حکومتی آڈیو ریکارڈنگز انتہائی سیریس سکیورٹی لیپس ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم ہائوس کی آڈیو ریکارڈنگز لیک ہونے کے معاملے کو انتہائی سکیورٹی لیپس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم ہائوس کی لیک ہونے والے آڈیو میں میریم نواز نے مجھ سے کسی کی سفارش یا فیور کرنے کی بات نہیں ، اور نہ ہی اس میں ہیئرے جوہرات کا مطالبہ کیا گیا۔

اسلام آبا دمیں وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نےآڈیو لیکس میں مریم نواز کی جانب سے سفارش سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ مریم نواز نے کسی سفارش کا نہیں کہا، راحیل کی نہ تو سفارش کی اور نہ فیور مانگی تاہم ڈاکٹر توقیر نے بات کی کہ ان کی شوگر مل کی آدھی مشینری بھارت سے درآمد ہوئی ہے اور اسی حوالے سے بات کی تھی ،ڈاکٹر توقیر نے کہا کہ چونکہ اس پر پابندی لگ چکی ہے، تو یہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور پھر کابینہ میں جائے گی کیونکہ یہ معاملہ بھارت کے ساتھ تھا اور 5 اگست 2019 کو بھارت نے جو کیا اس کے نتیجے میں ظلم ہوا، جس کی وجہ سے یہ عمل نہیں کیا گیا۔
انکا کہنا تھا اس کے مقابلے میں ہیرے اور جواہرات کی پیش کش ہوتی تھی، آڈیو میں اس کی بات سنیں، پھر مراعات کے طور پر زمینیں دی گئیں، ہیرے اور جواہرات کی بات نہیں کرتے لیکن اس کو لے کر بیٹھے ہیں جس میں کوئی سفارش نہیں لی گئی، عمران خان نے ساری ریاستی مشینری کا بے پناہ استعمال کرتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز شریف، پیپلزپارٹی اور مجھ سمیت پوری اپوزیشن کے خلاف کتنے جھوٹے مقدمات بنائے، عمران خان نے بشیر میمن کو اپنے دفتر میں بلایا اور کہا کہ ان کے خلاف مقدمے کرو تو اس نے جعلی مقدمات بنانے سے انکار کیا، اس کا کیا ہوا، اتنا شور میڈیا پر اٹھایا گیا ہے، اس پر انصاف کریں، غلطی کی تو پوری قوم سے ہاتھ جوڑ کر معاف کروں گا۔

وزیر اعظم نے کہا جہاں 5 قیراط ہیروں کی بات کی گئی، ملکی اثاثے بے دردی سے بیچے گئے، توشہ خانہ کو دیکھ لیں، اس کا ذکر نہیں ہوتا لیکن یہ تو ایک آڈیو ہے کیا اس میں کسی لین دین کی بات ہو رہی ہے یا دور دور تک کوئی شائبہ بھی ہے، یہاں اسلام آباد میں گھڑیاں بیچ دی گئیں، قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں، گھڑی بیچ کر پیسے جیب میں ڈال دیے اور بعد میں توشہ خانہ کی رقم دی گئی کیا ایسا ہوتا ہے، پہلے رقم جمع ہوتی ہے پھر لیا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا،عمران خان نے گھڑیاں بیچ دیں، پیسے جیب میں ڈالے اور توشہ کی رقم دے دی، قانون کے ساتھ اس سے بڑا کھلواڑ کوئی ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم نے شنگھائی کانفرنس اور اقوام متحدہ میں ہونے والی ملاقاتوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے بتایاکہ سمر قند میں شنگھائی کانفرنس میں حوصلہ افزا ملاقاتیں ہوئیں جہاں ازبکستان کے صدر بہترین میزبانی کی خدمات انجام دے رہےتھے، وسطی ایشیا، چین اور روس کے صدور سے ملاقات ہوئی اور کانفرنس میں ہم نے پاکستان کے اندر سیلاب کےبارےمیں بتایا کہ اس میں ہمارا کردار قطعاً نہیں ہے اور ہمیں ناکردہ گناہ کی سزا نہ جانے کیسے ملی، کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر یہ آفت آن پڑی اور وہ تباہی مچائی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور یہی بات کانفرنس میں کی اور دنیا کو آگاہ کیا، وہاں موجود دنیا کی قیادت اور زعما نے خود ذکر کیا اور پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتےہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے۔
شہباز شریف نے کہا نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں دنیا کے زعما سے ہماری ملاقاتیں ہوئیں اور اسی پہلو کو اجاگر اور بتایا کہ سیلاب سے 1600 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے، فصلیں اور لاکھوں گھر تباہ ہوگئے اور لوگوں کی کمائی چلی گئی۔
انہوں نےسیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصانات ہوئے ہیں، جس کا میں نے ہر اجلاس میں چاہے وہ ایران کے صدر یا فرانس کے صدر، بیلجیم اور جاپان کے وزرائے اعظم ہوں اور امریکی صدر جوبائیڈن سےبھی ملاقات کی اور پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہ صرف پاکستان کے سیلاب کے حوالے سے بات کی بلکہ کشمیر، فلسطین اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے پاکستان کا بھرپور مؤقف پیش کیا۔

وزیر اعظم نے کہا بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک ہے، اس کی بھرپور مذمت کی اور بتایا وہاں مسلمانوں کی زندگی تنگ ہے، کشمیر کے اندر ظلم وستم جاری ہے، 5 اگست 2019 کو خصوصی آرٹیکل ختم کردیا ہے اور اسی طرح ہم نے پاکستان کا مؤقف بھرپور پیش کیا، جس میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو میرے ساتھ تھے، ان کے علاوہ خواجہ آصف، شیری رحمٰن اور مریم اورنگزیب کی کاوشیں تھیں اور یہ ٹیم ورک ہے، پاکستان تنہائی کے دور سے نکلا ہے، اس تنہائی سے پاکستان کو نقصان پہنچا تھا، گزشتہ حکومت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حلیہ بگاڑا اور بیڑا غرق کردیا گیا۔

شہباز شریف نے تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوست اور برادر ممالک کو ناراض کیا گیا، میں اس کا عینی شاہد ہوں، دوست ممالک نے جو الفاظ کہے وہ نہیں دہرا سکتا لیکن انہوں نے پچھلی حکومت اور اس کے سربراہ کے بارے جو بتایا وہ الفاظ میں یہاں بتاؤں تو سب کو پسینہ آئے گا کہ وہ کیا رائے رکھتے تھے، کس طرح تحکمانہ انداز میں، کسی کی پرواہ نہ کرنے، عزت اور احترام سے بات نہ کرنا اور خود کو آئن اسٹائن سمجھنا، اس طرح کی صورت نے پاکستان کو نقصان پہنچایا لیکن موجودہ حکومت نے دن رات کوشش سے ہم دوبارہ تنہائی سے نکل کر آگے بڑھ رہے ہیں اور ممالک سے رابطے ہیں، عزت اور احترام سے بات ہوتی ہے،ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیا اور پھر غیرممالک کے سربراہوں سے غیرمہذب طریقے سے ملنا اور بھاشن دینے کے کچھ نہیں کیا۔
وزیراعظم نے آڈیولیکس کے حوالے سے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتےہوئے کہایہ ایک بہت اہم معاملہ ہے اور بہت بڑی کوتاہی ہے، بات صرف میری نہیں ہے بلکہ کوئی بھی وزیراعظم جس کو عوام نے منتخب کیا ہو اور وہاں اس طرح کی سیکیورٹی کی کوتاہیاں ہوں تو بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، پاکستان کے وزیراعظم سے وزیراعظم ہاؤس میں ملنے کون آئے گا اور بڑا سوچےگا کہ کوئی ایسی سنجیدہ بات کروں یا نہیں کیونکہ 100 باتیں ہوتی ہیں، یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی بات ہے، میں اس پر نوٹس لے رہا ہوں، اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے گی جو اس سارے معاملے کی تحقیق کرکے تہہ تک پہنچے گی۔

شہباز شریف نے امریکا میں ہوٹل کے اخراجات کے حوالے سے کہا کہ میں تین مرتبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب ہوا اور اب مخلوط حکومت کا سربراہ ہوں تو وزیراعلیٰ سے لے کر آج تک میں نے جتنے بھی سرکاری بیرونی دورے کیے اس کے اخراجات ہمیشہ اپنے جیب سے ادا کیے اور اکثر دیگر ساتھی بھی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، یہ نئی بات یا احسان نہیں ہے، جب آپ کے وسائل ہیں اور ملک کے وزیراعظم ہیں تو پھر قوم کے پیسے کیوں خرچ کریں اور 25 برسوں میں یہ میری پریکٹس ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے۔
انہوں نےڈونرز کانفرنس کے حوالے سے سوال پر کہا کہ اقوام متحدہ میں زعما نے ڈونر کانفرنس اور تعاون کی بات کی ہے اور ہم اس پر فعال کام کر رہے ہیں، کون سا مناسب وقت ہوگا، اس کی تیاری پوری ہونی چاہیے، اس کے لیے پوری تیاری کی جارہی ہے، ہمارے وزیرخارجہ اور احسن اقبال پوری تیاری کر رہے ہیں، اس میں تاخیر نہیں کریں گے اور پوری تیاری سے اس کام کو کریں گے، اس کے لیے فرانس کے صدر نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ آڈیوز آنی چاہیے، جب انہوں نے چینی برآمد کی اور اس بنیاد پر درآمد کی کہ چینی کا اسٹاک ہے اور پاکستان کو زرمبادلہ ملے گا، 2018 میں چینی 52 روپے کلو تھی لیکن چینی برآمد ہوتے ہی پر لگ گئے اور چینی 100 روپے سے اوپر چلی گئی، اس دوران سبسڈی بھی دی گئی اور پھر ڈالر بھی روپے کےمقابلے میں اوپر جارہا تھا، اس طرح یہ پاکستان کا اربوں روپے کا اسکینڈل ہے، عمران خان رات کو 12 بجے پریس کانفرنس میں کہتے تھے میں چھوڑوں گا نہیں اور کمیشن بنادیا ہے تو وہ کمیشن کہا ہے، اس کی رپورٹ کہا ہے اور کس کو سزا دی گئی، اسی طرح گندم برآمد کی گئی اور بعد میں ناقص گندم منگائی گئی اور پاکستان کے اربوں ڈالر برباد کردیے گئے، کسی نے اس کا نوٹس لیا اور پوچھا، نیب اس وقت کہاں تھا لیکن خاتون کو وزیراعظم ہاؤس میں حبس بے جا میں رکھا،چیئرمین کو بلیک میل کیا گیا، تمام کیسز بند کردیے گئے جبکہ اپوزیشن کو جیل بھیج دیا گیا۔
انکا کہنا تھا آڈیو میں قانون اور پالیسی کا مکمل احترام کیا جاتا ہے، مریم نواز کی کوئی سفارش نہیں کی لیکن اس طرح رائی کا پہاڑ بنادینا مناسب نہیں ہے، اس کے علاوہ کس طریقے سے پشاور میٹرو کا اسٹے لیا گیا، ہمیں تو کسی نے اسٹے نہیں دیا تھا، عدلیہ کا مذاق اڑایا اور ڈھٹائی سے مزاحمت کی اور بلین ٹری کہاں گیا، پشاور کی میٹرو بس سروس کے اربوں روپے کھا گئے، ہم دن رات کام پر لگے ہوئے تھے لیکن یہ ریلیاں اور تقریریں کہ پاکستان خدانخواستہ سری لنکا بن جائے گا اور دیوالیہ نکل جائے گا تو اصل میں عمران خان یہی چاہتا تھا۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا میرے خلاف برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) میں گئے جہاں سے 2 سال بعد کلین چیٹ مل گئی لیکن فنانشل ٹائمز میں شوکت خانم ہسپتال کا خیرات کا پیسہ سیاست میں استعمال کیا، اگر غلط تھا تو جاتے میری طرح کیس کرتا،امپورٹڈ حکومت ہے تو روس کے صدر پیوٹن اس طرح پرتپاک طریقے سے کیوں ملتے اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ گندم دینے اور تجارت کرنے کے لیے تیار ہیں،اس شخص کا انتہائی افسوس ناک کردار ہے، دن رات جھوٹ بولنا اور کردار کشی کرنا حتیٰ کی افواج اور اداروں کو بھی تقسیم کرنے کی کسر نہیں چھوڑی اور قوم میں زہر گھول دیا ہے،مجھے خدشہ ہے یہ شخص کہیں ملک کو تباہی کے دہانے پر نہ لے کر جائے، مریم اورنگزیب کے ساتھ لندن میں ہوا کیا یہی طریقہ ہے، غلط کام کیا ہے تو کٹہرے میں لے کر آؤ، اس طرح اس ملک کا کیا بنے گا، عمران خان نے پاکستان کا بیڑا غرق کردیا، اپنی ہمشیرہ کو ایف بی آر سے انہوں نے این آر او دلایا، ان کی اپنی ڈیکلریشن سوالیہ نشان ہے۔
وزیراعظم نےآرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے عمران خان کے مؤقف پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے آرمی چیف کو توسیع دی تھی تو کیا ہم سے مشورہ کیا تھا؟ تو جو آئین اور قانون ہے اس پر سب عمل کیا جائے گا،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی) لاہور میں عمران خان کے جلسے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ جی سی پنجاب کی صوبائی حکومت کے تحت ہے لیکن اگر ہمارے تحت کوئی قانون اور آئینی گنجائش نکلی تو کارروائی کریں گے اور اس معاملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہم اس معاملے کو پارلیمان میں بھی لے کر آئیں گے اور یہ بات ناقابل معافی ہے، جس پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔
عمران خان کی جانب سے سائفر کی تحقیقات کےمطالبے پر بھی سوال ہوا اور انہوں جواب دیا کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جو تحقیق کے قابل ہے، ہر چیز سامنے آگئی،صدر پیوٹن سے میری ملاقات ہوئی اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہی خود ایک تحقیق ہے،روسی صدر سے انتہائی خوش گوار ماحول میں ملاقات ہوئی، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور دیگر اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔

انہوں نے حکومت لے کر مسلم لیگ (ن) کے غیرمقبول ہونے کے تاثر پر کہا کہ اس پر کوئی معذرت نہیں ہے کیونکہ اس شخص نے پاکستان کو دیوالیہ کردینا تھا، اگر ریاست بچانے کے لیے میری سیاست قربان ہوتی ہے تو ایک بار نہیں ہزار بار قربان کرنے کو تیار ہوں، مفتاح اسمٰعیل نے بڑی محنت سے کام کیا اور ہماری پارٹی کے معزز رکن ہے لیکن ردو بدل ہوتا رہتا ہے اور انہوں نے خود کہا استعفیٰ دینا چاہتا ہوں،اسحٰق ڈار تجربہ کار آدمی ہیں اور امید ہے عرق ریزی سے کام کریں گے اور حالات مزید بہتر کرنے میں ان کا پورا کردار ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، ہم نے اپنا سیاسی سرمایہ اس ملک کی حالت ٹھیک کرنے، غربت ختم کرنے، مہنگائی کم کرنے کے لیے جھونک دیا ہے کیونکہ یہ ایک اژدھا بن چکا تھا اور ابھی ہے، اس کے لیے ہم دن رات کام کررہے ہیں۔اسحق ڈار کے آنے پر ڈالر کی قدر گرنے سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جھولی اٹھا کر دعا کرے کہ ڈالر 100 روپے کا ہوجائے۔انہوں نے سوال کیا کہ کراچی کے کچھ تاجروں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ آپ کی عمران خان سے ملاقات کروائیں گے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

Back to top button