نیوی کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے یا پھر کلب چلانا؟ عدالت


اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران سوال کیا ہے کہ نیوی کا فرض ملک کا دفاع کرنا ہے یا کلب بنانا اور چلانا؟ وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیوی سیلنگ کلب کی تعمیراورنیول فارمز کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران نیول چیف کے وکیل اشتراوصاف سے پوچھا کہ پہلے یہ بتائیں کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ پاکستان نیوی کلب بنائے گی اور چلائے گی؟ کیا نیوی کی ذمہ داری ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے یا کلب چلنا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ نیوی کا رول ملک کا دفاع کرنا ہے، بتایا جائے کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ نیوی سیلنگ کلب چلائے گی؟ اس پر اشتراوصاف نے جواب دیا کہ ملکی دفاع کی تربیت میں کھیل بھی آتے ہے۔ وکیل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے نے آپ کو بطورریگولیٹر نوٹس جاری کیا اور آپ نے اس کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔ پتہ نہیں آپ کو کس بات کا زعم ہے؟ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ فورسز کے جو لوگ قربانیاں دیتے ہیں ہم ان کے احسان مند ہیں، لیکن اس کے باوجود قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی۔ عدالتی ریمارکس پر اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ ریاست پاکستان مسلح فورسز کی سرگرمیوں کو تسلیم کرتی ہے کیونکہ یہ تربیت کا حصہ ہے۔
خیال رہے کہ جولائی 2020 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو اس کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کلب کی عمارت کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کو فوری طور پر روکے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ‘اتھارٹی کے نوٹس میں ایک مرتبہ پھر یہ آیا ہے کہ غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیاں بحال کردی گئی ہیں اور کلب کو فعال کردیا گیا ہے، یہ سی ڈی اے قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے’۔ بعد ازاں چیف آف نیول اسٹاف نے ’پرتعیش کلب‘ کی تعمیر سے متعلق عدالت میں اپنا جواب جمع کروایا اور کلب کی تعمیر کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا تھا کہ یہ ایک اسپورٹس کی سہولت گاہ ہے جسے ماحولیاتی ماہرین سے منظوری لینے کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر قائم کیا گیا۔ تاہم عدالت نے نیوی کا یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا۔
12 ستمبر 2020 کو کیس کی دوبارہ سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی کے وکیل سے پوچھا کہ سی ڈی اے نے جتنی جگہ آپ کو اسلام آباد میں دی ہے وہ کتنی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ اس وقت مجھے نہیں پتہ وہ کتنی جگہ ہے۔ اس پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے کہا کہ جس وفاقی حکومت کے آپ ماتحت ہیں اس کے کس افسر نے کہاں آپ کو اجازت دی یہ کام کرنے کی، کوئی بلڈنگ پلان، کوئی منظوری کچھ بھی نہیں تھا اور آپ اس کا افتتاح کرنے چلے گئے، جب ریگولیٹر نے آپ کو نوٹس جاری کردیا تو پھر آپ اس پر کیسے سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کابینہ ڈویژن نے اس سلسلے میں کوئی منظوری دی؟ اگر ایسا ہوا کہ آپ کے پاس سی ڈی اے کی منظوری کا ریکارڈ نہ ہوا تو کیا ہو گا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ قانون اور اس کی حکمرانی کے احترام کا ہے، کیا کسی نے افسران کو بتایا کہ ریگولیٹر کا نوٹس آیا ہوا ہے اس کا افتتاح نہ کریں، اس پر وکیل نے کہا کہ اس حوالے سے انہیں مؤکل کی کوئی ہدایت نہیں، لہٰذا اس پر ابھی بیان نہیں دوں گا۔ وکیل کی بات پر عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل سے لگ رہا ہے کہ اسی قسم کے فیصلوں کی وجہ سے سارے وزیر اعظم آج نیب کو بھگت رہے ہیں۔
اس موقع پر نیول فارمز کے وکیل قمر افضل نے دلائل دینا شروع کیے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ پہلے یہ بتائیں نیول فارمز کی اسکیم کس قانون کے تحت بنی ہے؟ جس پر ملک قمر افضل نے کہا کہ نیول فارمز کا نیوی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ وکیل کی بات پر چیف جسٹس نے پھر استفسار کیا کہ کیا نیوی نے ان کے خلاف ان کا نام استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی؟، اس کے جواب میں قمر افضل کا کہنا تھا کہ نیوی کے افسران یہ اسکیم چلا رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیول افسر کاروبار کرسکتا ہے؟ کیا نیوی نے ان افسران کے خلاف کارروائی کی؟ اس سکیم کو چلانے کا یہ لیٹر کس نے جاری کیا ہے؟ نیوی کے پاس کیا قانون کی اتھارٹی ہے کہ وہ یہ کام کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی وردی کی عزت داؤ پر لگانے کے مترادف ہے، اس پر وکیل نے جواب دیا کہ نیوی آرڈیننس، رولز، ریگولیشنز ہیں جن کے تحت پتہ چلتا ہے نیوی نے کیسے کام کرنا ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو دلائل دیں سوچ، سمجھ کر دیں یہ اسکیم سویلین کے علاقے میں چل رہی ہے، اس عدالت نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے ایک حکم پاس کیا ہے وہ مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا عدالت اس حکم کی خلاف ورزی پر کسی با وردی افسر کو نوٹس جاری کر دے؟ یہ ذہن میں رکھیں کہ اس کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں، یہ ایک کمرشل بزنس ہے، نیوی کہہ رہی ہے کہ اس کا اس سے لینا دینا ہی نہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت میں کیا نیوی کے حاضر سروس افسران اس کاروبار کو کرسکتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button