پاکستان کو روس یوکرین جنگ کے منفی معاشی اثرات کا سامنا ہے

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو روس یوکرین تنازع کے معاشی اثرات کے لحاظ سے منفی نتائج کا سامنا ہے، ہمیں پورا یقین ہے کہ تمام تنازعات پرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں اور یوکرین کا تنازعہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ روس اور یوکرین تنازع سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو ’معاشی اثرات‘ کے حوالے سے منفی نتائج کا سامنا ہے، ہمیں یقین ہے کہ روسی سفارت کاری کی مضبوط روایت سے تنازع کے پرامن حل میں مدد ملے گی، مجھے خوشی ہے کہ میرا دورہ روس اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج روسی ہم منصب کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں بشمول علاقائی اور عالمی مسائل پر دوستانہ، تفصیلی اور نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے، روسی فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا پاکستان کی اہم ترجیح ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور روس کے تعلقات نہ صرف ہمارے قومی مفادات کو پورا کرتے ہیں بلکہ علاقائی، عالمی استحکام اور سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ہم روس کے ساتھ تجارت، معیشت، سلامتی، انسداد دہشت گردی، دفاع کے ساتھ ساتھ ثقافتی، تعلیمی عوام سے عوام کے رابطوں کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ برس ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان سمرکند میں نتیجہ خیز اور کامیاب ملاقات ہوئی جبکہ حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، معیشت، سائنسی اور تکنیکی تعاون کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا جس میں معیشت، تجارت اور بالخصوص توانائی کے تعاون پر وسیع تر گفتگو ہوئی تھی، افغانستان کے معاملے پر روس اور پاکستان کے درمیان بہت اچھا تعاون ہے اور ہم اپنے روسی دوستوں کے ساتھ افغانستان میں امن، استحکام اور عام مقاصد پر تعاون جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ روسی منصب کے ساتھ کثیرالجہتی فورمز خاص طور پر اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون میں دو طرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا، ہمیں پورا یقین ہے کہ تمام تنازعات پرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں اور یوکرین کا تنازعہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے، اس تنازع سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو معاشی اثرات کے حوالے سے منفی نتائج کا سامنا ہے، ہمیں یقین ہے کہ روس کی سفارت کاری کی مضبوط روایت تنازع کے پرامن حل میں مدد کرے گی۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھیں گے اور روسی فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے، مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں گے۔
