ویڈیو ذاتی معاملہ، محمد زبیر اب بھی ہمارے ترجمان ہیں

رہنما مسلم لیگ ن محمد زبیر کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز ڈٹ کر اپنے ترجمان کے ساتھ کھڑی ہو گئیں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں ویڈیو کوسابق گورنر سندھ محمد زبیر کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ میرے اور نواز شریف کے ترجمان برقرار رہیں گے۔
ماڈل ٹاؤن لاہورمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ محمد زبیر کی ویڈیو ان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس سے پارٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ویڈیو سے پہلے محمد زبیر کی بیوی اور بچوں کو دھمکیاں ملتی رہیں جس کے ان کے پاس ثبوت بھی ہیں اور انہوں نے مجھے بھی اس بارے میں بتایا تھا لیکن کسی کی بھی غیر اخلاقی ویڈیو کا سامنے آنا نامناسب ہے کیونکہ یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔مریم نواز نے کہا کہ جو لوگ سمجھ رہے تھے کہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد محمد زبیر کو ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا تو ایسی بات نہیں ہے، وہ اب بھی میرے اور نواز شریف کے ترجمان رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جہاں سب کو انصاف ملے لیکن ادھر تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، ہماری خواہش ہے کہ نوازشریف دسمبر سے پہلے وطن واپس آجائیں مگر ان کی صحت کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جنید صفدر ابھی قانون کی تعلیم حاصل کررہے ہیں جس کے بعد وہ کاروبار کریں گے کیونکہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنید صفدر ابھی سیاست میں نہیں آئیں گے، سیاست کے لیے میں اور نواز شریف ہی کافی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نواز نے کہا کہ چیئرمین نیب کا معاملہ آئین کے مطابق ہونا چاہیے اور اگر چیئرمین نیب کی توسیع کی گئی تو مسلم لیگ (ن) اپنے لائحہ عمل کا فیصلہ دے گی کیونکہ آئین کے اندر توسیع ممکن نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے پاس سازش کی ویڈیو موجود ہے۔ مجھے کوئی دھمکی نہیں دیتا، پہلے آئی تھی تو نوازشریف نے بھر پور جواب دے دیا تھا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں تو چاہتی ہوں میرے والد نوازشریف دسمبر سے پہلے آ جائیں، میں اور نواز شریف سیاست کے لیے کافی ہیں، جس نے مجھ سے لڑنا ہے وہ سیاسی طور پر لڑے۔ نواز شریف پاکستان آنے کےلئے بے تاب ہیں۔ کچھ لوگ نوازشریف کی زبان بند کرنا چاہتے ہیں۔لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ چئیرمین نیب توسیع کے بارے میں آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں سرسری ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مریم نواز نے شہباز شریف کو برطانوی عدالت کے فیصلے پر مبارکباد دی۔ملاقات کے دوران مریم کا کہنا تھا کہ مبارک ہو، اللہ نے آپ کو عالمی صادق اور امین بنا دیا۔
اُدھر مسلم لیگ ن پنجاب کے زیر اہتمام لاہور ڈویژن کا اجلاس ہوا، اجلاس کی صدارت قائد ن لیگ نے کی۔ اجلاس کے دوران رانا ثنا اللہ، مریم نواز،حمزہ شہباز شریف ،احسن اقبال ،حافظ حفیظ الرحمن، جاوید لطیف، برجیس طاہر، پرویز رشید، اویس لغاری، رانا تنویر، عطا تارڑ، مریم اورنگزیب، عظمی بخاری، رانا اقبال، وسیم اختر، ذیشان رفیق ،نزہت صادق ایم این ایز،ایم پی ایز اورپارٹی عہدیدار موجود تھے۔
پارٹی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ جنہوں نے کہا کہ نوازشریف صاحب کی سیاست ختم ہوگئی میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ نوازشریف کی سیاست ختم کرنے والے مجھے جواب دیں کہ حکومت کے چوتھے سال بھی آپکی ہر تقریر چاہے وہ آپکا جعلی وزیراعظم ہو اسکی ہر تقریر نوازشریف سے شروع ہو کر نوازشریف پہ کیوں ختم ہوتی ہے، انشاءاللہ نہ صرف اس جھوٹے انتقام کا جواب دینا پڑے گا کہ یہ کیوں لیا؟ بےگناہوں پہ الزامات کیوں لگائے؟ بلکہ ان جھوٹے الزامات کو ثابت کرنے کیلیے پاکستانی عوام کا جو اربوں روپیہ ملک کے اندر اور باہر جھونکا ہے پاکستانی قوم ایک ایک پائی کاحساب لے گی۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف صاحب نے اپنی حکومت گنوا کے وزارت عظمیٰ گنوا کے پارٹی صدارت گنوا کے خاندان کے اوپر تکالیف برداشت کر کے انہوں صرف یہ کہا میرے ووٹ کو عزت دو، میرے ایم این ایز ایم پی ایز کو عزت دو اور عوام کو عزت دو اور آج اللہ تعالیٰ نے انکو سرخرو کیا ہے۔مریم کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک ذہنی مریض کی کیفیت اختیار کرچکا ہے اس نے چاہے ایف آئی اے کو استعمال کیا، نیب کو استعمال کیا، اب وہ لوگ بھی بول اٹھے ہیں، ایف آئی اے کا سابق چیئرمین بتاتا ہے کہ مجھے اپنے آفس میں بلا کر کہتا تھے کہ شہباز شریف کو گرفتار کرو، حمزہ کو گرفتار کرو، مریم کو گرفتار کرو۔
یاد رہے کہ اتوار کی رات سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کی ویڈیوز منظر عام پر آئی تھیں جس میں مبینہ طور پر لیگی رہنما کو نامعلوم خواتین کے ساتھ نجی تعلقات قائم کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور یہ ویڈیو وائرل ہونے کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گئی تھی۔محمد زبیر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان مبینہ ویڈیوز کو ‘افسوسناک’ قرار دیتے ہوئے اسے سیاست میں ‘نئی پستی’ قرار دیا تھا۔محمد زبیر نے کہا تھا کہ انہوں نے ایمانداری، وقار اور دیانتداری کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کی ہے اور اس کی بہتری کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما محمد زبیر کسی تنازع کا شکار ہوئے ہوں بلکہ وہ رواں سال کے اوائل میں بھی ایک تنازع کا شکار ہوئے تھے۔رواں سال کے آغاز میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ محمد زبیر کی بیٹی اور داماد کو آؤٹ آف ٹرن ویکسین لگائی گئی، حالانکہ وہ ہیلتھ ورکر نہ ہی عمر رسیدہ تھے۔اس وقت محکمہ صحت کے عہدیدار نے کہا تھا کہ ویکسین لگانے والے سہولت کار کو معطل کردیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

Back to top button