وزیراعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی میں بھی کرونا کی تشخیص

وزیراعظم عمران خان کے بعد ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے بشریٰ بی بی کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی۔


اپنی ٹوئٹ میں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اللہ پاک وزیراعظم اور خاتون اول کو شفا عطا فرمائے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد سے وہ قرنطینہ میں ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق وزیراعظم کی طبعیت بہتر ہے اور وہ ہشاش بشاش ہیں، ان میں کورونا کی علامات بہت معمولی نوعیت کی ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ ‘عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے۔
یاد رہے کہ وائرس کی تصدیق ہونے سے دو دن قبل ہی 18 مارچ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان نے بھی کورونا وائرس کی ویکسین لگوائی تھی۔وزیر اعظم کے وائرس کا شکار ہونے کے بعد لوگوں نے ویکسین کی افادیت پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے لیکن اسد عمر نے اس حوالے سے قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو جمعرات کی شام کو کورونا ویکسین لگائے جانے کے بعد سے کچھ لوگ ویکسی نیشن کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں لیکن وزیراعظم کورونا ویکسین لگوانے سے قبل ہی وائرس سے متاثر ہوچکے تھے۔
کورونا وائرس کی تیسری لہر ملک میں تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے جس کے سبب تیزی سے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
آج ملک میں گزشتہ جولائی کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جس پر ماہرین صحت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 876 افراد کے کووڈ۔19 کے ٹیسٹ مثبت آئے جو گزشتہ 8 ماہ میں کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔اس سے قبل 2 جولائی 2020 کو ملک میں آخری بار 3ہزار 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وئرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور مثبت کیسز کا تناسب ساڑھے 4 فیصد سے بڑھ کر ساڑھے 9 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو خطرناک ہے۔معاون خصوصی برائے صحت کا کہنا تھا کہ عوام میں صحت کے مروجہ اصولوں پر عملدرآمد کے حوالے سے فقدان دیکھنے میں آ رہا ہے اور عوام اور صوبائی انتظامیہ سے اپیل کی کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس مہلک وائرس سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button