پاکستانیوں پر برطانیہ داخلے پر پابندیاں لگنے کا خطرہ

تارکین وطن ہر ترقی یاقتہ ممالک کے لئے ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے تاہم اب یورپی یونین نے پاکستانیوں کے لئے بھی اس مسئلے کو لے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے یورپی یونین نے پاکستان سمیت کئی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ’اگر وہ اپنے غیرقانونی تارکین وطن کو واپس نہیں بلائیں گے تو ان پر ویزہ پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔‘

تارکین وطن کی بات کی جائےتوصرف 2022 میں 45 ہزار سے زائد تارکین وطن مین لینڈ یورپ سے چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچے جو پچھلے سال کے ریکارڈ پر 17 ہزار سے زائد سبقت لے گیا ہے۔ سویڈین کے وزیر برائے تارکین وطن نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے درمیان اس بات پر ’اتفاق‘ ہوا ہے کہ اپنے غیرقانونی تارکین کو واپس نہ بلانے والے ممالک پر یورپ کے ویزوں سے متعلق پابندیاں لاگو کی جائیں گی۔‘اس متوقع سخت پالیسی کی جھلک یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین کی جانب سے یورپی یونین کے رکن ممالک کے رہنماؤں کو بھیجے گئے خط میں نظر آئی ہے۔ارسلا وان ڈیر لیین نے اپنے خط میں پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، مراکش، تیونس اور نائیجیریا جیسے ممالک کا ذکر کیا ہے۔ یہ خط یورپی یونین کے 9 اور 10 فروری کے اس سربراہی اجلاس سے قبل بھیجا گیا ہے جس میں اس مسئلے پر بات کی جائے گی۔

ارسلا وان ڈیر لیین نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین کے رکن ممالک رواں برس کی پہلی ششماہی میں ایک پائلٹ سکیم پر دستخط کر سکتے ہیں تاکہ اہل تارکین وطن کے لیے سکریننگ اور سیاسی پناہ کے طریقہ کار کو تیز کیا جا سکے اور جو اس کے لیے اہل نہیں ہیں، ان کی ’فوری واپسی‘ کی جا سکے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ چاہتی ہیں کہ یورپی یونین ’خطے کے محفوظ ممالک‘ کی فہرست تیار کرے اور بحیرۂ روم اور مغربی بلقان کے ان راستوں پر سرحدی نگرانی کو سخت بنائے جو تارکین وطن یورپ جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘’یورپی یونین نے پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، مراکش، تیونس اور نائیجیریا جیسے ممالک کے ساتھ تارکینِ وطن سے متعلق معاہدے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ واپسی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے ہوم افیئرز کی کمشنر یلوا جوہانسن نے کہا ہے کہ ’گزشتہ برس 10 لاکھ کے لگ بھگ سیاسی پناہ کی درخواستیں موصول ہونے کی وجہ سے کئی یورپی ممالک پر ’بہت زیادہ دباؤ‘ ہے۔انہوں نے کہا کہ روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ کے بعد 40 لاکھ یوکرینی تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے بھی یورپی ممالک مسائل کا شکار ہیں یورپی ممالک کا رخ کرنے والے افراد کی واپسی کی شرح میں بہت زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔سنہ 2021 میں تین لاکھ 40 ہزار افراد کو یورپی ممالک سے واپس جانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن ان میں صرف 21 فیصد اپنے ممالک کے لیے واپس روانہ ہوئے تھے۔ اب تک یورپی یونین نے ویزا پابندی کے اقدام کو صرف ایک ملک گیمبیا کے خلاف لاگو کیا ہے جس کے شہریوں کے لیے شینجن ویزا حاصل کرنا زیادہ مشکل اور مہنگا بنا دیا گیا ہے۔کمیشن نے 2021 میں اس طریقہ کار کو بنگلہ دیش اور عراق تک توسیع دینے کی تجویز دی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

Back to top button