وزیر اعظم کا عالمی طاقتوں سے غریب ممالک کی مزید امداد کا مطالبہ

وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس کو عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کا مشترکہ حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو اس سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانا پڑیں گے، کرونا وباء کے دوران ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی امداد میں اضافہ کریں۔
کورونا وائرس کے بعد ترقی اور سرمایہ کاری پر اعلی سطح ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا ایک عالمی مسئلہ ہے جس نے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے، وائرس کی وجہ سے ہماری برآمدات متاثر ہوئیں اور ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثرہوئے، ترقی یافتہ ممالک مل کر اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ نائیجریا، ایتھوپیا اور مصر کو بھی ہمارے جیسے حالات کا سامنا ہے، عالمی وبا سے مشترکہ کوششوں سے ہی نمٹا جاسکتا ہے، کورونا کے خلاف جی 20 ممالک کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے جو مدد اب تک کی جا چکی ہے اس سے زیادہ مدد ہونی چاہیے جب تک اس مسئلے کو عالمی مسئلے کے طور پر حل نہیں کیا جاتا اس سے نمٹنا مشکل ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وائرس نےعالمی معیشت پر بہت برے اثرات چھوڑے لیکن ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوئے، اس وبا کی وجہ سے ہماری برآمدات متاثر ہوئیں۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے دنیا کو اقدامات کرنا پڑیں گے کیونکہ وبا عالمی مسئلہ ہے اور ہمیں مل کر مشترکہ طور پر اس کا حل نکالنا ہوگا۔
خیال رہے کہ اس اعلیٰ سطح ورچوئل اجلاس کی میزبانی کینیڈا، جمیکا کے وزرائے اعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش قرضوں کی واپسی اور مختلف مالیاتی مشکلات کو حل کرنے کے ممکنہ طریقوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو اس تقریب کیلئے دعوت ترقی پذیر ممالک کے مخلص ترجمان کے طور پر ان کے کردار اور اکثر ترقی پذیر ممالک کے قرضوں سے پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پانے کیلئے اجتماعی کوششوں کے بارے میں ان کی اپیل پر ان کے کردار کا اعتراف ہے۔
اس اعتراف کے باعث ہی پاکستان ترقی پذیر ممالک کیلئے قرضوں کی واپسی کے معالے پر قابل اعتماد ممالک کے گروپ کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کامیاب ہوا ہے جن میں دنیا کی بڑی مالیاتی قوتیں شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button