پنجاب اسمبلی ’حریم زادہ‘ کے نعروں سے کیوں گونج اٹھی؟

ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے نام کی گونج اقتدار کے ایوانوں اور قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں سے ہوتی ہوئی پنجاب اسمبلی میں بھی پہنچ گئی۔ 24 جنوری کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران منہ پھٹ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان جیسے ہی تقریر کے لئے کھڑے ہوئے پورا ایوان حریم زادہ کے نعروں سے گونج اٹھا لیکن وزیر موصوف بجائے شرمندہ ہونے کے ڈھٹائی سے کھڑے رہے اور اپوزیشن رہنماوں پر تنقید کے نشتر برسا دئیے جس کے بعد ایوان کا ماحول کشیدہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
یاد رہے کہ ماضی قریب میں فیاض چوہان ٹک ٹاک سٹارز کے ساتھ اپنی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی وجہ سے تنقید کا شکار رہے ہیں۔ چوہان کی حریم شاہ اور صندل خٹک سے واٹس ایپ پر کی گئی گفتگو بھی وائرل ہو گئی تھی جس میں وہ دونوں ٹک ٹاک سٹارز کو اینکر مبشر لقمان کے حوالے سے ہدایات دے رہے تھے۔ اس پر مبشر لقمان نے فیاض چوہان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس سے پہلے ایک اور ویڈیو میں حریم شاہ اور صندل خٹک چوہان کے ساتھ ان کے پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس میں اٹھکیلیاں کرتی دکھائی دی تھیں۔
24 جنوری کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ماحول اس وقت کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا جب آٹے کے بحران کے حوالے سے فیاض چوہان نے تقریر کرنا چاہی لیکن اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے نعرے بازی شروع کر دی اور پنجاب اسمبلی کا ایوان حریم زادہ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ صوبائی وزیر اطلاعات چوہان کے تقریر شروع کرنے سے پہلے ہی اپوزیشن اراکین نے حریم زادہ کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔
چوہان بھی اپوزیشن کی تنقید پر خاموش نہ بیٹھے اور جوابی وار کرتے ہوئے ن لیگی اپوزیشن کو دلشاد بیگم اور طاہرہ سید کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا لیڈر نواز شریف ان دونوں کو گانے سنایا کرتا تھا، آپ میں سے کسی کو یاد ہے کہ میں یاد کراؤں؟ فیاض الحسن چوہان کے ان ریمارکس پر ن لیگی رہنما ملک ندیم کامران نے کہا کہ صوبائی وزیر ایوان کا ماحول خراب کر رہے ہیں۔ ملک ندیم کامران نے مزید کہا کہ فیاض الحسن چوہان الفاظ کا چناؤ بہتر کریں، جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ ارشد ملک نے جو فقرے کسے ہیں ابھی ریکارڈ پر ہے، سنائیں ان کو نکال کر۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ بعد میں جواب دیا ہے، چیخ کر میری آواز کو نہیں دبایا جا سکتا۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود نے کہا کہ حکومت کے بے شمار اسکینڈل سامنے آ رہے ہیں، چوہان ہمیشہ غلط الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ لیگی رہنما نے کہا کہ ہمارے گریبان کی بجائے یہ خود اپنے گریبان میں جھانکیں، فیاض الحسن چوہان کی وجہ سے ایوان کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ ماحول میں کشیدگی بڑھنے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس 27 جنوری تک ملتوی کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ فیاض الحسن چوہان ان چند بد تہذیب حکومتی اراکین میں شامل ہیں جو اپنی بدزبانیوں کی وجہ سے اکثر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ مارچ 2019 میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران فیاض الحسن چوہان نے سخت الفاظ میں بھارتیوں کے بجائے ہندوؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ہندو برادری کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے جس کا وزیراعظم عمران خان نے سختی سے نوٹس لیا تھا اور انہیں وزرات سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button