وزارت اعلی پر اکثریتی پارٹی کا حق بنتا ہے لہذا بزدار کی چھٹی ہونے کی صورت میں حمزہ شہباز ہی وزارت اعلی کے امیدوار ہوں گے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بزدار کو گھر بھجوا کر حمزہ شہباز کو وزیر اعلی پنجاب کی کرسی پر بیٹھانے کے لئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی گرین سگنل دے دیا ہے اور اس سلسلے میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 8 مارچ کو پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی مریم نواز نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر پنجاب میں بزدار کو ہٹا کر تبدیلی لانی ہے تو پہلا حق اکثریتی جماعت کا بنتا ہے جو کہ نواز لیگ یے۔ مریم نے چوہدری پرویز الہی کا نام لیے بغیر یہ بھی کہا کہ اگر بزدار کو ہٹا کر پھر اسی ٹولے کا کوئی شخص لانا ہے تو پنجاب میں تبدیلی لانے کی ضرورت نہیں۔اس موقع پر بلاول بھٹو نے بھی واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ نون لیگ پنجاب اور مرکز میں اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے اپنا وزیر اعلی اور وزیراعظم لانے کا حق رکھتی ہے اور ان دونوں عہدوں پر حمزہ شہباز اور شہباز شریف کو لایا جا سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں پی ڈی ایم کے ممکنہ حملے کے مد نظر وزیر اعظم عمران خان بھی بزدار کی جگہ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلی نامزد کرکے اپوزیشن کی گیم الٹا سکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ چوہدری برادران پچھلے اڑھائی سال میں عثمان بزدار کی ناقص کارکردگی کا بوجھ اٹھانے اور کپتان کی مرضی کے مطابق صوبہ چلانے پر راضی ہو جائیں۔ یاد رہے کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی وزارت اعلی قاف لیگ کے دس ممبران اسمبلی کی وجہ سے قائم ہے جو اگر ان کا ساتھ چھوڑ دیں تو ان کی حکومت گر جائے گی۔ اس صورت حال میں پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ تجویز دی تھی کہ اگر پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ کے لئے نامزد کر دیا جائے تو وہ پی ٹی آئی اتحاد چھوڑ کر پی ڈی ایم کے وزیر اعلی بن سکتے ہیں۔

تاہم نواز لیگ کا استدلال ہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے بعد نون لیگ 166 اراکین کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے جبکہ لیگی ذرائع کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے تین درجن کے قریب اراکین اسمبلی نے آئندہ الیکشن میں ن لیگ کی ٹکٹوں کے وعدے پر ان ہاؤس تبدیلی کے مشن میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز نے بلاول بھٹو کو باور کروایا ہے کہ تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی مدد دے پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کی حکمت عملی باآسانی کامیاب بنائی جاسکتی ہے۔

نون لیگ کے ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے تیس اراکین ان کی جماعت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بغاوت کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ بتایا جا رہا یے کہ بزدار کے خلاف ووٹ دینے کی صورت میں اگر انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے تو انہیں نون لیگ کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب کروایا جائے گا اور اس مہم جوئی کے نتیجے میں حمزہ شہباز شریف ہی وزیر اعلی پنجاب کے امیدوار ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے مریم کو یقین دلایا ہے کہ عثمان بزدار کو گرانے اور حمزہ شہباز کو لانے کے لئے پیپلز پارٹی کے سات اراکین پنجاب اسمبلی ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں کل پانچ سیاسی جماعتوں کے 369 اراکین ہیں۔ تحریک انصاف 181 اراکین کے ساتھ پہلے مسلم لیگ ن 166 اراکین کے ساتھ دوسرے جبکہ مسلم لیگ قاف 10 اراکین کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 7 ، راہ حق پارٹی کا ایک جبکہ چار آزاد اراکین ہیں۔ ایسے میں اگر واقعی نواز لیگ کو تیس کے قریب پی ٹی آئی اراکین کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو بزدار کی جگہ حمزہ شہباز کو منتخب کروانا مشکل ٹاسک نہیں ہوگا۔ بلاول سے اپنی حالیہ ملاقات کے بعد گجرات کے چوہدریوں نے بظاہر یہی تاثر دیا ہے کہ وہ حکومت کے اتحادی ہیں اور اپوزیشن کی کسی بھی موو کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تاہم اندر کی خبر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ چوہدریوں کو مستقبل قریب میں پنجاب کے حالات ٹھیک ہوتے نظر نہیں آتے اس لئے وہ ابھی وکٹ کی دونوں جانب کھیل رہے ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ اپنے دروازے مکمل بند نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب نون لیگ کی قیادت سمجھتی ہے کہ جس طرح ماضی میں چوہدری برادران نے پنجاب کی وزارت اعلی ملنے کا وعدہ پورا نہ ہو ے کی وجہ سے شریف برادران سے اپنے راستے الگ کر لیے تھے اس لیے یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ گجرات کے چوہدری نواز لیگ کے ساتھ مل کر چلیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار مریم نواز نے بھی عوامی سطح پر یہ کہہ دیا ہے کہ وہ بزدار کی جگہ کسی اقلیتی جماعت کے وزیر اعلی کو قبول نہیں کریں گی کیونکہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون ہے۔ 8 مارچ کو پی ڈی ایم کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں بدترین دھاندلی کے باوجود مسلم لیگ نون نے ہی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اس لیے پنجاب میں حکومت بنانا نون لیگ کا حق ہے۔ مریم نواز نے صراحت کے ساتھ کہا کہ اگر عثمان بزدار جیسے شخص کو جو اکثریت نہیں رکھتا فارغ کیا جائے تو پھر اس کی جگہ کوئی ایسا شخص نہیں آسکتا جو اکثریت کی بجائے اقلیت کی نمائندگی کرتا ہو کیونکہ یہ دانشمندی نہیں ہے۔

مریم کے اس بیان سے واضح ہے کہ بزدار کی جگہ چوہدری پرویز الہی نہیں لے سکتے اور واہ بھی نواز لیگ کی مدد سے۔ ویسے بھی عمران خان کی طرح چوہدری برادران بھی اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں ان کی جماعت کے محض دس اراکین ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پنجاب میں اب بھی مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت ہے، اس لیے ہم پنجاب میں کسی دوسری پارٹی کے وزیر اعلیٰ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نون لیگ واقعی پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی کو توڑ کر حمزہ شہباز کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کے مشن میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button