آبنائے ہرمز میں امریکی آئل ٹینکر پر ایران کا حملہ،کشیدگی بڑھ گئی

آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جہاں ایران نے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی جہاز کو روکنے کے لیے وارننگ شاٹس فائر کیے، جس کے بعد آئل ٹینکر نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا نے اس سے قبل ایرانی بندرگاہ بندر عباس کے قریب فضائی کارروائی کی تھی، تاہم اس حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دوسری جانب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ایران میں فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں موجود امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنا تھا تاکہ اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد فضائی دفاعی نظام کو چند منٹ کے لیے فعال کر دیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button