کرونا سے پاکستان میں امریکا اور یورپ سے بھی بدتر حالات ہوسکتے ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان میں امریکا اور مغربی یورپ سے بھی بری صورت حال ہو سکتی ہے۔ وفاقی حکومت صحت کے شعبے میں رقم مہیا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ وفاقی حکومت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سست روی سے فیصلے کر رہی ہے اور لاک ڈاﺅن سے متعلق بھی کوئی ٹھوس فیصلہ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آہستہ آہستہ کورونا وائرس سے تباہی کے طرف بڑھنے کا خطرہ ہے جہاں اس سے اموات مغربی ممالک میں اموات کی سطح تک پہنچ گئی ہیں اور خطرناک طور پر کم وسائل والے ہسپتالوں کو وائرس کے خلاف کھڑا کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘وبا کے خلاف پاکستان کے اب تک کے ردعمل کو جامع لاک ڈاؤن کے معاملے پر وفاق کی طرف سے پاؤں کھینچنے اور صحت کے کمزور نظام میں رقم خرچ کرنے کے لیے تیار دکھائی نہ دینے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔’پاکستان میں کورونا وائرس کے 5 ہزار 230 کیسز میں سے اب تک 93 اموات ہوچکی ہیں، تاہم ماہرین کو خدشہ ہے یہ 21 کروڑ سے زائد آبادی والے غریب ملک میں یہ کورونا وائرس کا آغاز ہے۔
کراچی میں اپنے دفتر سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ‘لوگوں کی سلامتی سے متعلق یقینی طور پر غلط سوچ پائی جاتی ہے اور یہ ہم اس بحران کے آغاز سے ہی دیکھ رہے ہیں۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے سائنس، حقیقت اور بین الاقوامی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے اسے نظر انداز کرنے کی سوچ دیکھی ہے، جو بروقت اور ضروری اقدامات اٹھانے میں ہمارے راستے کی رکاوٹ ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو ان کی جانب سے یہ کہنے پر خصوصی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ پاکستان اس کی معاشی صورتحال کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ تاہم اس کے باوجود صوبوں کے آزادانہ فیصلوں کے باعث ملک میں دی فیکٹو لاک ڈاؤن ہے، لیکن معیشت کو روز بروز نقصان پہنچنے کی وجہ سے حکام پر پابندیوں میں نرمی کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سندھ میں سامنے آیا تھا جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جس نے گزشتہ ماہ صوبے میں لاک ڈاؤن کردیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس حوالے سے کہا کہ صوبے کے صحت کے مشیروں، ماہرین تعلیم اور دیگر ماہرین نے ملک بھر میں سخت اقدامات کی سفارش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم معیشت کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں لیکن لوگوں کو زندہ نہیں کر سکتے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم صرف اچھے کی امید رکھیں اور بُرے کی تیاری نہ کریں تو اس طرح پاکستان آہستہ آہستہ تباہ کن صورتحال کی طرف جارہا ہے اور میں واقعی نتائج سے خوفزدہ ہوں۔’چیئرمین پیپلز پارٹی نے ملک کے طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان کی کمی، انتہائی نگہداشت کے مریضوں کے لیے بستروں کی قلت اور ملک کے صحت کے نظام کو درپیش دیگر مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صورتحال امریکا یا مغربی یورپ سے بھی بدتر ہوسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button