فیض حمید کی اچانک تبدیلی کی اصل وجہ کیا تھی؟

https://youtu.be/OMP79dzwq_Y
باخبر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دو سالہ عہدے کی معیاد تو چند ماہ پہلے پوری ہو چکی تھی لیکن وزیراعظم نے انہیں اپریل 2022 تک اس عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم عسکری قیادت نے عمران خان کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔ فوجی ذرائع کا خیال ہے کہ فیض حمید سیاسی طور پر بہت زیادہ متنازعہ ہو چکے تھے اور ان پر سیاسی قیادت کی جانب سے ہونے والی شدید تنقید سے ادارے کی ساکھ مجروح ہونے کا بھی خطرہ تھا لہذا انہیں ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر آرمی چیف جنرل باجوہ اور وزیراعظم عمران خان ایک صفحے پر نہیں تھے۔ بالآخر جب وزیراعظم نے فیض حمید کو ٹرانسفر کرنے پر اتفاق کر بھی لیا تو نئے آئی ایس آئی سربراہ کے نام پر بھی آرمی چیف اور وزیراعظم میں اختلاف تھا۔ اسی لئے فیض حمید کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹانے کے دو گھنٹے بعد نئے سربراہ کا اعلان ہو پایا اور وزیر اعظم کو آرمی چیف کے تجویز کردہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے نام پر اتفاق کرنا پڑا۔
یاد رہے کہ آئین کے تحت آئی ایس آئی چیف کی تقرری وزیراعظم کرتے ہیں لیکن لیکن اس میں ہمیشہ آرمی چیف کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف ایسے شخص کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنانا چاہتے تھے جو فیض حمید کی طرح ضرورت سے زیادہ سیاسی نہ ہو، جب کہ وزیراعظم ایسا شخص لانا چاہتے تھے جو ان کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے۔ خیال رہے کہ فیض حمید کو آئی ایس آئی کا سربراہ ہونے کے باوجود وزیر اعظم کا بندہ شمار کیا جاتا تھا اور اسی لیے ان کا نام اگلے آرمی چیف کے طور پر بھی لیا جا رہا ہے۔
آئی ایس آئی کا سربراہ ویسے ہی وزیراعظم کو جواب دہ ہوتا ہے جیسے بعض دیگر سرکاری اداروں کے سربراہ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بعض معاملات اور بعض مخصوص حالات میں آئی ایس آئی چیف اپنے باس یعنی وزیر اعظم سے زیادہ اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود ایک طویل عرصہ فوجی اور سویلین عہدوں پر کام کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود سمجھتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی وزیراعظم ہی کا استحقاق ہے۔
انکا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہی آئی ایس آئی کے سربراہ کو تعینات کرنے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ ادارے کے طور پر آئی ایس آئی وزیراعظم ہی کے ماتحت ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس تقرری میں فوجی سربراہ کی رائے بھی شامل ہوتی ہے۔ لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے۔ فوج کے جس افسر کو آئی ایس آئی میں تعینات کیا جاتا ہے، وہ کسی بھی دوسرے فوجی کی طرح بّری فوج کے سربراہ کی زیرِ کمان ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی دوسرے سویلین ادارے کی طرح، آئی ایس آئی میں تعیناتی سے قبل فوجی سربراہ کی مرضی ضروری ہوتی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود اس تعیناتی میں فوجی سربراہ کی رائے کو ایک اور وجہ سے بھی اہم سمجھتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جن تین نائبین کے ذریعے اپنا ادارہ چلاتے ہیں وہ سب فوجی جنرلز ہوتے ہیں اور بّری فوج کے سربراہ ان کا براہِ راست تقرر کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ آئی ایس آئی اپنے کمانڈ سٹرکچر کی حد تک فوجی ادارے کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے سویلین افراد بھی ہوتے ہیں لیکن کلیدی عہدوں پر فوجی افسران ہی تعینات کیے جاتے ہیں۔ یہ تو ہوا اصول کا معاملہ لیکن اب یہ جانتے ہیں کہ اصل میں کیا ہوتا ہے؟ بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستانی سول حکومت کے دور میں بھی کم ہی ایسا ہوا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی میں وزیر اعظم اپنی من مانی کر پایا ہو۔ یعنی بّری فوج کے سربراہ کی مرضی کے خلاف کسی فوجی افسر کو آئی ایس آئی کا سربراہ تعینات کر دیا ہو۔ اور ندیم احمد انجم کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں وزیر اعظم نواز شریف نے لیفٹینٹ جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف کی مرضی کے بغیر آئی ایس آئی چیف تعینات کیا تھا لیکن یہ تجربہ ناکام ہوا تھا اور بالآخر ضیاء الدین بٹ اور نواز شریف دونوں گرفتار ہوئے۔ اسی طرح بےنظیر بھٹو نے بھی لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) شمس الرحمٰن کلو کو آرمی چیف کی مرضی کے بغیر آئی ایس آئی کا سربراہ لگایا تھا لیکن یہ تجربہ بھی ناکام ہوا۔ چنانچہ آئی ایس آئی کی چیف کی تعیناتی بھی اب بعض دیگر حساس دفاعی معاملات کا حصہ بن چکی ہے جن پر فوجی اور سول قیادت میں اتفاق رائے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ تعیناتی غیر متنازع بنانے کے لیے بّری فوج کے سربراہ چند افسران کی فہرست وزیراعظم کو ان کی خواہش پر ارسال کرتے ہیں۔ وزیراعظم گو کہ پابند نہیں ہوتا کہ انھی میں سے کسی ایک افسر کو آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر چنے، لیکن عمومی طور پر ہوتا یہی ہے کہ قرعۂ فال اسی فہرست میں شامل کسی افسر کے نام نکلتا ہے۔
ان معاملات سے باخبر دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفیٰ کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی سربراہ کسی ایک فریق نہیں بلکہ ریاست کے ادارے کا رکن ہوتا ہے، اس پر سیاست سے پرہیز ہی بہتر ہے اور شاید نئی تقرری میں یہی سوچ غالب آئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ہم نے پتہ نہیں کیوں یہ سمجھنا شروع کر دیا ہے فلاں میرا بندہ ہے اور فلاں اس کا بندہ ہے۔ اس کو پولیس میں لگا دو، اسے آئی ایس آئی میں۔ اگر ہمیں اپنے قومی اداروں کی تعمیر کرنی ہے تو ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہو گا۔
یاد رہے کہ آئی ایس آئی ملک کا طاقتور ترین انٹیلی جنس ادارہ ہے۔ اس کے اختیارات اور مالی وسائل کتنے ہیں، اس کا بالکل درست اندازہ تو اس کے سربراہ کے علاوہ شاید ہی کسی اور شخصیت کو ہو۔ ایسے میں بعض مبصرین کی نظر میں یہ بحث کچھ عرصے بعد بےمعنی ہو جاتی ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو کس نے منتخب کیا تھا، فوجی سربراہ یا وزیراعظم نے۔ کیونکہ بالآخر اپنی بیشتر پالیسیاں بنانے میں یہ ادارہ خودمختار سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا رہا ہے کہ خارجہ محاذ پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کی بنائی ہوئی پالیسیوں پر کام جاری رہے گا جبکہ اندرونی محاذ پر سیاسی پالیسیوں میں تبدیلی آنے کا امکان ہے۔
