پشتون تحفظ موومنٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے؟

تین سال پہلے جنوری 2018 میں کراچی میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کی ہلاکت نے پاکستان میں ایک نئی تحریک کو جنم دیا تھا جسے اب لوگ پشتون تحفظ موومنٹ یا پی ٹی ایم کے نام سے جانتے ہیں. ہلاک ہونے والے ان چار نوجوانوں میں سے ایک نقیب اللہ محسود تھا جس کے قتل کا مقدمہ ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا اور نہ ہی جھوٹا انکاونٹر کرنے والے ڈی آئی جی راؤ انوار کو سزا ہو پائی.

اس واقعے کے تین سال بعد پشتون تحفظ موومنٹ کے ناقدین کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ابتدا میں انتہائی سبک رفتاری سے ملک بھر میں مقبو ہونے والی یہ تحریک، فوج پر ’بے جا تنقید, پاکستانی ایجنسیوں کی جانب سے اس پر غیرملکی ایجنسیوں سے روابط اور مالی معاونت حاصل کرنے جیسے الزامات، پی ٹی ایم کے اندر طرز سیاست پر موجود اختلاف اور قبائلی علاقوں میں کچھ حد تک عوامی مسائل کے حل ہونے کے باعث، شاید اب اپنی مقبولیت کھو رہی ہے۔ تاہم پشتون سیاست پر گہری نظر رکھنے والے لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور انکا کہنا ہے کہ پشتون علاقوں میں بدستور یہ ایک مقبول تحریک ہے جسے عوامی پذیرائی حاصل ہے۔

پی ٹی ایم کی مقبولیت کے حوالے سے تجزیہ کاروں کی رائے جاننے سے قبل پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تنظیم وجود میں کیسے آئی، گذشتہ دو برس کے دوران کس انداز میں آگے بڑھی اور کیا وہ مقاصد حاصل کر پائی جن کا اعلان اس تنظیم کے وجود میں آنے کے وقت کیا گیا تھا؟ 13 جنوری 2018 کو کراچی میں ہونے والے پولیس مقابلے کے بعد اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود اور دیگر نواجوانوں کا تعلق تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور داعش جیسی شدت پسند تنظیموں سے تھا اور وہ دہشتگردی میں ان کالعدم تنظیموں کی معاونت کر رہے تھے۔ اس پولیس مقابلے کے تقریبا ایک سال بعد انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے پولیس مقابلے کو ’جعلی‘ اور نقیب اللہ محسود سمیت چاروں نوجوانوں کو بے گناہ قرار دے دیا۔ نقیب اللہ محسود کی میت جب تدفین کے لیے جنوبی وزیرستان میں ان کے آبائی علاقے مکین پہنچائی گئی تو نہ صرف وزیرستان بلکہ ارد گرد کے قبائل میں بھی غم و عضے کی لہر دوڑ گئی۔ نقیب کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کی قیادت جنوبی وزیرستان سے ہی تعلق رکھنے والے ایک نوجوان منظور پشتین کرنے لگے۔

منظور نے پہلے ہی سے ’محسود تحفظ موومنٹ‘ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی تھی لیکن وزیرستان سے باہر نہ تو ان کی اور نہ ہی ان کی تنظیم کی کوئی آواز یا شناخت تھی۔ نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے دو ہفتے بعد منظور پشتین نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان سے احتجاجی مارچ شروع کیا۔ چند روز بعد یہ مارچ اسلام آباد پہنچا جہاں پریس کلب کے باہر مظاہرین نے ڈیرہ ڈالا اور دھرنا دے دیا۔ یہ دھرنا دس روز جاری رہا جسے میڈیا میں مسلسل نشر کیا جاتا رہا۔ اس دوران منظور پشتین کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا اور دھرنے کی حمایت بڑھنے لگی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور خاص طور پر جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کے رشتہ دار اپنے پیاروں کی تصاویر لیے اس دھرنے کا حصہ بن گئے۔ دس روز میں منظور پشتین کی ایک چھوٹی سی مقامی تنظیم پشتونوں کی ایک طاقتور آواز کے طور پر اُبھری اور اس کا نام تبدیل کر کے ’پشتون تحفظ موومنٹ‘ رکھ دیا گیا۔

پی ٹی ایم نے ابتدائی طور پر چھ مطالبات پیش کیے جن میں راؤ انوار کی گرفتاری، سابقہ قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں اور فوجی چیک پوسٹوں کا خاتمہ اور لاپتہ ہونے والے پشتونوں کی برآمدگی اور قبائلی عوام کے ناموس کی بحالی جیسے مطالبات شامل تھے۔ ابتدائی دنوں میں پی ٹی ایم کے مطالبات کو سیاسی اور فوجی حلقوں میں کھلے دل سے تسلیم کیا گیا۔ فوج کے متعدد جرنیلوں نے پی ٹی ایم کی قیادت سے بات چیت کی اور حکومتی سطح پر ان سے مذاکرات کے لیے کئی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ان کے مطالبات کو جائز اور پشتین کو ’فینٹیسٹک گائے‘ یعنی ’زبردست شخص‘ کہا گیا۔ لیکن جلد ہی اس رائے میں تبدیلی آنے لگی۔ دھرنے کے بعد بڑھتی ہوئی عوامی ہمدردی کی لہر سے حوصلہ لیتے ہوئے پی ٹی ایم نے اپنے دائرے کو پورے ملک میں بڑھا دیا۔ ویسے تو پی ٹی ایم کی جدوجہد پُرامن ہی رہی لیکن اس کے قائدین نے عوامی اجتماعات میں قبائلی عوام کو درپیش بہت سے مسائل کا ذمہ دار ملک کے اہم سکیورٹی اداروں اور فوج کی ٹھہرایا۔ کئی بڑے شہروں میں جلسے کرنے کا اعلان ہوا لیکن خاص طور پر بلوچستان میں ہونے والے جلسوں اور ان میں پاکستان کے ریاستی اداروں پر کی جانے والی تنقید نے پی ٹی ایم اور فوج کے تعلق کی نوعیت کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

منظور پشتین نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ پی ٹی ایم کی جدوجہد قبائلی عوام کے وقار کی بحالی کے لیے ہے اور اس کے مستقبل کے لائحہ عمل کا انحصار ارباب اختیار کے رویے پر ہو گا۔ ’ہماری جدوجہد پرامن رہے گی۔ لیکن اس کا انحصار حکمرانوں پر ہے کہ وہ ہم سے کیا رویہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہم پر جو ظلم کیا ہے، کیا وہ اسے قبول کریں گے؟ کیا وہ ہمیں شہری کی حیثیت سے اپنائیں گے؟ کیا وہ ہمارے خون کو جو اتنے سالوں سے بہتا رہا ہے تسلیم کریں گے؟ یا وہ ہمیں ’ٹشو پیپر‘ سمجھتے ہیں جسے انھوں نےاستعمال کیا ہے۔۔۔؟‘ پی ٹی ایم قیادت کی ایسی نوعیت کی کھلے بندوں تنقید سے فوج بے چین ہونے لگی۔ اپریل 2018 میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم پر سنگین الزامات لگائے اور دعویٰ کیا کہ پی ٹی ایم ’پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے دشمن کے ایجنڈے‘ پر کام کر رہی ہے اور اس کی مالی اعانت ’افغان اور انڈین خفیہ ایجنسیوں‘ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے کچھ تاریخوں اور افغانستان کے کچھ مقامات اور ملاقاتوں کا ذکر کر کے اشارے بھی دیے۔ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم کو متنبہ کیا تھا کہ اُن کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ’یور ٹائم از اپ۔‘

ایک پریس کانفرنس آصف غفور نے کہا تھا کہ ’آپ فوج کے خلاف کس انتقام کی بات کر رہے ہیں؟ کیا آپ فوج کو للکار سکتے ہیں؟ کوئی بھی ریاست سے لڑ نہیں سکتا۔ اگر آرمی چیف نے ہمیں یہ نہ کہا ہوتا کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کروں تو پھر یہ دیکھتے ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا. دونوں طرف سے سخت بیانات کے بعد پی ٹی ایم اور فوج کے درمیان رابطے ختم ہو گئے۔ میڈیا پر پی ٹی ایم کی کوریج پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پی ٹی ایم کی قیادت گرفتار ہوئی اور ان پر دہشت گردی اور بغاوت کے قوانین کے تحت مقدمات درج ہوئِے۔ لیکن جوں جوں پی ٹی ایم کے خلاف حکومت کی کارروائی میں تیزی آنے لگی اس کی مقبولیت نئی بلندیوں کو چھونے لگی۔

31 مئی 2018 کو پارلیمنٹ نے غیر معمولی یکجہتی دکھاتے ہوئے متفقہ حمایت سے سابقہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا بل منظور کر لیا۔ جس کے سات ہی سابقہ قبائلی علاقوں سے برطانوی راج کے قوانین کا خاتمہ ہو گیا۔ انضمام سے قبائلی عوام کو بھی باقی ملک کے شہریوں کے حقوق حاصل ہو گئے۔ فوج کافی عرصے سے انضمام کی حمایت کر رہی تھی لیکن سیاسی اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ التوا کا شکار ہو رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قبائلی علاقوں کا انصمام پی ٹی ایم ہی کےدباؤ کا نتیجہ ہے۔ اسی نے مقامی لوگوں کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا اور اسی دباؤ کے باعث سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ نے مخالف سیاسی قوتوں کو ایک ہی صفحے پر لانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔
قبائلی علاقے کے انضمام کے ڈیڑھ برس بعد کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پی ٹی ایم اب اپنی مقبولیت کھو رہی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسین سہروردی بھی انھیں میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ منظور پشتین نے جو تحریک شروع کی وہ کچھ وقتی مسائل اور سوالات پر مبنی تھی اور اُن کے تمام مطالبات جائز تھے۔ ’اب فوج سمیت ریاست نے ان سوالوں اور مسائل کے جواب دے دیے ہیں۔ ایسی تحریکوں میں جب شکایتوں کا ازالہ ہو جاتا ہے تو وہ دم توڑ جاتی ہیں اور پی ٹی ایم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔‘ ڈاکٹر حسین سہروردی کہتے ہیں کہ قبائلی عوام کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے جس تیزی سے منصوبے شروع کیے گئے ہیں اور وہاں جس قدر وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں ہمیشہ سے جس توجہ کی خواہش تھی وہ اب انھیں حکومت سے مل رہی ہے۔ اس لیے اب وہ دھیرے دھیرے مطمئن ہو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’منظور پشتین کی تحریک کسی سیاسی نظریہ پر مبنی نہیں تھی۔ یہ مخصوص حالات میں وجود میں آنے والی ایک سماجی تحریک تھی جس کے کچھ مطالبات تھے۔ یہ فطری بات ہے کہ جب مطالبات نہ رہیں تو تحریک میں زور بھی نہیں رہتا۔‘

ڈاکٹر سہروردی کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی حمایت کے الزامات نے بھی پی ٹی ایم کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عموماً پاکستانی سیاسی اختلاف رائے کو پسند کرتے ہیں، لیکن جب انھیں شائبہ ہوتا ہے کہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کے لیے معاملات ہو رہے ہیں اور اس میں دوسرے ممالک مداخلت کر رہے ہیں تو یہ انھیں پسند نہیں۔ شاید اس تاثر نے پی ٹی ایم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر حسین سہروردی کے مطابق پی ٹی ایم کے اندر گروپ بندی سے بھی یہ کمزور ہو رہی ہے۔ ’واضح طور پر پی ٹی ایم میں دو سوچیں ہیں۔ ایک منظور پشتین ہیں جو انتخابی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن اس میں علی وزیر اور محسن داوڑ جیسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے الیکشن لڑا ہے اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے جدوجہد آگے بڑھانے کے خیال کی حمایت کرتے ہیں۔ اس اختلاف سے بھی پی ٹی ایم کو نقصان پہنچا ہے۔‘

تاہم سیاسی تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا خیال ہے کہ غیرملکی فنڈنگ اور مدد کے الزامات سے غیر پشتون علاقوں میں پی ٹی ایم کی ساکھ کو ضرور دھچکا پہنچایا ہے لیکن پشتون علاقوں میں ابھی بھی ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ یوسفزئی کے کہتے ہیں کہ مغربی ملکوں میں پی ٹی ایم کے مظاہروں میں سرحد پار سے پشتونوں کی کھلے عام شرکت فوج کے غیر ملکی مدد کے الزام کو کچھ حد تک وزن تو دیتی ہے۔ اور جس طرح فوج کے ترجمان نے ’ریڈ لائنز‘ کو عبور کرنے کی بات کی اور کچھ ملاقاتوں کا حوالہ بھی دیا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ فوج کے الزامات بالکل بے بنیاد نہیں۔ تاہم انھوں نے سوال کیا کہ اگر فوج کے پاس ٹھوس ثبوت موجود تھے تو انھوں نے اب تک وہ پیش کیوں نہیں کیے ہیں اس کے باوجود کہ پی ٹی ایم کہتی رہی ہے کہ وہ ان الزامات کا سامنا کرنے کو تیار ہے؟ رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق پی ٹی ایم کی مقبولیت اب بھی برقرار ہے، خاص طور پر پشتون نوجوانوں میں۔ ’میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی ایم کمزور ہو چکی ہے، وہ اب بھی عوامی ریلیاں کر رہے ہیں لیکن صرف اس وقت جب کوئی مسئلہ ہو۔ ان پر اب بھی مقدمے بن رہے ہیں اور انکی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں۔ اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ تحریک زندہ ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جو جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں وہاں یہ خاصی مقبول ہے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کی رائے میں پی ٹی ایم کو اپنے اصل مطالبات پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔ ’اصل میں پی ٹی ایم کے پانچ مطالبات تھے۔ انھیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھیں اپنی گرفتاریوں اور مقدمات کے خلاف احتجاج جاری رکھنا چاہیے، وہ اس کا حق رکھتے ہیں۔ لیکن اگر وہ اصل مطالبات سے انحراف کریں گے اور ان معاملات میں شامل ہو جائیں گے جو ان سے متعلقہ نہیں ہیں تو وہ مشکل میں رہیں گے۔ اگر وہ پاکستان میں سیاسی قوت کے طور پر پھلنا پھولنا چاہتے ہیں تو انھیں قانون کے دائرے میں رہنا پڑے گا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button