پاکستانی فوجی قیادت کا دورہ سعودی عرب ناکام ہو گیا

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں آنے والی کشیدگی کو دور کرنے کا ایجنڈے لیکر سعودیہ جانے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کا مشن ناکام ہو گیا ہے۔ اس اہم ترین دورے کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو روز ریاض میں قیام کے دوران پاکستانی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہی نہیں ہو پائی۔ ایسا ماضی میں کبھی بھی نہیں ہوا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سعودی عرب جائیں اور سعودی ولی عہد سے ان کی ملاقات نہ ہو پائے۔
تاہم عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آرمی چیف کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے باہمی دفاعی معاملات کے حوالے سے سعودی فوجی قیادت سے ملاقاتیں کرنا تھا جو کہ شیڈول کے مطابق ہوئیں۔ عسکری ذرائع نے بتایا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان سے ملاقات نہ ہو پائی کیونکہ وہ اپنے علیل والد کی عیادت میں مصروف ہیں۔ تاہم شہزادہ محمد بن سلیمان کے چھوٹے بھائی اور سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلیمان نے اپنے بڑے بھائی کی ترجمانی کرتے ہوئے جنرل باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان نے اپنے چھوٹے بھائی اور نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلیمان کو تمام تر اختیارات کے ساتھ پاکستانی فوجی قیادت سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ سعودی عرب سے متعلق نہ تو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن غیر سرکاری سطح پر حکومتی ذرائع یہ دعوی کر رہے ہیں کہ پاکستانی فوجی قیادت کے دورہ سعودی عرب کے مثبت نتائج نکلے ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مزید خرابی کی طرف جانے سے رک گئے ہیں۔
دوسری طرف سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کی جانب سے پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات نہ کرنا ایک بہت معنی خیز واقعہ ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودیہ مخالف بیان کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ختم نہیں ہو پائی۔ تاہم پاکستانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کوئی کشیدگی پائی جاتی ہے تو اس کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے نہ کہ فوجی قیادت کی اس لیے یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ آرمی چیف دراصل سفارتکاری کے لیے سعودی عرب گئے تھے لیکن مشن کامیاب نہیں ہوسکا۔
دوسری طرف سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب کا واحد ایجنڈا پاک سعودیہ تعلقات میں آنے والے تناؤ کو دور کرنا تھا ورنہ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو ساتھ لے کر نہ جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب سے پہلے نہ صرف جنرل باجوہ نے بلکہ پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نے بھی اسلام آباد میں جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کیں جو کہ سعودیہ میں موجود 40 مسلم ممالک کی اتحادی افواج کے سربراہ ہیں۔ آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب سے پہلے پاکستان میں سعودی سفیر کافی متحرک نظر آئے اور انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی فوجی قیادت کے دورہ سعودی عرب سے پہلے اسلام آباد میں اس طرح کی افواہیں گرم تھیں کہ ناراض سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی فراغت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع نے جنرل باجوہ کے دورہ سعودی عرب سے پہلے ہی اس امکان کو سختی سے رد کر دیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کسی بھی صورت اپنے وزیر خارجہ کو گھر بھجوائیں گے خصوصا جب انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی اور صرف سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کی مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
دوسری طرف پاکستان میں سعودی سفارتی ذرائع نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ انکی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات بہت عجیب لگی کہ جس روز ریاض میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ شہزادہ بن سلیمان سے ملاقات تھی اسی روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں قطر کے سفیر سے ایک لمبی ملاقات کی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور قطر ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔ تاہم سعودی سفارتی ذرائع نے اس بات کی تردید کی کہ شاہ محمود قریشی کی قطر کے سفیر سے ملاقات کے ردعمل میں پاکستانی فوجی قیادت کی ریاض میں سعودی ولی عہد سے ملاقات نہیں ہو پائی۔
جب اسلام آباد میں سفارتی ذرائع سے آرمی چیف اور سعودی ولی عہد کے مابین ملاقات نہ ہو سکنے کی وجہ پوچھی گئی تو انکا کہنا تھا کہ شاید جنرل باجوہ کے پاس معاملات میں بہتری کی خاطر پیش کیے گئے سعودی مطالبات پورے کرنے کا مینڈیٹ نہیں تھا اسی لئے ان کی شہزادہ خالد بن سلیمان سے ملاقات کے بعد ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ اب شہزادہ محمد بن سلیمان کو پاکستانی فوجی قیادت سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں پاکستانی آرمی چیف کو سعودیہ پہنچنے پر ہمیشہ سعودی بادشاہ کے بھائی جیسا پروٹوکول دیا جاتا رہا ہے۔
پاک سعودی تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے دورہ ریاض کے دوران ملاقات نہ کر کے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان سے اپنی سخت ترین ناراضی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ سعودی عرب کی ناراضی کی بنیادی وجہ پاکستان کی جانب سے ایک نیا عالمی بلاک تشکیل دینا ہے جس میں چین، ترکی اور ایران کو شامل کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ اور سعودی عرب سے فاصلہ اختیار کیا جارہا ہے۔ تاہم پاکستان کا یہ مؤقف ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب دونوں نے بھارت کی خاطر پاکستان سے فاصلے پیدا کیے جس کے نتیجے میں پاکستان کو نئے اتحادی بنانا پڑھ رہے ہیں۔
لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان سے ناراضی کی بنیادی وجہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے دیا جانے والا ایک سخت بیان بنا۔ یاد رہے کہ ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب اسلامی ممالک کی تعاون کی تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کرتا تو پاکستان اس تنظیم کے متوازی ایک اور تنظیم کا اجلاس طلب کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو بچانے کے لیے سعودی عرب نے کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کی بجائے انڈیا کا ساتھ دیا ہے۔ یہی وہ بیان تھا جس کے بعد پاکستان میں ان افواہوں نے جنم لیا کہ سعودی عرب نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے شاہ محمود قریشی کی قربانی مانگ لی ہے۔
