جونئیر جرنیل کو آرمی چیف بنانا مہلک کیوں ثابت ہو گا؟

https://youtu.be/WxTTm5y2h8Q
معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اگلا آرمی چیف بنانے کی افواہوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیض حمید اگلے سال نومبر میں جرنیلوں کی سینارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہوں گے لیکن اگر اس کے باوجود انہیں ابھی سے فوج کا نیا سربراہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تو اس سے پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر شدید بے چینی پیدا ہونے کا امکان ہے اور یہ فیصلہ ملک کے لیے مہلک ثابت ہو گا۔ انکا کہنا ہے کہ کسی ایسے جنرل کو فوج کا سربراہ بنانا جس کے بارے میں پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت شدید تر تحفظات رکھتی ہے، الیکشن 2023 کے ساکھ کے بارے میں قبل از وقت شبہات کو تقویت دے گا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں اگر نواز شریف اور مریم نواز کے الزامات بے بنیاد بھی ہیں تو بھی اپنے پروفیشنل کیرئیر میں سنگین الزامات کا شکار ہونے والے کسی جرنیل کو فوج کا سربراہ بنانے سے اس قومی ادارے کی ساکھ اور ملکی سیاسی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ افواج پاکستان میں جو تازہ تقرریاں اور تبادلے کیے گئے ہیں ان میں بعض اہم ترین کور کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ تاہم آئی ایس آئی کے سربراہ کی تبدیلی کو میڈیس میں سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ پاکستانی میڈیا نے اسی خبر کو ذیادہ نمایاں طور سے شائع اور نشر کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ اب لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو اہم ترین خفیہ ادارے کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ خبر بھی نہایت دلچسپی سے سنی گئی کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو پشاور کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ ان تقرریوں کا اعلان اگرچہ 6 اکتوبر کو کیا گیا ہے لیکن لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے کی خبر گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہوچکی تھی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس اہم خبر کو جان بوجھ کر وقت سے پہلے ’لیک‘ کردیا گیا یا ’فیک نیوز‘ پھیلانے والے سوشلمیڈیا عناصر اپنے طور پر کہیں سے یہ خبر نکال لائے جو اب درست ثابت ہوگئی ہے۔
وجاہت مسعود کے مطابق اس خبر کا یہ پہلو بھی اہم ہے کہ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اہم ترین ساتھی تصور کیا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر کافی عرصہ سے یہ قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ انہیں نومبر 2022 جنرل باجوہ کی توسیع ختم ہونے پر فوج کا نیا سربراہ بنایا جائے گا۔ جنرل فیض حمید کے حوالے سے عمران خان بھی اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ آئی ایس آئی کی سربراہی کے بعد انہیں پشاور کور کی کمان سونپنے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ پاک فوج کی روایت رہی ہے کہ کسی ایسے جنرل کو ہی آرمی چیف کے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے جو کسی کور کی کمان کرچکا ہو۔ اس حوالے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کور کمانڈر بننے کو اہمیت دی جارہی ہے۔ وجاہت مسعود کے مطابق فیض حمید کو آئی ایس آئی کا سربراہ بننے سے پہلے ہی تب خبروں میں نمایاں جگہ ملنا شروع ہوگئی تھی جب نومبر 2017 میں تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنا کو ختم کروانے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے کروائے جانے والے معاہدے میں انہوں نے بطور ’ضامن‘ دستخط کئے تھے۔ بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسی کے لکھے گئے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں فیض آباد دھرنے میں فوجی افسران کے کردار پر تشویش ظاہر کی گئی تھی اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا کہا گیا تھا۔ اس فیصلہ کے خلاف پی ٹی آئی حکومت کی نظر ثانی کی اپیل پر اب ابھی تک سماعت نہیں ہو پائی البتہ اس کیس اہم ترین کی سماعت کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس دوران اپنے خلاف دائرکیا گیا نااہلی کا ایک ریفرنس بھگت چکے ہیں۔
وجاہت یاد دلاتے ہیں کہ فیض آباد دھرنے میں اپنے متنازعہ کردار کے باوجود فیض حمید کو جون 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیاگیا تھا۔ اس سے پہلے وہ اسی ادارے میں کاؤنٹر انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔ رواں برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی برطرفی کے خلاف اپیل کے دوران عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں دعوی کیا تھا کہ جنرل فیض حمید ان کے گھر آئے اور ان سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب عدالت سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کے بارے میں دریافت کیا۔ شوکت صدیقی نے انہیں جواب دیا کہ ’جب آپ قانونی معاملے سے پوری طرح آگاہ ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں‘؟ شوکت صدیقی کے مطابق اس پر جنرل فیض نے کہا کہ ’اگر یہ اپیلیں آپ کے پاس زیر سماعت ہوتیں تو آپ کیا فیصلہ کرتے؟‘ شوکت صدیقی نے جواب دیا کہ ’بطور جج مین نے جو حلف لیا ہے اس کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔‘ عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویز کے مطابق ’اس پر جنرل فیض حمید نے ایک دم کہا کہ اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔
اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حال ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’جب فرد واحد ادارے کے پیچھے چھپتا ہے تو کیا وہ ادارے کے وقار میں اضافے کا باعث بنتا ہے‘۔ مریم نواز نے الزام لگایا کہ ’آپ الیکشن چوری کرتے ہیں، جوڑ توڑ کرتے ہیں، مسلم لیگ( ن) کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لہازا جب افراد اداروں کی آڑ میں ایسی حرکتیں کریں گے تو پھر اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھیں گے اور اس کے لیے مشکل پیدا ہوگی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل نواز شریف بھی آرمی چیف کے علاوہ جنرل فیض حمید پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ان حالات میں جرنیلوں کی سینارٹی کو نظر انداز کرکے کسی جونئیر کو اعلیٰ ترین فوجی عہدے پر ترقی دینا یا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع کرنے سے فوجی کمانڈرز کے مورال پر بھی منفی اثر مرتب ہوتا ہے۔ اس روایت کو ترک کرکے فوج میں صرف سینارٹی کی بنیاد پر ترقی کا اصول وضع ہونا چاہئے تاکہ سازشیں تلاش کرنے کا سلسلہ بند ہوسکے۔ انکا۔کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اگر ابھی سے اس بارے دوٹوک اعلان کردیں تو سیاست کے حوالے سے فوج پر غیر ضروری فوکس ختم ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک سال بعد جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانے کا اعلان کیا گیا تو یہ ملک و قوم کے لیے ایک مہلک فیصلہ ثابت ہوگا۔ ایسے فیصلے سے یہ قیاس یقین میں تبدیل ہوجائے گا کہ بعض فوجی افسران کسی بھی قیمت پر پاکستانی سیاست کو اپنی مرضی و منشا سے چلانا چاہتے ہیں اور عمران خان ان کا مہرہ بنے ہوئے ہیں۔
