نیلی آنکھوں والے ارشد کا پاکستان سے چائے کا سفر انگلینڈ جا پہنچا؟

اپنی نیلی آنکھوں کے ساتھ لوگوں کا چائے پلانے والا ارشد 2016 میں ایسا میڈیا پر چھایا کہ ہر طرف اس کی دھوم سنائی دی، اپنی خوبصورتی کی وجہ سے اس کو متعدد اشتہارات میں بھی کام ملا لیکن اب ارشد نے اپنی چائے کے سفر کو پاکستان سے آگے انگلینڈ تک بڑھا دیا ہے۔ہندوستان ٹائمز نے ارشد کا ایک انٹرویو کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ گانوں اور ٹی وی شوز میں بھی اداکاری کی ہے جو میں نے اور میری ٹیم نے بنائے اور لانچ کیے۔ارشد خان نے کہا کہ تصویر وائرل ہونے کے بعد میرے لیے مالی، ذاتی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے سب کچھ بدل گیا۔ پہلے وہ جو دل چاہے کھا اور پہن سکتے تھے اور مرضی کے مطابق کچھ بھی کر سکتے تھے لیکن اب مشہور ہونے کے بعد انہیں کچھ حدود کا پاس رکھنا پڑتا ہے اور دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ کیا پہن رہے ہیں، کیا کھا رہے ہیں اور کہاں بیٹھے ہیں۔23 سالہ ارشد کا شہرت کی سیڑھیاں چڑھنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ابتدا میں جو کچھ ہو رہا تھا، بڑا غیر معمولی لگتا تھا اور اسے سمجھنے اور قبول کرنے میں انہیں خاصا وقت لگا، تصویر وائرل ہونے کے بعد میڈیا نے آ کر میرا انٹرویو کیا اور 2 ماہ تک میں سوچتا ہی رہا کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ارشد خان نے اپنی کامیابی کو صرف شوبز تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے پاکستان میں چائے بیچنے کا کام جاری رکھا اور اب انہوں نے لندن کے ایلفورڈ لینڈ میں ایک کیفے کھول لیا ہے جس کا نام چائے والا ارشد خان ہے تاہم ان کا ترقی کا سفر اتنا ہموار بھی نہیں رہا جتنا کہ نظر آتا ہے، شہرت کے ابتدائی ایام میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شروع میں کچھ چیلنجز تھے کیوںکہ میں پہلے سمارٹ فون بھی استعمال نہیں کر رہا تھا اور مجھے میڈیا سے بات کرنے کا طریقہ بھی نہیں معلوم تھا۔ارشد خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آہستہ آہستہ ان چیلنجوں سے نپٹنا سیکھا، شوبز کے انتخاب پر انہیں اپنے خاندان والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور خصوصاً ایک گانا فلمانے پر سخت رد عمل آیا اور انہوں نے مجھ سے شکوہ بھی کیا، لیکن وقت گزرنے کیساتھ اہل خاندان نے فن کیلئے میرے جذبے اور عزم کو دیکھتے ہوئے مخالفت ترک کر کے مجھے سپورٹ کرنا شروع کر دیا۔
