پیمرا کا کنٹرول کن نادیدہ قوتوں کے ہاتھ میں ہے؟

کیا وزیراعظم عمران خان کی طرح پیمرا کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں اور اس کے ایما پر بھی فیصلے کوئی اور طاقت کرتی ہے۔ دراصل اس سوال میں ہی جواب چھپا ہے۔ جی ہاں یہ سچ ہے۔ پیمرا اپنے فیصلے خود نہیں کرتا بلکہ اس سے من مرضی کے فیصلے کروائے جاتے ہیں۔
پیمرا یا پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے دائرہ کار میں ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیو اور کیبل آپریٹرز آتے ہیں لیکن حقیقت میں پیمرا کے تمام بڑے فیصلے غیر مرئی قوتیں کرتی ہیں۔ کسی ٹی وی چینل کی نشریات بند کرنی ہوں، کسی چینل کو جرمانہ کرنا ہو، کوئی پروگرام بند کروانا ہو، یا کسی چینل کا نمبر آگے پیچھے کرنا ہو، یہ تمام فیصلے اصل میں کرتا کوئی اور ہے لیکن سامنے پیمرا کو رکھا جاتا ہے۔ اب آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ یہ غیر مرئی قوتیں کون ہیں جو پیمرا کو چلارہی ہیں۔ تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ پیمرا کو راولپنڈی والے چلاتے ہیں یعنی بھائی لوگ۔
جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان خود سے کوئی فیصلہ نہیں لیتے بلکہ فیصلے کر کے انہیں بتا دئیے جاتے ہیں، اسی طرح پیمرا بھی خود سے کوئی فیصلہ نہیں لیتا، بلکہ نادیدہ اور پراسرار قوتیں جیسا چاہتی ہیں ویسا کر گزرتی ہیں، تاہم ذمہ داری کا طوق پیمرا کے گلے میں ڈلتا ہے جس کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی جاتی ہے۔
دراصل پیمرا جیسے ادارے کو تشکیل دینے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کیا جائے۔ لہذا اسے کسی بھی ٹی وی چینل کے لائسنس کو منسوخ کرنے اور نشریات کو بند کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا جو کہ یہ ماضی میں نادیدہ قوتوں کے ایما پر بڑی کامیابی سے استعمال کرتا رہا ہے۔ یاد رہے کہ 2014 میں سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد جیو ٹی وی کو 72 روز کے لئے بند کر دیا گیا تھا جس سے اسے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
آج بھی بھائی لوگ پیمرا کو مختلف ٹی وی چینلز کی آرم ٹوسٹنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ جب پیمرا کے فیصلوں کو چینلز کی جانب سے کسی عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے تو 99فیصد فیصلے پیمرا کے خلاف آتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فیصلے قانون کے دائرے میں رہ کر نہیں لیے جاتے بلکہ ایک ایجنڈے کے تحت صادر کیے جاتے ہیں لہذا ان کی حیثیت غیر قانونی ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پیمرا کو اندھا دھند الیکٹرونک میڈیا کے خلاف استعمال کیا گیا اور صورتحال اس حد تک خراب ہوگئی تھی کہ آئی ایس پی آر کے دفتر سے جاری ہونے والے احکامات بھی پیمرا سرکاری طور پر جاری کرتا تھا۔ تاہم کپتان حکومت کی ہر محاذ پر ناکامی اور خصوصا آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ کھڑا ہونے کے بعد سے بھائی لوگ تھوڑا پیچھے ہٹ گئے ہیں اور میڈیا کو حکومت پر تنقید کی قدرے آزادی حاصل ہو چکی ہے۔
