مہلک کورونا وائرس چین سے پاکستان پہنچ گیا

چین میں ہلاکتیں پھیلانے اور دنیا میں خوف کا سبب بننے والا مہلک کورونا وائرس پاکستان پہنچ گیا ہے، کورونا وائرس کے شکار سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے ایک چینی باشندے کو ملتان کے نشتر ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جہاں اسے آئیسو لیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے جبکہ مزید تجزیہ کیلئے اس کے بلڈ سیمپلزلیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ چینی باشندے میں کرونا وائرس کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ یہ مہلک وائرس پاکستان پہنچ چکا ہے۔
چین کے صوبے ہوبئی کے شہر ووہان سے چمگادڑ کے سوپ اور زندہ چوہے کھانے سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے اس وقت تک سینکڑوں افراد متاثر ہو چکے ہیں، ووہان کی مارکیٹ سے ملنے والی چمگادڑ کی ایک قسم فروٹ بیٹ کے ذریعے تیزی سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ کرونا نامی وائرس چینی شہر ووہان سے پھیلانا شروع ہوا تھا جس سے اب تک سینکڑوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس سے 41 سے زائد افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ ووہان شہر سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے شہر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ووہان سے اڑنے والے جہازوں اور چلنے والی ٹرینوں کو بھی روک دیا گیا ہے۔ وائرس سے اب تک 41 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 95 کی حالت تشویشناک ہے۔ جبکہ سینکڑوں افراد کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ چینی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نئے قمری سال کی مناسبت سے ہونے والی تقریبات بھی منسوخ کر دی ہیں۔
’کرونا‘ سے جہاں کئی دیگر ممالک کے شہری متاثر ہو رہے ہیں وہیں پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ چینی مریض سامنے آ گیا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر عطا کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے شبے میں چینی شخص کو نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے 40 سالہ فینگ فین کو شدید بخار کی حالت میں انڈسٹریل اسٹیٹ ملتان میں موجود چائنیز کیمپ سے نشتر اسپتال لایا گیا۔ چینی شخص 21 جنوری کو چین کے شہر ووہان سے براستہ دبئی ،کراچی سے ملتان پہنچا تھا۔
ذرائع کے مطابق دنیا کی صرف چند لیبارٹریز میں اس وائرس کی تشخیص ممکن ہے ۔ وائرس کی تصدیق کیلئےامریکا میں سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے علاوہ چین اور ہالینڈ میں کچھ لیبارٹریز موجود ہیں۔ اس لئے کورونا وائرس کے مشتبہ چینی مریض کے نمونے تصدیق کے لیے ان ممالک کو بھیجے جائیں گے۔ محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس متاثرہ جانور یا حاصل شدہ غذا سے انسان کو منتقل ہوتا ہے اور یہ کورونا وائرس پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ دنیا میں کورونا وائرس کی ویکسین تاحال دستیاب نہیں تاہم اس سے بچاؤ کا واحد حل بروقت احتیاطی تدابیر ہیں۔ کورونا وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، کھانسی، سینے میں گھٹن اور سانس لینے میں مشکلات پیش آنا شامل ہیں۔،
پاکستان کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے وزارت صحت کی طرف سے مربوط اور موثر اقدامات کے دعوے کئے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس سے عوام کو بچانے کے لیے اسلام آباد سمیت تمام بڑے ائیرپورٹس پر اسکریننگ کاؤنٹرز قائم کر دئیے ہیں اور چین سے آنے والے تمام مسافروں کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔ تاہم ملتان میں سامنے آنے والے کرونا وائرس کے متاثرہ مریض نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button