پاکستان مزید ایک ماہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہے گا

پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ 16 سے 21 فروری کو ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں ہو گا. فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستانی حکام کو ٹھوس سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں 18 رکنی وفد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے علاقائی طور پر منسلک ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ بیجنگ میں 3 روزہ اجلاس کے بعد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ حماد اظہر اور دیگر سینئر حکام منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت سے متعلق وزیراعظم عمران خان اور نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو بریفنگ دیں گے اور ایف اے ٹی ایف کے 39 رکن ممالک کے لیے موثر سفارتی مشن کے لیے زور دیں گے۔ اس حوالے سے بیجنگ سے واپس پہنچنے والی ٹیم کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ اس وقت یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مشترکہ ورکنگ گروپ نے اپنی پوزیشن کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے علیحدہ ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ابھی کسی چیز سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا لیکن وفد نے گروپ کے اراکین کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور پاکستان کا کیس موثر طریقے سے پیش کیا‘۔ ایک اور عہدیدار نے کہا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ کے اراکین نے 27 نکاتی ایکشن پلان کے اکثر نکات پر تسلی بخش پیش رفت سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ ان تمام 39 رکن ممالک کو اپنی رپورٹ بھیجنے کے لیے یکم فروری تک اسے حتمی شکل دے گا جو 16 سے 21 فروری کے درمیان پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
واضح رہے کہ غیر معمولی طور پر بھارتی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ بیجنگ اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام خارج کیے جانے کا امکان ہے۔ بھارتی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ بڑی طاقتوں جیسا کہ امریکا، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا، چین اور نیوزی لینڈ نے پاکستان کی کارکردگی سے متعلق کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان نے ایک مضبوط کیس پیش کیا۔ ادھر ذرائع کا کہنا تھا کہ بیجنگ اجلاس میں ادارہ جاتی کارکردگی، قانون سازی، خطرے کی تشخیص، بین الایجنسی تعاون کی بنیاد پر 6 سو 50 صفحات کا مضبوط کیس پیش کیا گیا۔
دوسری طرف بین الاقوامی فورم ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے31 مارچ تک عمل درآمد کے لیے مزید وقت دے دیا ہے، میوچیول ایولیوایشن کااجلاس اگست میں ہوگا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو عمل درآمد سے متعلق سہ ماہی رپورٹ 31 مارچ سے پہلے جمع کرانا ہوگی۔ میوچیول ایولیوایشن کا فروری میں ہونے والےاجلاس سے کوئی تعلق نہیں ہے، فروری میں ہونے والا اجلاس27نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد پر ہوگا۔ ذرائع کے مطابق میوچیول ایولیوایشن کااجلاس اگست میں ہوگا، ایولیوایشن پر وزارت خزانہ، قانون،آئی کیپ کو مزید متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزارت خزانہ ریئل اسٹیٹ اور سناروں کے لیے ریگولیشن بنائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت قانون وکلا کے لیے ریگولیشن بہتر کرے گا، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنس چارٹرڈ اکاؤنٹنس کے لیےریگولیشن بنائے گا۔ وزارت مواصلات اور ایس ای سی پی کو بھی مزید متحرک کیا جائے گا، پاکستان پوسٹل انشورنس کو باضابطہ طور پر کمپنی بنایا جائے گا، پاکستان پوسٹل انشورنس کو70کروڑ کی انشورنس کمپنی میں بدل دیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے مطابق قوانین میں ترامیم کی جائیں گی، قوانین میں ترامیم کے لیے مسودہ قانون پہلے ہی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بیجنگ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اورٹیرر فنانسنگ کے خلاف کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان نےایف اے ٹی ایف حکام کو گزشتہ ساڑھے چار ماہ کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
خیال رہے کہ 16 سے 21 فروری کے اجلاس میں اے پی جی اور ایف اے ٹی ایف نظرثانی کے لیے پاکستان کا کیس پیش کریں گے، پاکستان کو اپنا دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ عمل تقریباً مکمل ہے۔ بہرحال پاکستان سے ایک وفد ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ یہاں یہ مدنظر رہے کہ چین نے عوامی سطح پر پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف نظام کو مضبوط بنانے میں واضح پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور عالمی برداری سے اس کی کارکردگی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف ’ اسٹریٹیجیک کمی‘ کے بعد گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ بھارت نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کا کہا تھا جس کی حمایت امریکا، برطانیہ اور کچھ یورپی ممالک نے کی تھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button