واٹس ایپ چھوڑ کر ٹیلی گرام پر منتقل ہونا صارفین کے لیے کتنا محفوظ ہوگا؟

’صارفین آٹھ فروری تک نئی پالیسی کو قبول کریں ورنہ اپنے اکاونٹس ڈیلیٹ کر دیں.‘
واٹس ایپ کی جانب سے اس انتباہ نے دنیا بھر میں اس سوشل ایپ کے صارفین کو پریشان کر دیا ہے۔نئی پالیسی کے مطابق واٹس ایپ نہ صرف صارفین کا ڈیٹا استعمال کرے گا بلکہ اسے فیسبک کے ساتھ شیئر بھی کرے گا۔
دنیا بھر میں کئی صارفین واٹس ایپ کی اس نئی پرائیویسی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اس حوالے سے کافی رنجیدہ ہیں اور ٹیلی گرام سمیت دوسری متبادل ایپس پر منتقل ہونے کی بات کر رہے ہیں۔گیلپ کے 2019 کے سروے کے مطابق 39 فیصد پاکستانی واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں جبکہ گیلپ کے 2020 کے ایک سروے میں 26 فیصد پاکستانیوں نے اپنے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے واٹس ایپ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم بائٹس فار آل کے کنٹری ہیڈ شہزاد احمد نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ ’فیس بک واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا اشتہارات کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک سونے کی کان ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ طور پر صارفین کا ڈیٹا بیچا بھی جا سکتا ہے۔‘
واٹس ایپ کی نئی پالیسی عالمی پرائیویسی کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس حوالے سے یورپ میں زیادہ احتجاج دیکھنے کو ملے گا۔ صارفین کو ٹیلی گرام استعمال کرنے کے حوالے سے انتباہ کیا ہے کہ ’اس کے مالکان کون ہیں، آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ جب کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی جانب سے اس کے استعمال کی وجہ سے اس پر پابندی عائد رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ڈارک ویب سے بھی منسلک ہے۔‘
واٹس ایپ کی نئی متنازع پالیسی نے سعودی صارفین کو بھی بہت مایوس کیا ہے۔ کئی صارفین اب ٹیلیگرام اور سگنل کے استعمال کا سوچ رہے ہیں۔سعودی سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ فیصل ال عمران نےایک بیان میں کہا ہے کہ ’فیسبک کی ایپلی کیشنز اپنے صارفین کی بہت زیادہ نجی معلومات حاصل کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ جس کا مقصد مبینہ طور پر صارف کو بہتر مواد کی فراہمی ہے۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ اب عام صارفین میں ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ نجی ڈیٹا کے افشا ہونے کے نتائج سے زیادہ واقف ہیں۔
زیادہ تر صارفین واٹس ایپ چھوڑ کر ٹیلی گرام پر منتقل ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اس کے نمایاں فیچرز کون سے ہیں۔یہ ٹیلی گرام کا ایک ایسا منفرد فیچر ہے جو واٹس ایپ پر دستیاب نہیں ہے۔ ٹیلی گرام پر خفیہ چیٹ کا ایک الگ خانہ ہے جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی پیشکش کرتا ہے۔ٹیلی گرام اپنے صارفین کو 1.5 جی بی سے زائد فائل شیئرنگ کی اجازت دیتا ہے جو واٹس ایپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
واٹس ایپ گروپ میں آپ بہت زیادہ لوگوں کو ایڈ نہیں کر سکتے لیکن اس کے مقابلے میں ٹیلی گرام میں صارفین دو لاکھ سے زائد لوگوں کو گروپ میں ایڈ کر سکتے ہیں یا اپنا چینل بنا سکتے ہیں۔ٹیلی گرام میں جب آپ کوئی فارورڈ مسیج وصول کرتے ہیں تو اس میں اصل مسیج بھیجنے والے کا نام بھی آتا ہے جبکہ واٹس ایپ میں یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔ٹیلی گرام اپنے صارفین کو ان کا موبائل نمبر سب سے چھپانے کا آپشن دیتا ہے۔ آپ ہر کسی سے اپنا نمبر چھپا سکتے ہیں۔ واٹس ایپ میں اس کے برعکس ہے اور آپ کو نمبر ہر کسی کو ظاہر ہوتا ہے۔
ٹیلی گرام کے ان تمام منفرد فیچرز کے باوجود ماہرین کے اس کے استعمال کے حوالے سے کافی تحفظات ہیں، جو درج ذیل ہیں۔ٹیلی گرام پر چیٹس صرف اسی وقت انکرپٹیڈ ہوتی ہیں جب آپ اپنے ہر کونٹیکٹ کے لیے سیکرٹ چیٹ کے آپشن کا انتخاب کرتے ہیں۔ٹیلی گرام گروپس اور چینلز انکرپٹیڈ نہیں ہوتے۔ ٹیلی گرام گروپس اور چینلز محفوظ نہیں ہیں، ان کے ذریعے آپ کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ ٹیلی گرام آپ کی کونٹیکٹ لسٹ میں سے ان لوگوں کا ڈیٹا بھی حاصل کرتا ہے جو اسے استعمال نہیں کرتے۔
