وسیم اکرم ٹی وی انٹرویو کے دوران آبدیدہ کیوں ہوگئے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، معروف کمنٹیٹر وسیم اکرم ٹی وی انٹرویو کے دوران مرحوم اہلیہ کے بیماری سے انتقال پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔وسیم اکرم اور ہما مفتی کی شادی 1995 میں لاہور میں ہوئی تھی، 1996 میں دونوں کے یہاں بیٹا تیمور اور2000 میں ان کے یہاں دوسرے بیٹا اکبر کی پیدائش ہوئی جب کہ 2009 میں ہما اچانک بیمار ہونے کے بعد انتقال کرگئی تھیں، حال ہی میں وسیم اکرم میزبان فخر عالم کے پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے جس دوران میزبان نے وسیم اکرم سے ان کی پہلی اور مرحوم اہلیہ سے ہونے والی آخری گفتگو کا سوال کیا؟اس کے جواب میں وسیم اکرم نے بتایا کہ رمضان میں، میں نے ہما اور بچوں کے ساتھ وقت گزارا تھا، افطار کے بعد ہم ڈرائیو پر جاتے تھے، اس وقت بیٹا تیمور 7 اور اکبر 6 سال کا تھا جس کے بعد میں کمنٹری کیلئے چلا گیا، وہاں مجھے ہما کی کال آئی کہ دونوں بیٹوں اور میرا گلا خراب ہے، اس کے بعد بچے ٹھیک ہوگئے لیکن ہما ٹھیک نہیں ہوئی، انہیں ہسپتال میں ایڈمٹ کرلیا گیا، میں پاکستان آیا تو ہما کا پیٹ پھولنے لگ گیا تھا، وہاں ڈاکٹرز ہما کی بیماری کی تشخیص نہیں کرپائے تھے، انہیں کئی کئی اینٹی بائیوٹک انجیکشن لگائے گئے جس کے بعد ان کے گردے فیل ہوگئے۔سابق کپتان نے بتایا کہ میرے پاس اس وقت زیادہ پیسے بھی نہیں تھے کیوںکہ میں نے کرکٹ چھوڑ دی تھی، میرے پاس 48 لاکھ کیش تھا، ایک گھر تھا اور 1992میں ملا ایک پلاٹ تھا، ہما کو علاج کیلئے سنگاپور لے جانا پڑا، باہر لے جانے کیلئے ائیر ایمبولنس 70 ہزار ڈالرز میں آنا تھی، وسیم اکرم نے ہسپتال کا نام لینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ہما کا پاکستان میں علاج نہیں ہو رہا تھا، علاج کے نام پر ایک سے دوسرے ہسپتال بھیجا جا رہا تھا اور ہما شدید تکلیف میں تھی۔سابق کپتان نے بتایا کہ پیسوں کا انتظام کر کے میں نے ائیر ایمبولنس منگوائی، میں ہما کے ساتھ تھا، جب اس نے پوچھا میرے شوہر کہاں ہیں؟ میں نے ہاتھ پکڑ کر کہا میں یہی ہوں اس کے بعد وہ بیہوش ہوگئی، میں نے ایمبولینس میں ہی رونا شروع کر دیا، اس کے بعد ہماری ائیر ایمبولنس کو فیولنگ کیلئے چنئی لینڈ کرنا پڑا جہاں مجھے روتا دیکھ کر سب جمع ہوگئے اور وہاں انتظامیہ نے بغیر ویزوں کے ہما سمیت ہم سب کو ہسپتال بھجوا دیا جہاں وہ 3 سے 4 دن آئی سی یو میں رہی اور پھر انتقال کرگئیں۔دوران انٹرویو وسیم بیٹوں کو اہلیہ کے انتقال کی خبر دینے سے متعلق رو پڑے اور کہا میرے لیے دونوں بیٹوں کو والدہ کے انتقال کی خبر دینا بے حد مشکل تھا، مجھے ہما کے لفظ یاد تھے وہ کہتی تھی وسیم زندگی چلتی رہتی ہے اور پھر میں نے اپنے بچوں کیلئے اور کچھ دوستوں کی مدد سے ایک بار پھر آگے کا سفر شروع کیا۔

Back to top button