پانی میں دوبے کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

پانی میں ڈبے کراچی میں عید الضحیٰ کے دوسرے روز بھی بارش جارہی ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں مزید بارشوں کی پیش گو ئی کر دی ہے۔
شہر قائد کے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آگئیں اور شہری بجلی سے محروم ہوگئے، جبکہ مختلف حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔
سندھ حکومت کی جانب سے شہر کے نالوں کی صفائی کے دعووں کے باوجو بارش کا پانی تیزی سے سڑکوں اور محلوں میں جمع ہوگیا جس نے اگست 2020 میں ہونے والی تباہ کن موسلادھار بارش کی یاد تازہ کردی۔
شہریوں کو عید الاضحیٰ کے دوسرے روز تیز بارش کے باعث سنت ابراہیمی ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا، شہر کے بیشتر علاقوں میں سیورج کا نظام بھی جواب دے گیا، ڈیفنس سمیت کئی نشیبی علاقوں میں گھروں کے اندر پانی داخل ہوگیا۔سڑکوں پر جمع ہونے والے پانی کے سبب آلائشیں اٹھانے والی بیشتر گاڑیاں خراب ہوگئیں، بارش کے پانی میں آلائشیں اور سیورج کا پانی مل جانے سے کئی علاقوں میں تعفن پھیل گیا۔
دوسری جانب شہر میں سیلابی صورتحال کے سبب پاک بحریہ نے ‘آپریشن مدد’ شروع کردیا، ترجمان پاک بحریہ نے بتایا کہ کراچی میں بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔
پاک بحریہ کی غوطہ خور ٹیم نےایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے دوران لیاری ندی میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکال لیا۔
کراچی ٹریفک پولیس کہ جانب سے کہا گیا کہ سب میرین انڈر پاس، کے پی ٹی انڈر پاس اور عبدللہ شاہ غازی انڈر پاس پانی بھر جانے کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
ادھر وزیراعظم شبہاز شریف نے ایک ٹویٹر پیغام میں کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے سبب پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے شہری انتظامیہ کو تعاون کی پیشکش کی ہے۔
انکا کہنا تھا ابھی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بات ہوئی اور کراچی میں موسلادھار بارشوں سے ہونے والے افسوسناک نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا مجھے یقین ہے کہ حکومتِ سندھ اس موقع پر فوری حرکت میں آئے گی اور وزیراعلیٰ سندھ کی باصلاحیت قیادت میں زندگی کو معمول پر لے آئے گی، میں نے انہیں ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
قبل ازیں کمشنر کراچی محمد اقبال میمن کی جانب سے جاری بیان میں شہریوں کو بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے، کراچی کے شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں اور بجلی کی کھمبوں، نالوں اور گٹروں سے بھی دور رہیں۔
ادھر سوشل میڈیا پر صارفین نے شہر میں بجلی کی طویل بندش اور سڑکوں کے ندی نالوں کی صورت اختیار کرنے کا شکوہ کیا۔اس کے علاوہ صحافی برادری کی جانب سے بھی کراچی میں بارشوں کے سبب پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کراچی نےگذشتہ 12 گھنٹو ں میں ہونے والی بارش کے اعداد شمار جاری کر دیے جس کے مطابق سب سے زیادہ بارش ڈی ایچ اے فیز ٹو میں 92.1 ملی میٹر، پی اے ایف بیس مسرور میں 91 ملی میٹر اور قائد آباد میں 76 ملی میٹر ہوئی ،اورنگی ٹاؤن میں 56.2 ملی میٹر، اولڈ ایریا ائیرپورٹ پر 43 ملی میٹر اور پی ایف بیس فیصل پر 41 پر ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کردی ہے جس کے مطابق کراچی کی جانب بڑھنے والا تیز بارشیں برسانے والا نیا سسٹم 18 یا 19 جولائی تک جاری رہے گا،شمالی بحیرہ عرب پر مسلسل کم دباؤ کی وجہ سے کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدر آباد میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق میرپورخاص، عمرکوٹ، ٹی ایم خان، ٹنڈو میں بھی وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جس کی وجہ سے کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور بدین اضلاع کے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا باعث بن سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق تیز بارشوں والا نیا سسٹم 18 سے 19 جولائی تک کراچی میں بارشیں برسائے گا، بارشوں کے نئے مضبوط سسٹم کے سبب حالیہ بارشوں سے زیادہ بارشیں برسنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ادھر ترجمان کے-الیکٹرک کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ‘ کے-الیکٹرک کی حدود میں بجلی سپلائی کا سسٹم مستحکم ہے اور شہر کے بیشتر علاقوں کو 1900 میں سے 1770 سے زائد فیڈرز سے بجلی کی فراہمی جاری ہے۔
انکا کہناتھا شہر میں اس وقت 130 فیڈرز حفاظتی نقطہ نظر کے تحت جزوی طور پر ایسے علاقوں میں بند ہیں جہاں کنڈوں کی بہتات ہے یا بارش کا پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
کراچی میں ہونیوالی موسلادھار بارش نے مزید 2 شہریوں کی جان بھی لے لی، پولیس کے بیان کے مطابق شہر کے گارڈن ایریا میں 2 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے، جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 28 سالہ عاطف اور 25 سالہ حسن کے نام سے ہوئی ہے، بیان میں کہا گیا کہ لاشوں کو سول اسپتال کراچی منتقل کردیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
خیال رہےکہ کراچی میں ایک ہفتے سے جاری مون سون بارشوں کا سلسلہ اب تک کئی شہریوں کی جانیں لے چکا ہے، جمعے کو بارش کے سبب تباہ کاریوں کے مخلتف واقعات میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ ہفتے کے روز کرنٹ لگنے سے 7 افراد انتقال کر گئے۔
