پاکستانیوں کے ذہنی مسائل میں ٹی وی ڈراموں کا کتنا کردار ہے؟

پاکستان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 24 ملین سے تجاوز کر گئی ہے، جن کیلئے ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرین نفسیات کی تعداد صرف 500 ہے۔پاکستان میں نجی ٹی وی اداروں کی تعداد درجنوں میں ہے جو اپنے ناظرین کے لیے خبریں نشر کرنے کے علاوہ تفریح کے لیے ڈرامے بھی نشر کرتے ہیں، ملک میں تفریحی نشریاتی شعبہ روز بروز ترقی کر رہا ہے، جس کی پیداوار میں بہت منفرد موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسے تفریحی پروگراموں اور ڈراموں کی تیاری میں ناظرین کی حساسیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا اور ماہرین اس پہلو پر مسلسل تشویش کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ملک میں کام کرنے والے ٹی وی پروڈکشن ہاؤسز منافع تو بہت کماتے ہیں لیکن ان کے تیارہ کردہ ڈراموں میں اسکرپٹ یا ریکارڈ شدہ مواد کی ایڈیٹنگ اور مانیٹرنگ پر توجہ کم ہی دی جاتی ہے اور یہ امر شائقین کی نفسیاتی صحت کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو رہا ہے۔ٹیلی وژن کی کارکردگی پر تنقیدی نظر رکھنے والی مہوش خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عورت دشمن رویے، ساس بہو کے جھگڑے، سالی، دیور یا باس کے ساتھ عشق اور تعصب تو پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں عام سی باتیں ہیں۔ماہر عمرانیات ذوالفقار راؤ نے اس موضوع پر ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”اس مسئلے کو سمجھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ڈرامہ فنون لطیفہ ہی کی ایک قسم ہے، جو انہی حقائق کا ایمان دارانہ مظہر ہوتا ہے جو معاشرے میں دیکھے جا رہے ہوں۔ اسی بات کو سمجھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر ہمارے معاشرے میں جنسی تشدد یا مثلاً اقلیتوں یا دیگر کمزور طبقات پر ظلم ہو رہا ہے، تو وہ انفرادی کہانیوں میں بھی نظر آئیں گے۔ذوالفقار راؤ نے مثالوں سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ’’ہمارے ہاں ڈراموں میں اکثر عورت کا غیرت کے نام پر قتل، عورتوں یا بچوں کو تھپڑ مارنا یا ظلم و زیادتی دکھانا اور پھر یہ تاثر دینا کہ یہ سب درگزر کیا جا سکتا ہے، یہ سراسر غلط بات ہے۔ اس سے ناظرین کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ ان میں ڈپریشن اور بے چینی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ بحریہ یونیورسٹی کے اسکول آف سائیکالوجی کی پرنسپل اور مینٹل ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر صائمہ کلثوم نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ جس قسم کی ٹی وی ڈرامہ پروڈکشن آج کل ہو رہی ہے، وہ عوام کی ذہنی صحت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔انسان کی اگر ذہنی صحت نارمل نہیں ہو گی، تو وہ تشویش اور خوف کا شکار ہو جائے گا۔ڈی ڈبلیو نے اسی موضوع پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق سربراہ اورسینئر صحافی ابصار عالم کے ساتھ بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا ’’جس طرح کی پروڈکشن اب ہو رہی ہے، اس سے عوام کی ذہنی صحت کا متاثر ہونا لازمی سے بات ہے۔پیمرا کے حوالے سے ابصار عالم کے پاس جواب بہت واضح تھا، پیمرا ایسا کچھ نہیں کر سکتی کہ مواد کیا ہے، اسکرپٹ کیا ہے؟ کیا لکھا اور بنایا جا رہا ہے؟ ان سب پہلوؤں پر پیمرا کا کوئی کنٹرول نہیں۔ اس اتھارٹی کا کام کسی سینسر بورڈ کا بھی نہیں، نہ ہی یہ ادارہ کسی ٹی وی چینل کا پروڈکشن سے متعلق داخلی طریقہ تبدیل کرا سکتا ہے، پیمرا کا کام تو اس وقت شروع ہوتا ہے، جب کوئی پروڈکشن نشر ہو چکی ہو، آن ایئر ہوتے ہوئے اگر کوئی پروگرام پیمرا کے طے کردہ قانونی تقاضوں کے منافی ہو، تو یہ اتھارٹی ایکشن لے سکتی ہے اور آج تک اس نے ایسا کئی مرتبہ کیا ہے۔
