کیا ڈرونز کے دور میں پاکستان جاسوس کبوتر استعمال کر رہا ہے؟

پاکستان پر جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات لگانے کے خبط میں مبتلا بھارت کی جانب سے ایک اور پاکستانی جاسوس کبوتر پکڑنے کا دعویٰ اس وقت مذاق بن گیا جب مبینہ جاسوس کبوتر کا مالک شکر گڑھ کا حبییب اللہ بھی سامنے آ گیا اور اس نے انڈیا سے اپنا کبوتر واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
سوشل میڈیا صارفین بھارتی بے بنیاد دعوے پر مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پر ’پیجن‘ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے اور صارفین کی جانب سے پُرمزاح تبصروں اور میمز کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ انڈین حکام نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوا کے سرحدی علاقے میں ایک پاکستانی جاسوس کبوتر پکڑنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی تصاویر بھی میڈیا کو جاری کی اور کہا کہ کبوتر کو باقاعدہ جاسوسی کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ گرفتار کبوتر کے ساتھ کوڈڈ میسج بھی بھیجا گیا ہے جس کو ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’کبوتر کے اوپر گلابی رنگ کا واضح نشان اور ایک ٹانگ پر ٹیگ لگا ہوا تھا‘ جسے ’مشتبہ پاکستانی جاسوس‘ کے طور پر پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کبوتر چڈوال کے علاقے میں ایک خاتون گیتا دیوی کے گھر میں اڑ کر پہنچا تھا جنہوں نے اسے پکڑ کر بارڈر سیکیورٹی فورس کو دے دیا تھا۔ بعدازاں جاسوس کبوتر کو مزید تحقیقات کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔ پولیس نے خاتون کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ کبوتر کے ایک پیر میں ایک رنگ ہے جس پر کچھ نمبرز کنندہ ہیں۔
دوسری طرف کبوتر کا پاکستانی مالک بھی سامنے آ گیا ہے۔ کبوتر کے مالک نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کے سرحدی گاؤں بگا کے رہائشی کبوتر باز حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ نہون نے عید کے روزاپنے کبوتر اڑائے جن میں سے ایک کبوتر غلطی سے سرحد پار چلا گیا، میرے پاس کبوتر کی ملکیت کے ثبوت موجود ہیں، حبیب نے کہا کہ کبوتر کے پاؤں میں جو چھلا ہے وہ کوئی خفیہ پیغام یا کوڈ نہیں بلکہ میرا موبائل نمبر ہے جو میں ہر کبوتر کے پاؤں میں چھلے کے اندر ڈال کر باندھ دیتا ہوں تاکہ اگر کبھی وہ گم جائے تو میرے فون نمبر پر مجھ سے رابطہ کیا جاسکے۔ حبیب اللہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی میڈیا مضحکہ خیز پروپیگنڈا بند کرے، مودی میرا کبوتر واپس کرے ورنہ سرحد پر جا کر احتجاج کروں گا۔
دوسری جانب جاسوس کبوتر کو گرفتار کرنے کا بھارتی دعویٰ اس کی جگ ہنسائی کی وجہ بن گیا ہے۔ بھارتی میڈیا پر اس خبر کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے میمز بنانے، بے لاگ تبصرے کرنے اور بھارت کا مذاق اُڑانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے بھی اس ٹرینڈ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے لکھا کہ ’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بھارتی میڈیا واقعی بے وقوف ہے یا بے وقوفی کا بہانہ کرتا ہے۔
جاسوس کبوتر پر امریکی کامیڈین جریمی میکلن کے تبصرے کو بہترین قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے قومی ترانے کی دھن پر کبوتر اور اپنی ایک ویڈیو شیئر کی ہے اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ آج ہم اپنے یوم یادگار کے موقع پر ان تمام ہیرو کبوتروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ بھارت کو ٹرول کرنے میں پیش پیش امریکی کامیڈین نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ بھارت میں پکڑے جانے والا کبوتر میرا ایک ایجنٹ تھا۔
آسٹریلوی صحافی ڈینس فریڈ مین نے بھی اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میری تمام تر دعائیں اس کبوتر کے ساتھ ہیں۔
ایک صارف نے مزاحیہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میں ایک بہادر کبوتر ہوں ، پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو۔
ایک صارف نے کہا کہ ہمیں ہمارا بہادر جاسوس کبوتر واپس چاہئے، وزیر اعظم عمران خان اس حوالے سے کچھ کریں۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’بھارتی ڈرون کے دور میں کبوتر پکڑتے رہ جائیں گے۔‘
اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نامی ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انڈین خفیہ ایجسنی را کے جاسوس بھی آج کل بہت زیادہ ارطغل غازی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔
دیویکا نامی صارف کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کے پاس جاسوسی کے لیے ڈرونز ہیں لیکن پاکستان کے پاس جاسوس کبوتر، جب پاکستان کی فوج کے بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹائم ٹریول بھی کر سکتی ہے۔‘
آکاش بینرجی نامی صارف نے سکیورٹی حکام کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’مزید تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس اعلیٰ تربیت یافتہ پرندے کو انڈیا میں ’پیجن جہاد‘ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، اور اس کے قبضے سے چند نازیبا تصاویر بھی برآمد کی گئیں ہیں۔‘
جاسوس کبوتر کی گرفتاری کے دعوے پر پولیٹکل سنیاسی نامی صارف نے انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ایک کپ چائے پلا کر اس کبوتر کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان سے اڑکر بھارت جانے والے کئی کبوتروں پر بھارت کی طرف سے جاسوسی کا الزام لگا کر انھیں پکڑا جاتا رہا ہے، پاکستانی کبوتر بازشناخت کیلئے کبوتروں کے پروں پر اردومیں لکھی گئی مہرلگاتے ہیں جسے بھارتی ایجنسیاں کوئی خفیہ پیغام سمجھ لیتی ہیں، بھارت میں پکڑے جانیوالے کئی پاکستانی کبوتر تو جاسوسی کے الزام کی وجہ سے خاصی شہرت بھی پاچکے ہیں۔
سال 2015 میں بھی پاک بھارت سرحد پر پٹھان کوٹ کے علاقے میں بھارتی فوج نے ایک کبوتر پکڑا تھا جسے پاکستان کا جاسوس قرار دیا تھا۔پولیس کے مطابق کبوتر کے پاس موجود پرچی پر اردو میں درج تھا، ‘مودی ہم اب 1971 والے لوگ نہیں اب بچہ بچہ بھارت سے لڑنے کے لیے تیار ہے‘۔بعدازاں ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ پولیس نے ‘مشتبہ کبوتر کے پَر اس وجہ کاٹے گئے تاکہ وہ دوبارہ پاکستان نہ جاسکے’۔ 2017 میں بھی بھارتی پولیس نے کئی گھنٹے کی تگ و دو کے بعد ایک کبوتر کو پکڑا تھا، جس کے ساتھ مبینہ طور پر ‘5547 جانباز خان’ کا ٹیگ لگا ہوا تھا جبکہ ساتھ ایک فون نمبر بھی درج تھا۔تاہم پولیس کی لاپروائی کے باعث سرحد کی مخالف سمت سے بھارت میں ‘دراندازی’ کرنے والا جاسوس کبوتر اڑنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے مبینہ پاکستانی جاسوس کبوتر سے بھارتی حکام کیا سلوک کرتے ہیں۔
