آزاد کشمیر کی صورت حال:  اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور

 

 

 

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کرلی گئی۔

قرارداد پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری یاسین نے ایوان میں پیش کی،جسے ایوان نے منظور کرلیا،قرارداد میں آزاد کشمیر میں حالیہ واقعات کے حقائق جاننے کےلیے غیرجانبدار کمیشن قائم کرنے، اسے انکوائری کےلیے مکمل اختیارات اور تمام متعلقہ معلومات تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد میں کہاگیا کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک مظاہرین احتجاج ختم کریں اور حکومت فوری طور پر حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرے۔

ایوان نے پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حالات خراب کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جب کہ پرامن مظاہرین سے اپیل کی گئی کہ وہ مسلح عناصر سے خود کو الگ کریں۔

قرارداد میں کہاگیا ہےکہ عوام کے جان ومال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

قرارداد میں آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس فوری بحال کرنے،شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ہر قسم کے تشدد اور انتشار کو مسترد کرنے کا بھی اعادہ کیاگیا۔

اس کے علاوہ رکن قانون ساز آزاد جموں و کشمیر اسمبلی جاوید اقبال بڈھانوی نے اجلاس کے دوران میرپور ڈویژن میں ہونےوالے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، بےضابطگیوں اور شہید کارکنان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کےلیے قرارداد پیش کی، جسے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے اکثریتی رائے سے منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ مظفرآباد میں 54 دن کےبعد انٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی ہے۔سروس 5 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے بعد معطل کی گئی تھی۔

یہ احتجاجی تحریک خطے میں 2023 سے جاری ہےجس کے 38 میں سے بیشتر مطالبات بشمول آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی، حکومت نے 2024 میں منظور کردیے تھے۔بقیہ مطالبات کےلیے اکتوبر 2025 میں حکومت اور کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس پر عملدرآمد نہ ہونے کا الزام لگاکر کمیٹی نے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے 30 پولنگ سٹیشنز کے نتائج مسترد کر دیے، ری پولنگ کا مطالبہ

پانچ جون کو ہی کمیٹی کے ایک اور ممبر پر مبینہ حملہ ہوا جس کےبعد علاقے میں امن و امان کی صورت حال پیدا ہوئی۔ اسی روز حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قراردیتے ہوئے خطے میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی تھی۔

سروس کی بحالی کا عمل میرپور ڈویژن سے شروع ہوا جہاں 27 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے سے چار روز قبل 23 جولائی کو پوری ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی۔

 

Back to top button