نااہلی کیس: فیصل واوڈا کو دوبارہ نوٹس جاری، جواب طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو نااہلی کی درخواست پر دوبارہ نوٹس جاری کردیا ہے، وفاقی وزیر کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا، وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور وفاقی حکومت نے آج بھی جواب جمع نہیں کرایا. اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا اخبار میں اشتہار جاری کردیں؟ یہ لوگ آئینی عدالت کو اتنا آسان کیوں لیتے ہیں؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست پرسماعت کے دوران الیکشن کمیشن اور وفاق کے نمائندے توعدالت میں پیش ہوئے تاہم عدالت میں فیصل واوڈا کی طرف سے کسی نے کیس کی پیروی نہ کی. الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا نااہلی کیس میں تحریری جواب جمع کروا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن میں بھی فیصل واوڈا کیخلاف درخواستیں زیرالتواء ہیں۔ الیکشن کمیشن کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کیلئے سندھ ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیرالتوا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 2 جون کو فیصل واوڈا کے وکیل نے درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کی، فیصل واوڈا نے موقف اپنایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت درخواستیں غیرمؤثر ہوچکی ہیں، الیکشن کمیشن نے درخواستوں پر فریقین سے جواب طلب کر رکھا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ 7 ماہ گزرنے کے باوجود فیصل واوڈا کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، یہ لوگ آئینی عدالت کو اتنا آسان کیوں لیتے ہیں؟ فیصل واوڈا کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ کیا اخبار میں اشتہار جاری کردیں؟ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی وزیرفیصل واوڈا کو نااہلی کی درخواست پر دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔
یاد رہے کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں این اے 249 سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ فیصل واوڈا کی نا اہلی کےلیے مختلف پارٹیوں کی طرف سے 4 درخواست دائرہیں۔ رواں سال جنوری میں انکشاف ہوا تھا کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت کو چھپایا تھا۔رپورٹ کے مطابق جس وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے 2018ء کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اس وقت وہ امریکی شہری تھے اور یہ کہ ان کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔11؍ جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔
واضح رہے کہ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کردیتے۔اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button