پاکستان سے دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ

امریکہ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ، امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گی جہاں وہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گی۔
سوئٹزرلینڈ میں میڈیا سے گفتگو میں وینڈی شرمین نے کہا کہ ہم دونوں ممالک دہشت گردی کے ناسور سے بری طرح متاثر ہوئے اور ہم ہر قسم کی علاقائی اور عالمی دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کی کوششوں میں تعاون کے خواہش مند ہیں۔امریکی نائب وزیر خارجہ سوئٹزرلینڈ سے انڈیا اور ازبکستان جائیں گی جہاں سے وہ پاکستان پہنچیں گی۔
اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں حکام عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کی جانب توجہ دلاتے ہیں اور اس دوران حملوں میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کرتے ہیں تاہم ملک کو امریکہ و مغربی ملکوں کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے کہ وہ ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا جو پڑوسی ملک میں حملے کرتے ہیں۔ وینڈی شرمین نے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تمام طبقات پر مشتمل حکومت بنانے کے مطالبے کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے پاکستان کو انتہائی اہم کردار ادا کرتے دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ ممکن ہو سکے۔
خیال رہے کہ جمعے کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے کچھ گروپوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔عالمی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’دراصل پاکستانی طالبان کے کچھ گروپس امن اور مفاہمت کے لیے پاکستان کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی کچھ گروپوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔
قبل ازیں پاکستان کے صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر ٹی ٹی پی ہتھیار ڈال دے تو حکومت اس کے ارکان کو عام معافی دینے کے لیے تیار ہے۔
بشکریہ :اردو نیوز
