پشاور ہائیکورٹ کا ایف آئی اے کو بی آر ٹی کی جلد تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

وزیر اعظم عمران خان کیلئے ہر گزرتے دن کے ساتھ پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں. اتحادی ناراض ہو گئے، پارٹی میں بغاوت سر اٹھانے لگی اب تازہ مشکل یہ آن پری ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات جلد مکمل کرنے اور رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کرانے کے لئے خط لکھ دیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو بی آر ٹی کی تحقیقات 45 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی اور 45 دن کا وقت مکمل ہو چکا ہے۔ذرائع کے مطابق رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ آفس کی جانب سے ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 45 دن کا وقت مکمل ہو چکا ہے اور ایک ہفتے میں رپورٹ تیار کر کے ہائیکورٹ میں جمع کی جائے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو بی آر ٹی کی 35 مختلف پوائنٹس کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ اس میں بی آر ٹی پراجیکٹ سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تحریری فیصلے میں سوال کیا گیا ہے کہ ٹرانس پشاور کے سی ای او درانی کو عہدہ سے کیوں ہٹایا گیا؟ پی ٹی آئی حکومت نے ویژن اور منصوبہ بندی کے بغیر منصوبہ شروع کیا، کیا منصوبے کے لیے اتنا بڑا قرضہ لینے کی ضرورت تھی؟ بی آر ٹی کے قرضہ سے صوبے کی معاشی خوشحالی بھی ممکن تھی، عدالتی فیصلے کےمطابق بی آر ٹی منصوبہ 6 ماہ کی مدت میں مکمل ہونا تھا، تاہم سیاسی اعلانات کے باعث بی آر ٹی تاخیر کا شکار ہوا اور لاگت بھی بڑھی۔ پی ٹی آئی حکومت نے بی آر ٹی کو فیس سیونگ کے لیے شروع کیا۔
بی آر ٹی فی کلومیٹر لاگت 2 ارب 42 کروڑ، 70 لاکھ روپے ہے جو کہ بہت زیادہ ہے، ناقص منصوبہ بندی کے باعث منصوبے کی لاگت میں 35 فیصد کا اضافہ ہوا۔ منصوبے میں بدانتظامی کے باعث 3 پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو ہٹایا گیا، منصوبے کے پی سی ون میں غیر متعلقہ اسٹاف کے لیے بھی پرکشش تنخواہیں رکھی گئیں جبکہ اے سی ایس اور وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی ادائیگی کی گئی عدالت نے ایف آئی اے کو ذمہ داروں کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔
یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے ایف آئی اے کو پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ(بی آر ٹی) منصوبے کی تحقیقات کا حکم دینے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے منصوبے کی تحقیقات رکوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کررکھا ہے.
واضح رہے کہ پشاور میں ٹرانسپورٹ کا منصوبہ بی آر ٹی تحریک انصاف کے گزشتہ دورِ حکومت میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں شروع ہوا جو کئی تاریخوں کے باوجود تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ اکتوبر 2017 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کو کے پی حکومت نے چھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 49 ارب روپے لگایا گیا جو اب 66 ارب روپے سے تجاوز کر چکاہے. اپوزیشن کی طرف بی آر ٹی پشاور بارے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے.
