پاکستانی فضا 80 فیصد آبادی کیلئے خطرناک قرار

عالمی ادارے اقوام متحدہ نے دھول اور گردو غبار سے آلود پاکستان کی فضا کو 80 فیصد آبادی کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے ، 17 کروڑ 30 لاکھ افراد فضا کے ناقص معیار سے دوچار ہیں ۔
ایشیا اور پیسفک میں مٹی اور دھول کے طوفان کے خطرے کی تشخیص کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان اس خطے کا دوسرا ملک ہے جہاں آبادی ہوا کے ناقص معیار سے دوچار ہے۔
بھارت میں 50 کروڑ سے زائد، ایران میں 6 کروڑ 20 لاکھ، چین میں 4 کروڑ افراد ہوا کے ناقص معیار سے متاثر ہیں۔ تناسب کے لحاظ سے ترکمانستان ، پاکستان، ازبکستان اور ایران کی پوری آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ مٹی اوردھول کے طوفانوں کی وجہ سے درمیانے اوراعلیٰ درجے کے ہوا کے ناقص معیار سے دوچار ہے۔
اکستان میں شمسی توانائی پر مٹی اور دھول کے طوفانوں کے اثرات کا تخمینہ ہر سال 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔ جہازکے انجنوں کو مٹی یا دھول کے ذرات سے بہت خطرہ ہوتا ہے۔ کھیتوں کے بڑے علاقے ترکمانستان فصلوں کے رقبے کا 71 فیصد، پاکستان 49 فیصد اور ازبکستان (44 فیصد) میں دھول جمع ہونے سے متاثر ہوتے ہیں۔
ہمالیہ ہندوکش رینج اورتبتی سطح پر بہت زیادہ دھول جمع ہوتی ہے، جو ایشیا میں 1 ارب 30 کروڑ لوگوں کو میٹھاپانی مہیا کرتاہے۔
