کورونا وائرس: چین میں پاکستانی شہری شدید پریشانی کا شکار

چین سے پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کا دائرہ وسیع ہوتے ہوئے دنیا کے کئی ممالک تک پہنچ چکا ہے اور مختلف حکومتوں نے چین میں وائرس سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے اپنے شہریوں کی مدد کے لیے احتیاطی تدابیر پر کام شروع کردیا ہے، تاہم چین میں موجود پاکستانی شہری خصوصا 500 طلبا اب تک مدد کے منتظر ہیں۔ ووہان میں پھنسے ہوئے ایک یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ انہوں نے چین میں پاکستانی سفارتخانے سے مدد کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن اب تک مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ طالب علم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں موجود دیگر پاکستانی سٹوڈنٹس بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
دوسری طرف باقی ملکوں کے سفارتخانوں نے ووہان میں موجود اپنے طلبہ کا ڈیٹا اکھٹا کر کے انہیں وہاں سے نکالنا شروع کر دیا یے۔ واضح رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے دنیا بھر میں 44 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 1400 افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
حکومت پاکستان نے بھی اس وائرس کے حوالے وارننگ جاری کر دی ہے۔ تاہم ابھی تک چین میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے ووھان میں پھنسے شہریوں اور طلبہ کو بحفاظت نکالنے کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکا۔
ووھان کی یونیورسٹی کے پاکستانی طالبعلم عبدالرحمن کے مطابق کرونا وائرس کی وبا سے ووہان میں لاک ڈاؤن کو چار دن ہوگئے ہیں اور اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ طالبعلم کا کہنا تھا کہ اب تو ہم اپنے کمروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے کمروں میں بھی جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ان کے پاس اپنی حفاظت کے لیے ماسکس ہیں نہ ہی کھانا باقی بچا ہے۔ ایک خوف کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ میرے والدین پریشان ہیں۔ عبدالرحمٰن نے بتایا کہ چین میں پہلے سے ہی نئے قمری سال کے سبب بیشتر دکانیں اور کاروبار جنوری 24 سے 30، 31 تک بند رہنے تھے۔ اور جو کھلی تھیں وہ 20 جنوری سے کرونا وائرس کی وبا پھیلنے سے بند ہونا شروع ہوگئیں۔
اس بارے میں جب چین میں موجود پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان سے اب تک چین میں رہنے والے کسی پاکستانی نے رابطہ نہیں کیا ہے۔ چین میں پاکستانی سفارتخانے میں کمیونیٹی اینڈ ویلفئیر کے شعبے سے منسلک ایک سینئیر افسر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر مدد مانگنے کے لیے فون نمبرز جاری کردئیے ہیں اور کسی کو کوئی مسئلہ ہو تو بتائیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر کسی پاکستانی کے رابطہ کرنے پر وہ مدد کیسے فراہم کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ان سے رابطہ کرے گا تو وہ اس کی مدد کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ووہان میں راستے بند ہیں لیکن انہوں نے چینی حکام کو ویزا کے مسائل حل کرنے کے لیے خط بھی لکھا ہے۔
دوسری طرف پاکستانی دفترِ خارجہ نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ عائشہ فاروق کے مطابق چین میں 28 ہزار پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ 800 تاجر چین میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ایک ہزار پانچ سو وہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ووہان میں 500 کے قریب پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ چینی افراد تو نکل کر گاڑیوں میں اپنے مقامی علاقوں میں پہنچ گئے ہیں لیکن پاکستانی طلبہ کے لیے تو ان کی ڈورمیٹری ہی سب کچھ ہے۔
