نیب نے تین سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی

نیب نے موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی تین سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

نیب کے ترجمان نے نئے آرڈیننس پر ردعمل دیتے ہوئے بتایا کہ نیب ہمیشہ قانون کے مطابق کام کرنے پر یقین رکھتا ہے اور آرڈیننس کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنے کو ترجیح دے گا۔ماہرین کا خیال ہے کہ آرڈیننس میں کچھ نیا نہیں ، یہ صرف جاوید اقبال کی چیئرمین شپ کو طول دینے کیلئے کیا گیا۔دوسری جانب نیب ہیڈکوارٹرز نے تین سالوں میں ہونے والی تحقیقات، ریفرنسز، عدالتی احکامات اور ریکوریز کا خلاصہ پیش کر دیا ہے۔

رپورٹ میں تفصیلی طور پر بتایا گیا کہ چیئرمین نیب نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں نیب کے تمام ریجنل بیوروز کی مجموعی کارکردگی بالخصوص چیئرمین نیب کے موجودہ دور (اکتوبر 2017 سے 7 اکتوبر 2021) کے دوران سنائے گئے فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے کہا گیا ہے۔

ڈی جی آپریشن ظاہر شاہ نے بتایا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی احتساب عدالتوں کی جانب سے 2021 میں ستمبر تک 11 ملزمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں ، اسی طرح 2020 میں 13، 2019 میں 9 اور 2018 میں 21 نامزد ملزمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رواں برس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کی مختلف احتساب عدالتوں نے 21 ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں ، اسی طرح دیگر عدالتوں نے 2020 میں 21، 2019 میں 25 اور 2018 میں 8 افراد کو سزائیں سنائیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ بیورو نے اکتوبر 2017 سے 7 اکتوبر 2021 تک کرپٹ عناصر سے 539 ارب روپے وصول کیے جو پچھلے سالوں کے حوالے سے ریکارڈ کامیابی ہے ، نیب کی انسداد بدعنوانی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی اور اسے معروف قومی و بین الاقوامی تنظیموں نے سراہا۔

نئے آرڈیننس کی چند اہم شقوں میں سابق چیئرمین نیب کا دوبارہ تقرر، وفاقی/صوبائی کابینہ اور تمام حکومتی فورسز کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہ آنا شامل ہیں۔

Back to top button