پاکستانی طالبان کی کابل میں ہلاکت: دال میں کچھ کالا ضرور ہے

کابل کے مرکزی علاقے میں دو پاکستانی طالبان رہنماؤں کے مارے جانے کی خبر نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ افغان حکومت اسلام آباد کے ساتھ بغل میں چھری منہ میں رام رام کی پالیسی اپنانے ہوئے ہے اور پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث طالبان رہنماؤں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ ان کی فنڈنگ بھی کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ یہ دونوں طالبان 2014 میں ہونے والے پشاور آرمی پبلک اسکول دہشت گرد حملے میں مطلوب تھے جس میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم طالب علم مار دیے گئے تھے۔
چند روز پیشتر کابل میں مارے جانے والے دونوں پاکستانی طالبان کابل میں کیا کر رہے تھے اور انھیں کس نے قتل کیا یہ تاحال ایک راز ہے جس کے تانے بانے اس خطے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسند گروہوں کے باہمی تعلق سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں افراد کون تھے کم از کم یہ اب واضح ہو چکا ہے۔ پاکستانی خفیہ اداروں اور شدت پسند گروپوں کے ذرائع کے مطابق یہ دونوں افراد پاکستانی طالبان کے سینیئر رہنما تھے۔ مارے جانے والے ایک شخص کا نام شیخ خالد حقانی ہے جو کہ پاکستانی طالبان کی قیادت میں اہم مقام رکھتے تھے اور ماضی میں اس گروہ کے نائب سربراہ بھی رہ چکے تھے۔ ان پر پاکستان میں اہم سیاستدانوں پر ہونے والے حملوں اور سنہ 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ مارے جانے والے دوسرے شحص قاری سیف یونس ہے جو پاکستانی طالبان کے ایک کمانڈر تھے۔
چھ فروری کو پاکستانی طالبان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دونوں افراد کی شناخت اور ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے طالبان نے بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں۔ شدت پسندوں کے ایک ذریعے کے مطابق یہ دونوں طالبان کی مرکزی قیادت کے حکم پر کابل میں ایک ’خفیہ ملاقات‘ کے لیے موجود تھے اور بظاہر مشرقی صوبے پکتیکا سے دارالحکومت آئے تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ کس سے ملنے والے تھے۔ تاہم زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ دونوں افراد افغان انٹیلی جنس ایجنسی یعنی این ڈی ایس کے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کے لیے کابل پہنچے تھے۔ پاکستانی خفیہ اداروں کے ایک ذریعے کے مطابق ان افراد کی لاشیں انٹرکانٹینینٹل ہوٹل کابل کے قریبی علاقے سے ملیں۔ یہ وہ ہوٹل ہے جہاں حالیہ برسوں میں دو مہلک حملے ہو چکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں گذشتہ ہفتے ہوئیں لیکن تحریکِ طالبان پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدا میں قیادت نے اس خبر کو چھپانے کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق جہاں طالبان کو ان ہلاکتوں سے دھچکا پہنچا ہے وہیں وہ ان سوالات کا سامنا کرنے کو بھی تیار نہیں کہ یہ دونوں افراد کابل میں کر کیا رہے تھے۔
پاکستانی طالبان کے اہم رہنماؤں کا کابل کا سفر کرنا غیرمعمولی ہے۔ یہ گروپ افغان طالبان سے بالکل الگ ہے اور ان کے مقاصد اور حامی بھی ایک نہیں۔ افغان طالبان جہاں ملک میں امریکی قیادت میں موجود غیر ملکی افواج کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک چلا رہے ہیں وہیں پاکستانی طالبان کی کارروائیوں کا ہدف پاکستانی حکام اور تنصیبات ہیں۔ پاکستان پر ایک عرصے سے افغان طالبان کی پشت پناہی کے الزامات لگتے رہے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان نے جواباً پاکستانی طالبان سے تعلق استوار کیا ہے۔ یہ گروپ جو حالیہ برسوں میں کمزور ہوا ہے اب افغانستان کے اس مشرقی حصے میں ٹھکانہ بنائے ہوئے ہے جو حکومت کے کنٹرول میں سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان ہو یا افغانستان دونوں ہی شدت پسند گروپوں کی حمایت سے انکار کرتے ہیں۔
پاکستانی طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد کی ہلاکت امریکی فوج سے ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران ہوئی۔
امریکہ افغان طالبان سے بات کر رہا ہے اور اس کا مقصد ملک میں 18 برس سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اس کا کردار کلیدی رہا ہے۔
شدت پسندوں کے ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں سے منسلک مسلح افراد یا شدت پسند ان ہلاکتوں کے ذمہ دار ہوں۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اسی طرح افغان طالبان سے منسلک افراد پاکستان میں ہلاک کیے جاتے رہے ہیں۔ سنہ 2013 میں افغان طالبان کے ایک سینیئر رہنما اور حقانی خاندان خے اہم فرد کو اسلام آباد کے نواح میں ہلاک کیا گیا تھا۔
پاکستانی طالبان کے ذرائع کے مطابق کابل میں ہلاک کیے جانے والے دونوں طالبان کی لاشیں گروپ کے حوالے کی گئیں اور رواں ہفتے انھیں کنٹر میں ایک بڑے جنازے کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اب یہ لاشیں پاکستانی طالبان کو واپس کیسے ملیں جن کے خلاف پاکستان میں آپریشن چل رہا ہے، اس سوال کا جواب ہنوز نہیں مل سکا ہے۔ تاہم یہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ افغان حکام اور پاکستانی طالبان کے مابین کوئی ورکنگ ریلیشن شپ ضرور ہے اور کابل میں مارے جانے والے طالبان رہنما افغان حکام سے رابطے میں تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button