پانامہ کے بعد ایک اور عالمی سکینڈل پنڈورا پیپرز کی بازگشت

دنیا بھر میں ہلچل مچانے والے پانامہ پیپرز کی طرز پر ایک اور عالمی سکینڈل سامنے لایا جا رہا ہےجس میں دنیا کی نامور شخصیات کے مالی معاملات سے متعلق کہانیاں موجود ہیں۔ پنڈورا پیپرز 1کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مبنی ہیں اور تحقیقات میں 600 سے زیادہ صحافیوں نے حصہ لیا ہے جبکہ 150 سے زیادہ میڈیا ادارے بھی ان تحقیقات کا حصہ تھے. آئی سی آئی جے اتوار کی رات گیارہ اعشاریہ 9ملین دستاویزات شائع کرے گی۔ ایک عالمی تحقیقات جو 2016 کے پاناما پیپرزکوبھی پیچھے چھوڑدے گی، اس تحقیقات میں17ممالک کے 600 صحافیوں، 150میڈیا تنظیمیوں نے حصہ لیا۔آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز کے نام سے پروجیکٹ میں 117 ممالک کی اہم شخصیات کی مالی تفصیلات شامل ہیں۔پاکستان سے عمر چیمہ اور فخر درانی نے ان کہانیوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے.اس کا مطلب ہے کہ پاکستان سے بھی نامور حکومتی شخصیات کے سکینڈل سامنے آنے والے ہیں. پنڈورا پیپرز میں کئی پاکستانی شخصیات کی مالی تفصیلات بھی شامل ہیں۔جن میں سیاستدان، بیوروکریٹس اور طاقتور شخصیات شامل ہے۔
’پنڈورا پیپرز‘ کی تحقیقات کرنے والے ادارے انٹر نیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلٹس (آئی سی آئی جے) کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ‘جلد ہر کوئی پنڈورا پیپرز کے بارے میں بات کرنے لگے گا۔ ہماری نئی تحقیق، جو کہ مالیاتی رازوں کے بارے میں اب تک کی سب سے مہنگی تحقیق ہے، اتوار کو جاری ہوگی۔ویب سائٹ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹ (آئی سی آئی جے)3اکتوبر کی رات ساڑھے 9 بجے ایک اور نئی رپورٹ جاری کرے گی، جس میں مزید ہزاروں خفیہ آف شور کمپنیوں کو سامنے لایا جائے گا۔اس نئے مالیاتی اسکینڈل میں سابق اور موجودہ عالمی رہنماؤں، نمایاں کاروباری شخصیات، فن کاروں اور اعلی عہدے داروں کی مالیاتی تفصیلات شامل ہوں گی۔
https://twitter.com/ICIJorg/status/1444338930627883011?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1444338930627883011%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2231543%2F10
صحافی عمر چیمہ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ میں اور @FrehmanD مالی امور کے حوالے سے ایک بین الاقوامی تحقیق کا حصہ تھے جو کہ اب مکمل ہو چکی ہے اس کی اشاعت کے وقت بارے جلدی بتایا جائے گا۔‘ایک دوسرے ٹویٹ میں چیمہ نے بتایا کہ پنڈورا پیپرز اتوار کی رات کو 9:30 بجے جاری ہوں گے۔
میں اور @FrehmanD مالی امور کے حوالے سے ایک بین الاقوامی تحقیق کا حصہ تھے جو کہ اب مکمل ہو چکی ہے اسکی اشاعت کے وقت بارے جلدی بتایا جائے گا
— Umar Cheema (@UmarCheema1) October 2, 2021
خیال رہے کہ رہے کہ آئی سی آئی جے کی جانب سے 2016ء میں پاناما پیپرز کے نام سے دستاویزات جاری کی گئی تھیں، جن میں دنیا بھر کی اہم شخصیات کا کالا دھن، آف شور کمپنیاں، خفیہ جائیدادیں ظاہر کی گئیں تھیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔
بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔ ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔
ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔
یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فائونڈیشنز کی تفصیلات ہیں۔ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
