پاکستان کے سائبر سکیورٹی ادارے کس طرح ناکام ہوئے؟

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے وفاقی وزرا کی گفتگو کی کچھ آڈیوز لیک ہونے اور کچھ کے ڈارک ویب پر برائے فروخت ہونے کے دعوے کے بعد پاکستان کی سائبر سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے علاوہ اُن تمام اداروں کی اہلیت پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں جو وزیر اعظم ہاؤس سمیت اہم سرکاری عمارتوں کی سائبر سکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔پاکستان میں سیاسی یا سرکاری شخصیات کی ویڈیوز اور آڈیوز لیک ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں لیکن حالیہ واقعہ اس نوعیت سے منفرد ہے کیونکہ اس سے پہلے کسی وزیر اعظم یا اہم شخصیات کی آڈیوز یا ویڈیوز ڈارک ویب پر لیک ہوئیں اور نہ ہی اُن کی فروخت کے لیے بولی لگائی گئی۔ ان آڈیوز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کی ہیں تاہم حکومت اس بارے میں تصدیق سے قبل معاملے کی تحقیقات کے نتائج کی منتظر دکھائی دیتی ہے۔
یہ دعوی ٰٹوئٹر پر اوپن سورس انٹیلی جنس انسائیڈر نامی اکاؤنٹ سے کیا گیا جس کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل یہ آڈیوز 100 گھنٹوں سے بھی زیادہ طویل دورانیے کے ریکارڈ شدہ اس ڈیٹا کا حصہ ہیں جس کی خریداری کے لیے بنیادی قیمت تین لاکھ 45 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے۔اوپن سورس انٹیلی جنس انسائیڈر کا دعویٰ ہے کہ یہ فون پر ہونے والی گفتگو نہیں بلکہ پی ایم آفس میں ریکارڈ کی گئی گفتگو ہے۔
حکومت کی جانب سے اس معاملے پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے لیکن یہ تحقیقات کن سوالات کا احاطہ کرے گی، اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ وفاقی وزير داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی انکوائری شروع ہو چکی ہے اور اگر وزیرِ اعظم ہاؤس میں جاسوسی کی غرض سے کوئی ڈیوائس فٹ ہوئی تھی تو یہ ایک ’حساس معاملہ‘ ہو گا۔ جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’پی ایم ہاؤس میں کوئی آلہ فٹ ہونے سے متعلق انکوائری میں ہی معلوم ہو گا، نتیجہ آنے تک کسی بات کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم انکوائری ایسی ٹیم سے چاہتے ہیں جس میں تمام ایجنسیوں کے اعلیٰ سطح کے لوگ شامل ہوں۔ تاہم وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان آڈیوز سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وزيراعظم ہاؤس کی سکیورٹی بریچ ہوئی ہے، یہ طے نہیں کہ یہ گفتگو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہوئی یا ہو سکتا ہے کسی اور جگہ ہوئی ہو۔‘ دوسری جانب وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس معاملے پر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں حساس اداروں کا ایک نمائندہ بھی شامل ہو گا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس ٹیم کے پاس یہ بھی اختیار ہو گا کہ وزیر اعظم ہاؤس کی سکیورٹی پر مامور سول حساس ادارے کے ڈائریکٹوریٹ کو بھی شامل تفتیش لا سکتے ہیں جبکہ اہلکار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس اور سیکریٹریٹ میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران تعینات سپیشل برانچ کے اہلکاروں سے بھی تحقیقات ہوں گی۔
تاہم اس معاملے میں کسی بھی عمارت سے زیادہ اہم وہ شخصیات ہیں جن کی مبینہ گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ہے اور اسے فروخت کے لیے ڈارک ویب پر پیش کیا گیا۔سائبر سکیورٹی کے ماہر شہزاد احمد کا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ پیسوں کا نہیں لگتا اور نہ ہی کسی مخصوص پارٹی، جماعت یا کسی ایک ادارے کی حد تک مخصوص ہے۔ یہ پاکستان کو بطور ریاست شرمندہ کرنے کا معاملہ ہے، جس کے لیے ہر سیاسی جماعت اور حساس اداروں سمیت ہر پاکستانی کو فکرمند ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ انٹرنیٹ کی عام دنیا سے پرے ایک ایسی آن لائن دنیا بھی موجود ہے جسے ‘ڈارک ویب’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا گمنام عالمی انٹرنیٹ نظام ہے جسے تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے اور اس کی یہی خصوصیت اسے سیاسی کارکنوں سے لے کر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد تک سب میں مقبول بناتی ہے۔انٹرنیٹ کی اس ‘بلیک مارکیٹ’ میں صرف معلومات ہی نہیں بلکہ جعلی پاسپورٹس، ہتھیار، منشیات اور فحش مواد سب کچھ میسر ہے۔ ڈارک ویب دراصل دنیا بھر میں موجود ایسے کمپیوٹر صارفین کا نیٹ ورک ہے جن کا ماننا ہے کہ انٹرنیٹ کو کسی قانون کا پابند نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نظر رکھنی چاہیے۔ کسی صارف کی ڈارک ویب تک رسائی کا دارومدار اس کے پاس موجود پِیئر ٹو پِیئر فائل شیئرنگ ٹیکنالوجی کے سافٹ ویئرز پر ہوتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر صارفین اور ڈارک ویب کی ویب سائٹس کی لوکیشن کو بدلنے کے کام آتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ خفیہ ریکارڈنگ کرتا کون ہے؟یہ وہ اہم سوال ہے جو ماضی میں بھی پاکستان کے سیاست دانوں اور دیگر اہم شخصیات کی جانب سے پوچھا جاتا رہا ہے اور آج بھی پوچھا جا رہا ہے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہر شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں سیاسی شخصیات کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی بات کی جائے تو سب سے پہلے فون کالز ریکارڈ کرنے کی باقاعدہ شکایت سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی جانب سے کی گئی تھی۔
تاہم تقریباً ہر دور حکومت میں یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ آخر فون کالز کی مبینہ ٹیپنگ یا آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ کرتا کون ہے اور یہ کیوں کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی مختلف ایجنسیز ہیں جن کے اپنے اپنے اہداف ہوتے ہیں اور وہ اُن کی اپنے اپنے حساب سے نگرانی کرتے ہیں۔ قانونی طور پر ‘سول ایکسچینجز’ کو مانیٹر کرنے کا اختیار صرف آئی بی کے پاس ہے اور کسی اور ادارے کے پاس ایسا کرنے کا حق نہیں ہے اور یہ بھی صرف وزیر اعظم کی اجازت کے ساتھ ہی ممکن ہوتا ہے اور یہی قانون ہے۔ شہزاد کے مطابق بعض اوقات چیزیں بہت تیزی سے ہوتی ہیں اور کبھی کبھی صورتحال ایسے بھی ہو جاتی ہے کہ روزمرہ کے واقعات پر آئی بی کا ڈائریکٹر جنرل خود فیصلہ کر لیتا ہے تاہم اس کی توثیق وزیراعظم ہی کرتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں بظاہر خود وزیراعظم، ان کے وزرا اور قریبی ساتھی ہی اس عمل کا نشانہ بنے ہیں۔
شہزاد احمد کے مطابق اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ممکنات کی بات کی جائے تو یہ ممکن ہے کہ کسی اہم شخصیت کا فون ہیک کیا گیا ہو جس میں لوکیشن کی مدد سے فون میں موجود ہاٹ مائیک کو صارف کی مرضی کے بغیر استعمال کیا گیا ہو اور مبینہ گفتگو کی تفصیلات حاصل کی گئی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ویسے بھی زیادہ تر لوگ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں اور اگر اس کا محفوظ استعمال یقینی نہ بنایا جائے تو ڈیٹا لیک ہونے کا احتمال بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی نے یہ باتیں ریکارڈ کی ہوں مگر نیت یہ نہ ہو کہ ان ریکاڈنگز کو ڈارک ویب پر ڈالا جائے، مگر بالآخر یہ ریکارڈنگز ہیکرز کے ہاتھ لگ گئی ہوں۔‘
