آرمی چیف 68 فیصد ووٹوں والے لگائیں گے یا 31 فیصد والا؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ 2018 کے الیکشن میں31 فیصد ووٹ لینے والا اپوزیشن لیڈر 68 فیصد ووٹ لینے والی اتحادی حکومت کو دھونس اور دھمکی سے اپنی مرضی کا آرمی چیف تعینات کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ آرمی چیف تم نہیں، میں لگاؤں گا؟ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ حکومت کسی مسلح یا غیر مسلح انقلاب کے ذریعے نہیں، بلکہ آئین کے تحت وجود میں آئی ہے۔ لہذا نہ تو وزیر اعظم کا آئینی استحقاق خان صاحب کی طفلانہ ضد کی نذر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں خوش کرنے کے لیے آئین اور فوج کو تماشا بنایا جا سکتا ہے۔ عرفان صدیقی کے بقول، عمران کی ایشیائی معشوقاؤں جیسی ہزار شیوہ، سیاست کی گتھیاں سلجھانے بیٹھیں تو دماغ کی نسیں چٹخنے لگتی ہیں۔ ان کی شعلہ بار خطابت نے نومبر میں ہونے والی آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے الاؤ بھڑکا رکھا ہے۔ اس سے پہلے 15 اگست کو انہوں نے اپنے معروف کھردرے اسلوب سے ہٹ کر کمال متانت اور سنجیدگی سے نئے آرمی چیف کی تقرری پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرا تو اب اس میں کوئی ایشو نہیں۔ یہ فیصلہ تو اب نئی حکومت کرے گی۔ جب میزبان نے انکو کریدا اور پوچھا کہ ”یہ والی گورنمنٹ فیصلہ کرے گی؟ تو خان صاحب نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ”میں نہیں جانتا یہ حکومت ہو گی یا نہیں ہو گی، یا الیکشن کے بعد کوئی نئی حکومت آ جائے گی۔ ابھی یہ ایشو نہیں ہے ہمارا۔“

اس بیان کی گونج ابھی فضا میں دائرے بُن رہی تھی کہ خان صاحب کی سیمابی سوچ نے یکایک پہلو بدلا اور انہوں نے نومبر میں نئے آرمی چیف کی تقرری کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا۔ گزشتہ 75برس میں حالات کی تلخ و شیریں کروٹوں کے باوجود، فوج کے سربراہ کی تقرری کبھی اس طرح متاعِ کوچہ و بازار نہیں بنی جس طرح خان صاحب نے بنا ڈالی ہے۔ عجب بھید ہے کہ خان صاحب کے بقول، چند دن پہلے تک جو کام ان کا نہیں تھا وہ آنِ واحد میں کیسے اُن کے اعصاب پر سوار ہو گیا؟ اب تو یوں لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیکرِ خاکی کی ساری توانائیاں اسی مہم پر مرکوز کر دی ہیں۔ ایک فرسودہ سے محاورے کے مطابق اپنی سیاست کے ”سارے انڈے ایک ہی ٹوکری“ میں رکھ دیے ہیں۔ جنرل ایوب خان سے جنرل قمر جاوید باجوہ تک، ہمارے ہاں اس اہم تقرری کے حوالے سے ہر نوع کی مثالیں موجود ہیں۔ سب سے سینئر بھی، کم و بیش ہم پلہ بھی اور کئی درجے جونیئر بھی۔ کبھی کوئی رولہ نہیں پڑا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو، فور سٹار جنرل بنائے بغیر کمانڈر انچیف مقرر کر دیا تو بھٹو کے حریفوں نے کوئی اختلافی آواز نہ اٹھائی۔ لگ بھگ تین ماہ بعد گل حسن کو فارغ کر کے جنرل ٹکہ خان کو فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ وہ پہلے چیف آف آرمی سٹاف کہلائے۔ کوئی ہاہا کار نہ مچی۔ مارچ 1976 میں سنیارٹی لسٹ میں آٹھویں نمبر کے جنرل ضیاالحق کو آرمی چیف تعینات کر دیا گیا۔ تب بھٹو کی اپوزیشن شیش ناگ کی طرح پھن پھیلائے کھڑی تھی۔ لیکن کسی نے سسکاری تک نہ بھری۔

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ آٹھویں ترمیم کے تحت مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کا اختیار (وزیراعظم کی مشاورت کے ساتھ) صدر مملکت کو دے دیا گیا۔ 1991 میں آصف نواز جنجوعہ اور 1993 میں عبدالوحید کاکڑ کا انتخاب صدر غلام اسحاق خان نے کیا۔ دونوں بار وزیر اعظم نواز شریف کے تجویز کردہ نام مسترد کر دیئے گئے۔ یہی نہیں، غلام اسحاق خان نے آصف نواز اور کاکڑ، دونوں کے کانوں میں پھونک دیا کہ وزیراعظم نے تمہاری مخالفت کی تھی۔ تیس برس ہونے کو آئے، آج تک نواز شریف نے اس قصہِ پارینہ کی پوٹلی نہیں کھولی۔ تحریک انصاف کے 26 سالہ سفر کے دوران عمران خان نے بھی کبھی آرمی چیف کی تقرری کو سوہانِ رُوح نہیں بنایا۔ 2013 میں انتخابی شکست کے بعد انہوں نے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو سینگوں میں پرو لیا۔ اُسے دھاندلی کی پیداوار ناجائز حکومت کہا۔ کئی کئی ماہ کے فتنہ ساماں دھرنے دیئے۔ حکومت کے قدم جمنے لگے تو اپریل 2016 میں پاناما نے انگڑائی لی۔ خان صاحب کے سوکھے دھانوں پر چھاجوں پانی برسا۔ دھرنوں کی ایک نئی لہر اٹھی۔ اکتوبر 2016 میں ڈان لیکس نے اُن کے لہو میں چنگاریاں بھر دیں۔ تب پاناما کی فصل بھی پک چکی تھی۔ خان صاحب کے خوابوں میں تعبیر کی شفق بھرنے لگی۔ اور آخر اکتوبر میں انہوں نے اسلام آباد کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ یکم نومبر کو سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی۔ اُسی ماہ، نومبر کی 29 تاریخ کو وزیراعظم نے نئے آرمی چیف کی تقرری کرنا تھی۔ تب عمران خان اپنی مخصوص طبعِ ہنگامہ جُو کے مطابق بہ صد آسانی ایک سونامی بپا کر سکتے تھے کہ نواز شریف پر کرپشن کا کیس چل رہا ہے۔ وہ اس کیس کا بڑا ملزم ہے۔ ڈان لیکس نے اسے سکیورٹی رسک بھی ثابت کر دیا ہے۔ یوں بھی وہ دھاندلی کر کے اقتدار میں آیا ہے۔ ایسے شخص کو کیسے فوج کے سربراہ کی تقرری کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ادارے کی توہین ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کوئی معصوم سا حرفِ ناروا بھی اُن کی شعلہ بار زبان پر نہ آیا۔ تقرری سے پہلے نہ تقرری کے بعد۔

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ خان صاحب کا تازہ ترین نکتہِ اعتراض یہ ہے کہ موجودہ حکومت امپورٹڈ ہے۔ بائیڈن، میر جعفروں اور میر صادقوں کی قائم کردہ ہے۔ لیکن حقائق کچھ اور کہتے ہیں۔ 25 جولائی 2018 کو قومی سطح پر انتخابات ہوئے۔ سر شام ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔ شب کے نو بجے رزلٹ دینے والے RTS سسٹم کی نبضیں ڈوب گئیں۔ انتخابات پر نظر رکھنے والے معتبر ادارے فافن کی رپورٹ کے مطابق ریٹرننگ افسروں کی طرف سے جاری کیے گئے 95 فیصد فارم 45، پولنگ ایجنٹس کے دستخطوں سے عاری تھے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف صرف 31.82 فیصد ووٹ حاصل کر پائی۔ جبکہ پول ہونے والے باقی 68.18 فیصد ووٹ خان صاحب کے اُن مخالفین نے حاصل کیے جو آجکی مخلوط حکومت کا حصّہ ہیں۔ اگر صرف چوروں یعنی مسلم لیگ(ن) کے 24.35 اور ڈاکوؤں یعنی پیپلز پارٹی کے 13.03 فیصد ووٹوں کو شمار کر لیا جائے تو یہ 37.40 فیصد یعنی پی ٹی آئی سے 5.56 فیصد زیادہ ہیں۔ حکومت کی باقی اتحادی جماعتوں کے ووٹوں کو بھی ملا لیا جائے تو ٹوٹل 68 فیصد سے زائد بن جاتا ہے۔ایسے میں سوال نہایت سادہ اور معصوم ہے کہ 31.82 فیصد لینے والا اپوزیشن لیڈر، 68 فیصد ووٹ رکھنے والی حکومت پر یہ دھونس کیسے جما سکتا ہے کہ آرمی چیف تم نہیں، میں لگاؤں گا؟

Back to top button