پاکستان کےانتخابات پر بین الاقوامی میڈیا کی بھرپورکوریج

پاکستان میں آج 12ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جس کی کوریج نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی کی جا رہی ہے۔
اس رپورٹ میں انڈپینڈنٹ اردو نے چند بین الاقوامی اخبارات اور چینلز کی اس الیکشن کے حوالے سے ہونے والی کوریج کو رپورٹ کیا ہے۔
امریکی چینل سی این این کی نیوز ویب سائٹ پر پاکستانی انتخابات کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا کہ ’پاکستان میں جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں لاکھوں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔‘
سی این این نے مقدمات کا سامنا کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’ان انتخابات میں سیاسی خاندان ایک ایسے رہنما کا سامنا کر رہے ہیں جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود ہے جبکہ شدت پسندوں کے جان لیوا حملے بھی جاری ہیں۔
سی این این نے ملک میں سکیورٹی صورت حال پر رپورٹ کیا کہ ’بدھ کو شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں دو دھماکوں میں 30 افراد جان سے گئے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے منگل کو ایک بیان میں پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ’مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات‘ کو یقینی بنائیں۔
معاشی معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے بین الاقوامی جریدے ’بلوم برگ‘ نے پاکستانی انتخابات کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے دوران ملک بھر میں موبائل سروس بند کر دی گئی۔‘
برطانوی جریدے ’دی انڈپینڈنٹ‘ میں چھپنے والے آرٹیکل میں پاکستان میں عام انتخابات کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ ’پاکستان میں سہہ طرفہ کشیدہ دوڑ کا آغاز ہو رہا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان بیلٹ پیپر پر نہیں ہوں گے اور ان کی جماعت آزاد امیدواروں کی حمایت کرنے پر مجبور ہے۔‘
دی انڈپینڈنٹ کے مطابق: ’اس صورت حال میں مسلم لیگ ن کے جیتنے کے امکانات ہیں۔‘
اس دوڑ میں شامل تیسرے فریق 35 سالہ بلاول بھٹو زرداری ہیں جو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں۔‘
برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے پاکستانی انتخابات پر مرتب رپورٹ میں کہا کہ ’پاکستان میں 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹر اپنا ووٹ ڈالیں گے، جن میں تقریباً نصف 35 سال سے کم عمر ہیں۔انتخابات میں پانچ ہزار سے زیادہ امیدوار شریک ہیں، جن میں سے 313 خواتین بھی شامل ہیں۔
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بڑی جماعتیں تو قرار دیا ہے لیکن اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دینا مشکل بنا دیا گیا کیونکہ اسے اپنے انتخابی نشان ’بلے‘ کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق: ’پاکستان میں 40 فیصد سے زائد عوام پڑھ نہیں سکتی، اسی لیے یہاں انتخابی نشان ووٹ ڈالنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘
دنیا بھر کے ممالک کے میڈیا کی طرح انڈین میڈیا بھی پاکستانی انتخابات پر لائیو رپورٹنگ کر رہا ہے۔
انڈین نیوز ویب سائٹ ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق: ’پاکستان میں انتخابی عمل کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔‘
ایک اور انڈین نیوز ویب سائٹ ’انڈیا ٹوڈے‘ نے پاکستان میں عام انتخابات پر رپورٹ کیا کہ ’پاکستان میں انتخابات کے دوران موبائل سروس کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی بتائی گئی ہے۔‘
انڈیا ٹوڈے کے مطابق: ’سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے حامیوں کو کہا ہے کہ وہ نتائج کے انتظار تک پولنگ سٹیشنز کے باہر انتظاہر کریں۔‘
خارجہ پالیسی کے ماہر امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان میں انتخابات کے دن موبائل سروس کی بندش کے حوالے سے لکھا کہ ’الیکشن ڈے کا پریشان کن آغاز۔
