پاکستان امریکہ کے درمیان روابط کا تسلسل دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاک امریکہ روابط کا تسلسل دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے۔

عاصم افتخار نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے مسلسل روابط برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسی سلسلسے میں امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین دوطرفہ تعلقات اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کے لیے پاکستان پہنچی ہیں۔

انھوں‌ نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے قریبی اور مسلسل رابطے ہمیشہ مشترکہ طور پر فائدہ مند اور جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے جانے کے بعد پاک امریکہ تعلقات انتہائی ابتری کا شکار ہوئے ہیں جبکہ نومنتخب صدر پاکستان سے رابطہ کرنے پر تذبذب کا شکار ہوئے ہیں‌۔

امریکی صدر جوبائیڈن اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ نہ ہونے سے باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچ رہی ہے تاہم واشنگٹن نے صرف افغانستان میں مفادات کے لیے پاکستان سے روابط کا چینل کھلا رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وینڈی شرمن نے زلزلہ کے متاثرین سے اظہار تعزیت بھی کیا ہے۔

عاصم افتخار نے ہفتہ واہ بریفنگ کے دوران کہا کہ ‘پاکستان، امریکا کے ساتھ دونوں ممالک کی خود مختاری اور سیاسی آزادی کے مفاد میں بامقصد، متوازن اور وسیع البنیاد تعلقات چاہتا ہے اور اس تعلق کو افغانستان کے نقطہ نظر سے دور رہنا چاہئے۔

انھوں‌ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں سامنے آنے والی پیشرفت نے دونوں ممالک کے درمیان خلا کو وسیع کیا ، پاکستان کو افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جوکہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ اگرچہ کانگریس مباحثے کے دوران قانون سازوں اور ماہرین کی جانب سے اس طرح کے بیانات امریکا کے سرکاری مؤقف کی عکاسی نہیں کرتے تاہم یہ تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے تعلقات کی ضرورت ہے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہوں اور ان کے متعدد مشترکہ مفادات ہیں۔وینڈی شرمین کی اسلام آباد میں ملاقاتوں کے دوران فریقین دوطرقہ تعلقات اور علاقائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے تمام امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔وینڈی شرمین، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کریں گی جبکہ ان کی وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

Back to top button