وزیر اعظم کا گلگت بلتستان میں ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ

گلگت بلتستان حکومت نے وفاقی حکومت سے ٹمبر مافیا سے نمٹنے کےلیے منظم فورس تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔
گلگت بلتستان کی حکومت نے جنگلات کو کٹائی سے روکنے اور اور ٹمبر اسمگلنگ سے بچاؤ کےلیے فرنٹئیر کور (ایف سی) جوانوں کی تعیناتی کی درخواست کی ہے جس کی باضابطہ منظوری کےلیے وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کر دی ہے۔
کابینہ کو بھیجی جانی والی سمری کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے جنگلات کو محفوظ بنانے اور نیشنل پارکس اور وائلد لائف کے تحفظ کےلیے ’فارسٹ ایکٹ 2019‘ نافذ کیا ہے جس کے تحت جنگلات کے کٹاؤ، ٹمبر اسمگلنگ کو روکنے، ٹمبر مافیا کے خلاف کارروائی اور بڑی تعداد میں غیر قانونی لکڑی کو قبضے میں لینے کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ ٹمبر مافیا کی جانب سے فاریسٹ ایکٹ 2019 کے تحت کارروائی کرنے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت نے تین سال کےلیے ایف سی نوجوانوں پر مشتمل 4 پلاٹونز فارسٹ، پارک اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کرنے کی باضابطہ منظوری طلب کی ہے۔
خیال رہے کہ امن و امان کی صورت حال سے نمٹنے کےلیے ایف سی اہلکاروں کی 16 پلاٹونز اس وقت گلگت بلتستان میں تعینات ہیں۔
ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دیامر اور چلاس میں ہونے والی جنگلات کی کٹائی کا نوٹس لیتے ہوئے جنگلات کے تحفظ کےلیے ایف سی اہلکاروں کی خدمات محکمہ جنگلات کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کو جنگلات کے تحفظ کےلیے ایف سی اہلکاروں کی ضرورت نہیں تھی لیکن وزیراعظم عمران خان نے جنگلات کے کٹاؤ پر سخت نوٹس لیا اور اس بات پر زور دیا کہ جنگلات کو محفوظ بنانے کےلیے ایف سی اہکاروں کے سپرد کیا جائے۔ ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق ایف سی اہکار محکمہ جنگلات کی چیک پوسٹس پر تعینات کیے جائیں گے جب کہ ضرورت پڑنے پر انہیں جنگلات بھی بھیجا جا سکتا ہے، اگر ٹمبر مافیا کی سرکوبی کی ضرورت پڑے تو ایف سی اہلکاروں کو جنگلات بھی طلب کیا جائے گا۔
