پاکستان میں عام انتخابات کے دوران پہلی بار کیا کچھ ہو رہا ہے؟

پاکستان میں جب جب انتخابات ہوئے ہر مرتبہ کچھ نہ کچھ نیا سامنے آیا۔ آج بھی بہت سی چیزیں اور اقدامات پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں اور قومی سطح پر نئی روایات قائم ہوئی ہے۔
انتخابات اگر قومی اسمبلی کی تحلیل کی مدت مکمل ہونے کے مطابق منعقد ہوتے تو نومبر 2023 میں ان کا ہونا ناگزیر تھا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا اور انتخابات تین کے بجائے چھ ماہ بعد ہو رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں وفاق کی سطح پر طویل ترین نگراں حکومت چھ ماہ سے زائد عرصے تک قائم رہی۔
صرف یہی نہیں بلکہ صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جنوری میں اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 9 اپریل 2023 کو انتخابات ہونا طے پائے تھے لیکن دونوں صوبوں میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس حوالے سے دائر ہونے والی درخواستوں کے فیصلے میں 14 مئی کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کا حکم دیا لیکن الیکشن کمیشن نے اس پر بھی عمل درآمد نہ کیا۔
اس طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگراں حکومت کا دورانیہ ایک سال سے بھی زائد بنتا ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین عرصہ ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں سے وہ جماعت جو 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وفاق اور دو صوبوں میں حکمران جماعت بنی لیکن 2024 کے انتخابات میں اس کے پاس انتخابی نشان موجود نہیں ہے۔
ماضی میں سینٹ انتخابات میں تو اس کی مثال ملتی ہے کہ جب 2018 میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں سے شیر کا نشان واپس لے لیا گیا لیکن عام انتخابات میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ کسی سیاسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان واپس لیا گیا ہو۔

Back to top button