سٹیٹ بینک کی نئی پالیسی ڈالر کو نیچے کیوں نہیں لا پائے گی؟

https://youtu.be/MXV8NXzc4_0
ڈالر کی بڑھتی اور روپے کی گرتی ہوئی قیمت کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیر ملکی کرنسی کی بیرون ملک سمگلنگ روکنے کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے ہیں جن کے مطابق افغانستان سفر کرنے والوں صرف ایک ہزار ڈالر کیش لے جانے کی اجازت ہو گی جبکہ اس کی سالانہ حد چھ ہزار ڈالر تک مقرر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے پانچ ہزار ڈالر تک لے جانے کی حد مقرر تھی جسے اب کم کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس حکومتی فیصلے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کی نئی پالیسی سے ڈالر کی قیمت میں خاص کمی نہیں آ سکتی کیونکہ اس وقت پاکستان سے افغانستان ہونے والے آمدورفت کافی کم ہے جس سے ڈالر کی قیمت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

سٹیٹ بینک کے نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 500 اور اس سے زائد کے مساوی تمام بیرونی کرنسی کی فروخت کی ٹرانزیکشنز اور بیرون ملک بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے لیے ایکسچینج کمپنیوں کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کرنا لازمی ہوگا۔ اسی طرح ایکسچینج کمپنیاں 10 ہزار امریکی ڈالر اور اس سے زائد کے مساوی نقد بیرونی کرنسی کی فروخت اور بیرونی ملک ترسیلات زر بھیجنے کا عمل صرف چیک بک کے ذریعے وصول ہونے والی رقوم کے عوض یا بینکاری چیلنجز کے ذریعے کرسکیں گی۔

اردو نیوز کے مطابق سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا یے کہ ان نئی شرائط کو 22 اکتوبر 2021 سے لاگو کیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پاکستان کی جانب سے نئے قوانین لانے کے بعد کیا واقعی لین دین میں شفافیت ممکن ہو پائے گی ؟ اس بارے پشاور میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کمیٹی کے چیئرمین اور چیمبر آف کامرس کے سابق نائب صدر شاہد حسین کہتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی کرنسی کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط سے کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے بیرونی کرنسی کی فروخت کی ڈاکومینٹیشن بہتر ہوگی اور غیرملکی کرنسی کی سمگلنگ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

شاہد نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کا روٹ سینٹرل ایشیا میں تجارت کے تیسرے نمبر پر تھا لیکن جب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں خرابی آئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر بھی اثر پڑا ہے۔ اب پاکستان سے افغانستان کو بہت کم اشیا کی تجارت ہوتی ہے لیکن افغانستان سے پاکستان اشیا لانے کا عمل قدرے بہتر ہے، اس تجارت کے لیے پاک افغان طورخم سرحد نہ صرف افغانستان بلکہ سینٹرل ایشیا کے دیگر ممالک میں تجارت کے لیے مرکزی گیٹ وے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر تجارت کے حوالے سے لائحہ عمل تیار نہیں کیا جاتا تب تک تجارت بھی ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان سمیت دیگر سینٹرل ایشیا کے ممالک اس حوالے افغانستان میں موجودہ حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر تجارت کے لیے راہ ہموار کریں۔

شاہد حسین نے اسٹیٹ بینک کی غیر ملکی کرنسی کے حوالے سے نئے قوانین کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 178 روپے تک پہنچ گئی تھی لیکن نئی پالیسی لانے کے بعد تین دنوں کے اندر ڈالر 176 تک آ گیا ہے لیکن اس کے نتائج دور رس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں روپے کی قیمت کو مستحکم کرنا ہے تو حکومت کو چاہئے کہ افغانستان کے لیے درآمدات اور برآمدت کے حجم کو بڑھایا جائے۔افغانستان کے ساتھ بارڈرز پر پہلے سے آمدورفت بہت کم ہے اگر ایسے میں کوئی مقررہ حد کے اندر ڈالر ساتھ لے جائے تو روپے کی قیمت کے استحکام میں کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ انکا کہنا تھا کہ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی آپس میں تجارت کو فروغ ملے۔

اس حوالے سے ماہر معیشت ڈاکٹر عبدالجلیل نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی یہ پالیسی بلکل غلط ہے۔ اکثر حکومتیں شارٹ ٹرم میں کوئی ایسی پالیسی بناتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے کافی مسائل پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغان ٹرانزیکشن کے پیچھے حکومت اور اسٹیٹ بینک اپنی غلطیاں چھپا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں صاف معلوم ہونا چاہئے کہ کل کتنی ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں اور عوام کو بھی اس سے باخبر رکھنا چاہئے لیکن ٹرانزیکشن اتنی بھی زیادہ نہیں ہو رہی جتنا یہ سمجھ رہے ہیں۔ڈاکٹر عبدالجلیل نے بتایا کہ عوام کو تو پتا نہیں اور اسی وجہ سے مصنوعی خرید و فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پشاور میں 15 سال سے کرنسی کے کاروبار سے وابستہ ایک تاجر نے آئی ایم ایف کو ملک میں امریکی ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ قرار دہتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی سمگلنگ اتنی نہیں ہوتی جس سے روپے کی قیمت میں کمی ہو سکے۔انھوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف جب پاکستان کو قرضہ فراہم کرتا ہے تو اس کے بدلے بعض شرائط بھی رکھتا ہے مثلاً ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قیمت گرانے کے ساتھ پیٹرول، بجلی، گیس و دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہوتا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف پاکستان کو قرض کی ادائیگی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قرض کی واپسی کے لیے بھی آئی ایم ایف پہلے سے راہیں تلاش کرتا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کے ساتھ روپے کی قیمت بھی گر جاتی ہے۔اسٹیٹ بینک کی نئی پالیسی سے ڈالر کی قیمت میں خاص کمی نہیں آ سکتی کیونکہ موجودہ وقت میں پاکستان سے افغانستان آمدورفت کافی کم ہے جس سے ڈالر کی قیمت اس حد تک کم نہیں ہوسکتی ہے۔

Back to top button