پنجاب حکومت کا 5 روز کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بند کرنے کا امکان

پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ فرقہ وارانہ تشدد، نفرت انگیز مواد ، افواہوں اور غلط معلومات روکنے کے لئے صوبے بھر میں رواں ماہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں 6سے11محرم الحرام تک تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے، کسی بھی ممکنہ تخریب کاری سے بچنے اور نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنےکے لیے وزارت داخلہ نے جولائی کے دوسرے ہفتے میں 6 تا 11 محرم تک میڈیا ایپس بند رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

تاہم اب تازہ پیشرفت کے مطابق فاقی حکومت نے محرم الحرام میں سوشل میڈیا ایپس کو بند کرنے کی صوبوں کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ذرائع وزارت داخلہ نے بتایا کہ فیس بک، ٹک ٹاک، واٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا اپلیکیشن بند نہیں ہوں گی۔ذرائع وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں سیکیورٹی کو فل پروف بنایا جائے گا، مختلف صوبوں کی طرف سے 6 ایپلیکیشنز کو 6 سے 11 محرم تک بند رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔ذرائع وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے، موبائل سگنلز بھی ان جگہوں پر بند ہوں گے، جہاں جلوس اور مجالس ہوں گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ محرم الحرم کی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ،سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم 6 تا 11 محرم تک بند رہیں گے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق کسی بھی شخص کو سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگئی۔ کوئی بھی شخص ،ٹوئٹر ،فیس بک، یوٹیوب ،واٹس ایپ ،فیس بک وغیرہ پر مذہبی منافرت پھیلاتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل حکومت پنجاب نے وزارت داخلہ سے 6 سے 11 محرم تک انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا ایپس کو بند کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ فرقہ وارانہ تشدد سے بچنے کے لیے نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پیش رفت سے باخبر ذرائع کے مطابق یہ اطلاعات ملنے کے بعد کہ ’بیرونی طاقتیں‘، بشمول سرحد پار عناصر، نفرت انگیز مواد اور میمز شیئر کرنے میں ملوث ہیں، حکومت نے عاشورہ کے موقع پر انٹرنیٹ کی معطلی اور موبائل جام کرنے کے معمول کے اقدامات سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس حوالے سے کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر اور محکمہ داخلہ پنجاب کی رائے ہے کہ انٹرنیٹ بند کرنے سے عام لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں جبکہ زیادہ تر غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، جسے اس وقت بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جب انٹرنیٹ بند ہو۔

گزشتہ روز کابینہ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد محکمہ داخلہ نے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ سوشل میڈیا پلیٹ ایپس یعنی فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام، یوٹیوب، ٹوئٹر، ٹک ٹاک وغیرہ کو صوبے بھر میں 6 تا 11 محرم تک معطل کیا جائے تاکہ نفرت انگیز مواد، غلط معلومات پر قابو پانے اور فرقہ وارانہ تشدد سے بچا جاسکے۔ذرائع نےبتایا کہ پنجاب حکومت نے ابتدائی طور پر 9 اور 10 محرم کو سوشل میڈیا ایپس کو بند کرنے پر غور کیا، تاہم نفرت انگیز مواد اور میمز کو سرحد پار سے شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ فنڈنگ ​​کی اطلاعات انٹرنیٹ اور موبائل جیمنگ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا ایپس کو ہی 6سے 11 محرام الحرام تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر کے رکن سید عاشق حسین کرمانی نے کا اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ محرم کے دوران سوشل میڈیا ایپس خاص طور پر فیس بک اور ایکس پر نفرت انگیز مواد کئی گنا بڑھ جاتا ہے جو کہ آخر کار دو فرقوں کے درمیان تنازع کی وجہ بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے محرم الحرام میں سوشل میڈیا ایپس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔تاکہ فرقہ وارانہ تشدد سے بچا جاسکے۔

Back to top button