لیجنڈری کرکٹر ظہیر عباس موت کے منہ سے کیسے واپس آئے

کرکٹ کے میدان میں حریفوں کو آگے لگانے والے لیجنڈری کرکٹر ظہیر عباس کئی مہینوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد صحتیاب ہو کر پاکستان واپس آ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں ظہیر عباس دورہ دبئی کے دوران کرونا کا شکار ہوگئے تھے۔ جب وہ صحت یاب ہوکر لندن پہنچے تو نمونیہ کا شکار ہوگئے جس کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ان کا تین ماہ تک علاج ہوتا رہا۔ اب وہ صحت یاب ہونے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔

کسی بھی کھلاڑی کے لیے بستر سے لگ جانا بہت تکلیف کا باعث ہوتا ہے لیکن ظہیر عباس نے اس مشکل وقت کا بھی ویسے ہی ڈٹ کرمقابلہ کیا جس طرح وہ مشکل سے مشکل باؤلنگ کا مقابلہ کرتے تھے۔ وہ لوگوں کی دعاؤں کے اثر کو بھولے نہیں اور کہتے ہیں کہ لوگوں کی دعائیں کام آئیں۔دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی اور بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر بھی ان کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے اور ایک گھنٹے تک ان کے پاس بیٹھ کر ان کی ہمت افزائی کرتے رہے۔

سیالکوٹ کے گاؤں مظفرپور میں پیدا ہونے والے ظہیر عباس 8 سال کی عمر میں اپنے والد غلام شبیر اور والدہ کنیز فاطمہ کے ہمراہ کراچی آگئے تھے۔ ان کے والد مشہور انجنیئر تھے۔ تب کوئی جانتا بھی نہیں تھا کہ کراچی کے پاکستان کوارٹر اور جہانگیر کوارٹر کی گلیوں میں کھیلنے والا لڑکا ایک دن کرکٹ کی تاریخ میں ایک مشہور نام بن جائے گا یہ شاید خود اسے بھی نہیں پتا تھا۔ لیکن وہی بات کہ محنت تو محنت ہوتی ہے اور وہ آخر رنگ لے آئی۔ گلی کوچوں سے لے کر کالج اور کلب تک رنز کے انبار لگاتے ظہیر عباس لوگوں کی نظروں میں آنے لگے اور یوں ان کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دنیائے کرکٹ کی قسمت کا ستارہ بھی چمک اٹھا۔ پچھلے 60 سال میں جتنے بھی بلے باز پیدا ہوئے ہیں، ان میں سب سے بڑا نام ظہیر عباس کا ہے۔ کیا گریگ چیپل، مارک وا، اظہر الدین، ویو رچرڈ، روہن کنہائی، ڈیوڈ گوور اور گارفیلڈ سوبرز، ان میں سے کسی کا بھی ظہیر عباس سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔

اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران چار ڈبل سنچریاں سکور کرنے والے ظہیر عباس 100 سے زائد فرسٹ کلاس سنچریاں بنانے والے ایشیا کے پہلے اور دنیا کے دوسرے بلے باز ہیں۔ ان سے قبل یہ اعزاز صرف جیفری بائیکاٹ کے پاس تھا۔ ظہیر عباس دنیا کے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے 4 فرسٹ کلاس میچوں کے دوران ایک اننگ میں سنچری اور 2 اننگز میں ڈبل سنچریاں بنائیں اور آٹھوں اننگز میں کوئی انہیں آؤٹ نہیں کرسکا۔ ظہیر عباس نے 78 ٹیسٹ میچوں میں 12 سنچریاں اور 20 نصف سنچریاں اسکور کیں اور 44.79 کی اوسط کے ساتھ ٹیسٹ کیریئر میں 5 ہزار 62 رنز اسکور کیے۔ وہ ایک روزہ کرکٹ میں دنیا کے پہلے بلے باز ہیں جنہوں نے 3 لگاتار سنچریاں بنائیں۔

ظہیر عباس کو اگر رنز بنانے کی مشین سمجھا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے 457 فرسٹ کلاس کرکٹ میچوں میں 51.54 کی اوسط سے 34 ہزار 843 رنز اسکور کیے جو کوئی معمولی بات نہیں ہے، گورنمنٹ اسلامیہ کالج کراچی کے اس طالب علم نے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک روشن باب بھی بن گیا۔ وہ پاکستانی ٹیم کے کپتان رہنے کے علاوہ آئی سی سی کے میچ ریفری، سلیکٹر اور پاکستانی ٹیم کے منیجر بھی رہے۔ کرکٹ کی تاریخ کے اس عظیم کھلاڑی کی زندگی اس دور اور آنے والے دور کی نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ رہے گی۔

Back to top button