پنجاب حکومت کی تبدیلی کی خبروں میں کتنا وزن ہے؟


علیم خان اور عون چوہدری کی لندن میں نواز شریف سے ملاقاتوں اور شہباز شریف کی چودھری شجاعت حسین اور طارق بشیرچیمہ سے ملاقات کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا ن لیگ پنجاب حکومت کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے اور کیا یہ کوشش کامیاب بھی ہو سکتی ہےیا نہیں؟ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان ملاقاتوں کے بعد پنجاب میں سیاسی میدان گرم ہوگا، جس کی حدت کو اسلام آباد اور دوسرے علاقوں میں بھی محسوس کیا جائے گا۔ لیکن اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ابھی پنجاب میں فوری سیاسی تبدیلی نہیں آرہی، لیکن نومبر میں نئے آرمی چیف کے انتخاب کے فورا ًبعد پنجاب حکومت کا خاتمہ ہونے کا قویٰ امکان موجود ہے تا کہ وفاقی حکومت کو کھل کر کام کرنے کا موقع دیا جا سکے۔

پاکستان میں کئی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نواز لیگ پنجاب میں حکومت بنانے کی شدید خواہش رکھتی ہے اور اسے اندازہ ہے کہ پنجاب میں حکومت نہ ہونے کی صورت میں اس کو اگلے انتخابات میں شدید سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگلے روز وزیراعظم نواز شریف کی قاف لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کی پارٹی کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات بھی اسی پیرائے میں دیکھی جارہی ہے۔ نون لیگ پنجاب میں اپنی حکومت چاہتی ہے کیونکہ ان کا یہ اندازہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ان کی حکومت نہیں ہوگی تو اگلے انتخابات میں انہیں بہت بڑا سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب میں دوبارہ سے اپنی حکومت بنائی جائے۔ تاہم نون لیگی حلقوں نے ان افواہوں کو سختی سے رد کیا ہے کہ پرویز الٰہی کی لندن میں نواز شریف کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے اور انھیں اب پی ٹی آئی کی جگہ نواز لیگ کا وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کسی صورت یہ گند نہیں کریں گے۔

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ پرویز الہٰی مقتدر قوتوں کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کو ہٹانے کے لیے ن لیگ کو غیر مرئی قوتوں کی مدد لینی پڑے گی لیکن پارٹی ایسی کسی بھی مدد لینے سے صاف انکاری ہے۔ نون لیگ کے رہنما اور سابق گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کا کہنا ہے کہ نون لیگ کی یہ خواہش ہے کہ پنجاب میں حکومت پارٹی کی ہو۔ انہوں نے بتایا، ”اور اس حوالے سے پارٹی کوششیں بھی کر رہی ہوگی لیکن ہم کوئی ایسا کام نہیں کریں گے، جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ نون لیگ کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے کبھی بھی آئین اور قانون کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ تو اگر پنجاب میں کوئی تبدیلی آتی ہے، تو یقیناً وہ تبدیلی قانون اور آئین کے مطابق ہوگی۔‘‘ اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق نون لیگ پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے کسی ادارے کا سہارا نہیں لے گی اور ایک جمہوری طریقے سے تبدیلی لائے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ نون لیگ میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کی پنجاب کی حکومت ختم کر سکے بلکہ کہ حالات و واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ نون لیگ کی وفاقی حکومت ختم ہونے جا رہی ہے اور ملک نئے انتخابات کی طرف گامزن ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی نے بتایا کہ ”یہ حکومت کچھ ہی دنوں یا ہفتوں کی مہمان ہے۔ انشاء اللہ عمران خان کے مارچ کے اعلان سے پہلے یا اس کے فورا ًبعد یہ حکومت ختم ہو جائے گی اور ملک نئے انتخابات کی طرف بڑھے گا۔‘‘ اقبال خان آفریدی کے مطابق جن لوگوں نے نواز شریف سے ملاقات کی ہے، وہ پنجاب حکومت کو گرا نہیں سکتے۔ ”عون چودھری اور علیم خان کی کیا اوقات کہ وہ پنجاب میں حکومت تبدیل کرسکیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے سب سے طاقتور رہنما جہانگیر ترین تھے لیکن جب انہوں نے پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کی تو ہمارے امیدوار نے ان کے امیدوار کو ان ہی کے علاقے میں ہرایا۔ تو اگر جہانگیر ترین پی ٹی آئی کا کوئی نقصان نہیں کر سکے تو پھر علیم خان اور عون چودھری بھی کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اقتدار سے باہر آنے کے بعد عمران خان کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوئی ہے اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے مشکل ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان خان کو چھوڑیں۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کے بڑے بڑے جلسوں اور ضمنی انتخابات نے اراکین اسمبلی پر یہ واضح کردیا ہے کہ ووٹ عمران خان کا ہے۔ انہوں نے بتایا، ”اب پی ٹی آئی میں جو روایتی سیاست دان ہیں وہ بھی پارٹی چھوڑنے سے پہلے دس مرتبہ سوچیں گے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی سیاسی حیثیت بہت کمزور ہو سکتی ہے۔ لہذا ن لیگ کی کوشش رنگ نہیں لائیں گی اور پنجاب میں حکومت تبدیل نہیں ہو سکے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی نے اپنے قاف لیگ اور تحریک انصاف کے تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو خوش رکھا ہے۔ اس وجہ سے بھی پی ٹی آئی کے اراکین نہیں ٹوٹیں گے۔ پرویز الٰہی عدم مرکزیت کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور وہ پی ٹی آئی کے اراکین کے حلقوں میں مداخلت نہیں کرتے بلکہ ان کی مشاورت سے کام کرتے ہیں۔ تو پھر اراکین پی ٹی آئی کو کیوں چھوڑیں گے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نومبر میں نئے آرمی چیف کے انتخاب کے فورا ًبعد پنجاب حکومت کا خاتمہ ہونے کا قویٰ امکان موجود ہے تا کہ وفاقی حکومت کو کھل کر کام کرنے کا موقع دیا جا سکے۔

Back to top button